صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سحری تک روزے میں وصال کرنے کی ممانعت کا بیان۔ کیوں کہ افطاری کرنے میں جلدی کرنا تاخیر کرنے سے افضل ہے، اگرچہ سحری تک وصال کرنے کی نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی
حدیث نمبر: 2072
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ , عَنِ الأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ , فَفَعَلَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ , فَنَهَاهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ. قَالَ:" لَسْتُمْ مِثْلِي , إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحری تک وصال کیا کرتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے بھی وصال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ پس اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ بھی یہ عمل کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری مثل نہیں ہو، میں اپنے رب کے پاس اس طرح ہوتا ہوں کہ وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2072]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1965، 1966، 6851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1103، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1060، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2068، 2071، 2072، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3575، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4240، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8462، 8463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7283»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2072 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2072
فوائد:
➊ وصال کا معنی سحری اور افطاری کے بغیر دو یا دو سے زیادہ دن مسلسل روزے رکھنا ہے۔ [شرح النووي: 211/7]
➋ احادیث الباب سے استدلال کیا جاتا ہے کہ روزوں میں وصال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ اور دیگر امت کے لیے ممنوع ہے۔ البتہ وہ سحری سے سحری تک وصال کر سکتے ہیں۔ [فتح الباري: 221/6]
➌ اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ (امتیوں کے لیے) روزوں میں وصال مکروہ فعل ہے۔ [المغني: 190/6]
➍ «إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي» کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ میں کھانے پینے والی جنتی قوت پیدا کر دیتے ہیں۔ [شرح النووي: 212/7]
➊ وصال کا معنی سحری اور افطاری کے بغیر دو یا دو سے زیادہ دن مسلسل روزے رکھنا ہے۔ [شرح النووي: 211/7]
➋ احادیث الباب سے استدلال کیا جاتا ہے کہ روزوں میں وصال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ اور دیگر امت کے لیے ممنوع ہے۔ البتہ وہ سحری سے سحری تک وصال کر سکتے ہیں۔ [فتح الباري: 221/6]
➌ اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ (امتیوں کے لیے) روزوں میں وصال مکروہ فعل ہے۔ [المغني: 190/6]
➍ «إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي» کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ میں کھانے پینے والی جنتی قوت پیدا کر دیتے ہیں۔ [شرح النووي: 212/7]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2072]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2072 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي