🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کھجور کی موجودگی میں کھجور کی برکت کے حصول کے لئے اس سے روزہ افطار کرنے کا حُکم استحبابی اور اختیاری ہے، کیونکہ کھجور باعث برکت ہے اور کھجور کی عدم موجودگی میں پانی سے روزہ کھولنے کا حُکم بھی اختیاری اور مستحب ہے کیونکہ پانی پاکیزہ ہے۔ یہ حکم واجب اور فرض نہیں ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2067
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ كِلاهُمَا , عَنْ عَاصِمٍ , وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , عَنِ الرَّبَابِ , عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ , وَهِيَ عَلَى الْقَرِيبِ صَدَقَتَانِ: صَدَقَةٌ , وَصِلَةٌ" وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ , فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَمَاءٌ , فَإِنَّهُ طُهُورٌ" وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْبَحُوا عَنِ الْغُلامِ عَقِيقَتَهُ , وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى , وَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا" . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَقَالَ الآخَرَانِ: وَقَالَ الآخَرَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ , فَإِنَّهُ طُهُورٌ" . وَلَمْ يَذْكُرَا قِصَّةَ الصَّدَقَةِ وَلا الْعَقِيقَةِ
سیدنا سلیمان بن عامر الضبیی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے۔ ”مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں، ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص روزہ کھولے تو اُسے کھجور سے روزہ کھولنا چاہیے کیونکہ وہ باعث برکت ہے، اور اگر جسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطاری کرے کیونکہ وہ بہت پاکیزہ ہے۔ ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچّے کی طرف سے ایک بکرے کو عقیقے میں ذبح کرو۔ اور اس سے گندگی صاف کرو اور اُس کی طرف سے (بکرے کا) خون بہاؤ۔ (اسے ذبح کرو)۔“ یہ حدیث جناب عبدالجبار کی ہے۔ جبکہ دیگر دو اساتذہ کی روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے کھجور کے ساتھ روزہ افطار کرنا چاہیے۔ اگر اُسے کھجور نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطار کرلے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے۔“ دونوں اساتذہ کرام نے صدقہ کرنے اور عقیقہ کرنے کا قصّہ ذکر نہیں کیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2067]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2066، 2067، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3514، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1579، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2355، والترمذي فى (جامعه) برقم: 658، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1699، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8225، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16476»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
روزے میں وصال کرنے کی ممانعت کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ وَاصِلُ؟! قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ , إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصال کرنے (رات اور دن کا مسلسل روزہ رکھنے) سے بچو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ بھی وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرارب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2068]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1965، 1966، 6851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1103، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1060، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2068، 2071، 2072، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3575، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4240، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8462، 8463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تُوَاصِلُ. قَالَ:" إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صوم وصال سے اجتناب کرو۔“ صحابہ کرام نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ بھی وصال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1961، 7241، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1104، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2069، 2070، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3574، والترمذي فى (جامعه) برقم: 778، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12432»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
روزوں میں وصال کرنے کو دین میں تشدد اور غلو قرار دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ , فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَبَلَغَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ:" لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالا , يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ التَّعَمُّقَ , لَسْتُمْ مِثْلِي , إِنِّي أَظَلُّ , فَيُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے روزوں میں وصال کیا تو کچھ مسلمانوں نے بھی وصال کرنا شروع کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہمارے لئے اس مہینے کو بڑھایا جاتا تو میں ایسا شدید وصال کرتا کہ دین میں سختی اور غلو کرنے والے غلو سے باز آجاتے۔ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں (روزے میں وصال) کرتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1961، 7241، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1104، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2069، 2070، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3574، والترمذي فى (جامعه) برقم: 778، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12432»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وصال کرنا منع ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ , عَنِ ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ". قَالَهَا ثَلاثًا. قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي , إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي , فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وصال سے بچو“ آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی، صحابہ کرام نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس معاملے میں میرے جیسے نہیں ہو۔ بیشک میں رات اس حال میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ پس اس قدر (اعمال کا) بوجھ اُٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1965، 1966، 6851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1103، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1060، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2068، 2071، 2072، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3575، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4240، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8462، 8463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سحری تک روزے میں وصال کرنے کی ممانعت کا بیان۔ کیوں کہ افطاری کرنے میں جلدی کرنا تاخیر کرنے سے افضل ہے، اگرچہ سحری تک وصال کرنے کی نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2072
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ , عَنِ الأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ , فَفَعَلَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ , فَنَهَاهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ. قَالَ:" لَسْتُمْ مِثْلِي , إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحری تک وصال کیا کرتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے بھی وصال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ پس اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ بھی یہ عمل کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری مثل نہیں ہو، میں اپنے رب کے پاس اس طرح ہوتا ہوں کہ وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2072]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1965، 1966، 6851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1103، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1060، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2068، 2071، 2072، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3575، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4240، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8462، 8463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں