🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب شفاعة النبي صلی اللہ علیہ وسلم لأبي طالب والتخفيف عنه بسببه
باب: ابوطالب کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کرنا اور شفاعت کی وجہ سے ان سے عذاب جہنم میں تخفیف ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
125 صحيح حديثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي الله عنه قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ: هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلاَ أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ اپنے چچا (ابوطالب) کے کیا کام آئے کہ وہ آپ کی حمایت کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے غصہ ہوتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسی وجہ سے) وہ صرف ٹخنوں تک جہنم میں ہیں، اگر میں ان کی سفارش نہ کرتا تو وہ دوزخ کی تہ میں بالکل نیچے ہوتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 40 باب قصة أبي طالب»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الفضل ہے۔ جاہلیت واسلام میں قریش کے اکابرین میں سے تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا جان تھے۔ حجاج کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا ان کا مشغلہ تھا۔ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوگئے تھے لیکن اپنا اسلام چھپائے رکھا اور مکہ میں ٹھہرے رہے۔ غزوہ حنین میں حاضر ہوئے تھے۔ آخر عمر میں نابینے ہوگئے تھے، ان کی بزرگی کی وجہ سے سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ ۳۵ احادیث کے راوی ہیں۔ ۳۲ ہجری کو ۸۸ سال کی عمر میں مدینہ وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
126 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ، فَقالَ: لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغهُ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ کی مجلس میں آپ کے چچا کا ذکر ہو رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”شاید قیامت کے دن انہیں میری شفاعت کام آ جائے اور انہیں صرف ٹخنوں تک جہنم میں رکھا جائے جس سے ان کا دماغ کھولے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 40 باب قصة أبي طالب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. باب أهون أهل النار عذابًا
باب: جہنم والوں میں سب سے ہلکے عذاب والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
127 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تَوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَميْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہو گا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگ کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا“ (صحیح مسلم میں آگ کی دو جوتیاں پہنانے کا ذکر ہے اس سے ابو طالب مراد ہیں)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 51 باب صفة الجنة والنار»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ بقول امام بخاری ہجرت والے سال پیدا ہوئے۔ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کوفہ پھر حمص کے گورنر اور عامل رہے۔ جب یزید بن معاویہ فوت ہوا تو یہ شام میں تھے۔ ۱۱۴ احادیث کے راوی ہیں۔ حمص کی بستی بیرین میں مرج راہط کے معرکہ کے بعد خالد بن خیلی کے ہاتھوں ۶۴ہجری کو شہید ہوئے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. باب موالاة المؤمنين ومقاطعة غيرهم والبراءة منهم
باب: مومن سے دوستی رکھنے اور غیر مومن سے دوستی قطع کرنے اور ان سے جدا رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
128 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ: إِنَّ آلَ أَبِي فُلاَنٍ لَيْسُوا بِأَوْلِيَائِي، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبَلُّهًا بِبَلاَلِهَا يَعْنِي أَصِلُهَا بِصِلَتِهَا
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے علی الاعلان سنا کہ ”فلاں کی اولاد میرے عزیز نہیں ہیں۔ (گو ان سے نسبی رشتہ ہے) میرا ولی تو اللہ ہے اور میرے عزیز تو وہ ہیں جو مسلمانوں میں نیک اور پرہیزگار ہیں (گو ان سے نسبی رشتہ بھی نہ ہو) البتہ ان سے میرا رشتہ ناطہ ہے اگر وہ تر رکھیں گے تو میں بھی رکھوں گا یعنی وہ ناطہ جوڑیں گے تو میں بھی جوڑوں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 14 باب يبل الرحم ببلاها»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عمرو بن العاص بن وائل سہمی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ ذہانت میں ضرب المثل تھے۔ آٹھ ہجری کے آغاز میں ہجرت کی۔ آپ کے مسلمان ہونے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی خوشی ہوئی اور انہیں کئی لشکروں کا امیر بھی مقرر کیا۔ اور عمان میں بطور عامل اور حاکم کے کام کیا۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مصر کو فتح کیا اور وہاں کے والی رہے۔ مکررات کے ساتھ چالیس احادیث کے راوی ہیں۔ ۴۳ہجری میں ۹۰ سال کی عمر میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. باب الدليل على دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب
باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
129 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: سَبَقَكَ عُكَّاشَةُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی جس کی تعداد ستر ہزار ہو گی، ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جیسے چودھویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اپنی دھاری دار کملی جو ان کے جسم پر تھی اٹھاتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! انہیں بھی ان میں سے کر دے۔“ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 50 باب يدخل الجنة سبعون ألفًا بغير حساب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
130 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا، أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ (لاَ يَدْرِي الرَّاوِي أَيَّهُمَا قَالَ) مُتَمَاسِكونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بعضًا، لاَ يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّى يَدْخُلَ آخِرُهُمْ، وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے“ راوی کو شک ہوا کہ سہل سے کون سی تعداد بیان ہوئی تھی (وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ) ”وہ ایک دوسرے کو تھامے ہوئے ہوں گے، ان میں کا اگلا ابھی اندر داخل نہ ہونے پائے گا کہ جب تک آخری بھی داخل نہ ہو جائے، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 51 باب صفة الجنة والنار»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
131 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلاَنِ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ هذَا مُوسى وَقَوْمُهُ؛ ثُمَّ قِيلَ لي انْظُرْ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ، فَقِيلَ لِي انْظُرْ هكَذَا وَهكَذَا، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ، فَقِيلَ هؤُلاَءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هؤُلاَءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بَغَيْرِ حِسَابٍ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ؛ فَتَذَاكَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَمَّا نَحْنُ فَوُلِدْنا فِي الشِّرْكِ، وَلكِنَّا آمَنَّا بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَلكِنَّ هؤُلاَءِ هُمْ أَبْنَاؤُنَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُمُ الَّذِينَ لاَ يَتَطَيَّرُونَ وَلاَ يَسْتَرْقُونَ وَلاَ يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: نَعَمْ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: أَمِنْهُمْ أَنَا فَقَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”(خواب میں) مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں، بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ (ان کی اتباع کرنے والا) صرف ایک ہوتا، بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے، بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا، پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا، میں سمجھا کہ یہ میری امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں، پھر مجھ سے کہا کہ دیکھو ادھر دیکھو، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں، کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کیے جائیں گے۔“ پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی میں مسلمان ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بد فالی نہیں کرتے، نہ منتر سے جھاڑ پھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا: ”ہاں۔“ ایک دوسرے صاحب (سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے کھڑے ہو کر عرض کیا: میں بھی ان میں سے ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے بازی لے گئے (کہ تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا وہ ہو چکا)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 42 باب من لم يَرْقِ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
132 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قبَّةٍ، فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُها إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلاَّ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟“ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم لوگ (امت مسلمہ) اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان (تعداد میں) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ رنگ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. باب قوله يقول الله لآدم: أخرج بعث النار من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين
باب: اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے ارشاد فرمائے گا ہر ھزار آدمیوں میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے نکال لو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
133 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللهُ: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ قَالَ: يَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ، قَالَ: وَمَا بَعثُ النَّارِ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ، تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَذَاكَ حَينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَ: أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوج وَمَأجُوجَ أَلْفًا وَمِنْكُمْ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي في يَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي فِي يَدِهِ إِنِّي لأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْل الجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ، أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ» ”حاضر ہوں، فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے“، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: «أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ» ”جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو“، آدم علیہ السلام پوچھیں گے: جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہی وہ وقت ہو گا جب ﴿يَوْمَ تَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا﴾ [سورة المزمل: 17] ”بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے“ اور ﴿وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 2] ”حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا“۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم میں سے وہ (خوش نصیب) شخص کون ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار یاجوج و ماجوج کی قوم سے ہوں گے اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا،“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے،“ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے، تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی (معمولی تعداد) ہوتی ہے، یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: باب قوله عز وجل إن زلزلة الساعة شيء عظيم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں