اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب الدليل على أن من قصد أخذ مال غيره بغير حق كان القاصد مهدر الدم في حقه، وإن قتل كان في النار، وأن من قتل دون ماله فهو شهيد
باب: جو شخص پرایا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کا خون مباح ہے اور اگر مارا جائے تو جہنم میں جائے گا اور مال والا اگر اپنا مال بچانے میں مارا جائے تو وہ شہید ہے
حدیث نمبر: 85
85 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مالِهِ فَهُوَ شَهيدٌ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 33 باب من قاتل دون ماله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
47. باب استحقاق الوالي الغاش لرعيته النار
باب: جو حاکم رعایا کے حقوق میں خیانت کرے اس کے لیے جہنم ہے
حدیث نمبر: 86
86 صحيح حديث مَعْقِلِ بْنِ يَسارٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيادٍ عادَهُ في مَرَضِهِ الَّذي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَديثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ما مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعاهُ اللهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْها بِنَصيحَةٍ إِلاّ لَمْ يَجِدْ رائِحَةَ الْجَنَّةِ
عبیداللہ بن زیاد سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے اس مرض میں آئے جس میں ان کا انتقال ہوا تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 8 باب من استرعى رعية فلم ينصح»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا معقل بن یسار المزنی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو علی تھی۔ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ بصرہ میں قیام پذیر رہے۔ بصرہ کی نہر معقل ان کی طرف منسوب ہے۔ سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے آخر تک رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کی ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
48. باب رفع الأمانة والإيمان من بعض القلوب وعرض الفتن على القلوب
باب: بعض دلوں سے امانت اور ایمان اٹھ جانے کا بیان اور فتنوں کا دلوں میں آنا
حدیث نمبر: 87
87 صحيح حديث حُذَيْفَةَ قَالَ: حَدَّثَنا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَديثَيْنِ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنا أَنْتَظِرُ الآخَرَ حَدَّثَنا أَنَّ الأَمانَةَ نَزَلَتْ في جَذْرِ قُلوبِ الرِّجالِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ وَحَدَّثَنا عَنْ رَفْعِها قَالَ: يَنامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الأَمانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُها مثل أَثَر الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ، فَيَبْقى أَثَرُها مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرِ دَحْرَجْتَهُ عَلى رِجْلِكَ، فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبايَعُونَ فَلاَ يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، فَيُقَالُ إِنَّ فِي بَنِي فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِينًا؛ وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ؛ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا رَدَّهُ عَلَيَّ الإِسْلاَمُ، وَإِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا رَدَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ، فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلاَّ فُلاَنًا وَفُلاَنًا
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں ارشاد فرمائیں، ایک کا ظہور تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اتری، پھر قرآن شریف سے، پھر حدیث شریف سے اس کی مضبوطی ہوتی جاتی ہے۔“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے اٹھ جانے کے متعلق ارشاد فرمایا: ”آدمی ایک نیند سوئے گا اور (اسی میں) امانت اس کے دل سے ختم ہو جائے گی اور اس بے ایمانی کا ہلکا نشان پڑ جائے گا، پھر ایک اور نیند لے گا تو اب اس کا نشان چھالے کی طرح ہو جائے گا، جیسے تو پاؤں پر ایک چنگاری لڑھکائے تو ظاہر میں ایک چھالا پھول آتا ہے، اس کو پھولا دیکھتا ہے پر اندر کچھ نہیں ہوتا، پھر حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خرید و فروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت دار نہیں ہوگا، کہا جائے گا کہ بنی فلاں میں ایک امانت دار شخص ہے، کسی شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقل مند ہے، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے! حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان (امانت) نہیں ہوگا۔“ (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے ایک ایسا وقت بھی گزارا ہے کہ میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ کس سے خرید و فروخت کرتا ہوں، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کو اسلام (بے ایمانی سے) روکتا تھا، اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کا مددگار اسے روکتا تھا، لیکن اب میں فلاں اور فلاں کے سوا کسی سے خرید و فروخت ہی نہیں کرتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 35 باب رفع الأمانة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
49. باب بيان أن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا وأنه يأرز بين المسجدين
باب: اسلام غربت کے ساتھ شروع ہوا اور پھر غریب ہو جائے گا اور سمٹ کر دو مسجدوں تک رہ جائے گا
حدیث نمبر: 88
88 صحيح حديث حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رضي الله عنه فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ: أَنَا كَمَا قَالَهُ، قَالَ: إِنَّكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهَا لَجَرِيءٌ؛ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْيُ، قَالَ: لَيْسَ هذَا أُرِيدُ وَلكِنْ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ: يُكْسَرُ، قَالَ: إِذًا لاَ يُغْلَقُ أَبَدًا قُلْنَا: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ؛ فَقَالَ: الْبَاب عُمَرُ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا: میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کو معلوم کرنے میں بہت بے باک تھے، میں نے کہا کہ: ”انسان کے گھر والے، مال، اولاد اور پڑوسی سب فتنہ (کی چیز) ہیں اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے۔ اس پر میں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے، آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا؟ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ پھر تو وہ کبھی بھی بند نہیں ہو سکے گا۔ (شقیق راویِ حدیث نے کہا کہ) ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں، بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا، میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔ (راوی کا کہنا ہے) ہمیں اس کے متعلق سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا (کہ دروازہ سے کیا مراد ہے) اس لیے ہم نے مسروق رحمہ اللہ سے کہا (کہ وہ پوچھیں)، انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ وہ دروازہ خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 4 باب الصلاة كفارة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 89
89 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 6 باب الإيمان يأرز إلى المدينة»
وضاحت: یعنی جس طرح سانپ اپنے سوراخ اور بل سے نکلتا ہے اور گزران زندگی طلب کرتا ہے پھر جب اسے کوئی دیکھ لیتا ہے تو اپنے بل کی طرف لوٹ جاتا ہے اور سکڑ جاتا ہے ایسے ہی ایمان مدینہ میں منتشر ہوا اور پھیلا۔ تو ہر مومن کو اس کا نفس مدینے والوں سے محبت کی وجہ سے اس طرف کھینچتا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مدینہ سے محبت تھی۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
50. باب جواز الاستسرار للخائف
باب: اپنی عزت یا جان سے ڈرنے والا اپنے ایمان کو چھپا سکتا ہے
حدیث نمبر: 90
90 صحيح حديث حُذَيْفَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالإِسْلاَمِ مِنَ النَّاسِ فَكَتَبْنَا لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ رَجُلٍ فَقُلْنَا نَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَحْدَهُ وَهُوَ خَائِفٌ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کیے اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے، اب ہم کو کیا ڈر ہے؟ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد 181 باب كتابة الإمام للناس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
51. باب تألف قلب من يخاف على إيمانه لضعفه والنهي عن القطع بالإيمان من غير دليل قاطع
باب: جو شخص ضعیف الایمان ہو اس کی دلجوئی کرنا اور جب تک ایمان کا یقین نہ ہو کسی شخص کو مومن نہ کہنا
حدیث نمبر: 91
91 صحيح حديث سَعْدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ: أَوْ مُسْلِمًا فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤمِنًا فَقَالَ: أَوْ مُسْلِمًا فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي، وَعَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا سَعْدُ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللهُ فِي النَّارِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے، (وہ کہتے ہیں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن یا مسلمان؟“ میں تھوڑی دیر خاموش رہا، پھر اس کے متعلق میرے خیالات نے مجھے دوبارہ بولنے پر مجبور کیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ اللہ کی قسم وہ میرے مشاہدے کے مطابق مومن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن یا مسلمان؟“ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر ایک بار پھر اپنی معلومات کی وجہ سے پہلی بات کو دہرانے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا جواب دہرایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سعد! باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے (پھر بھی میں اسے نظر انداز کر کے) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ (وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے) اور اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 19 باب إذا لم يكن الإسلام على الحقيقة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو اسحاق ہے، بڑے بہادر صحابی تھے۔ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ امت محمدیہ میں پہلے انسان ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر پھینکا تھا۔ بدر میں شریک ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ یہی وہ جلیل القدر صحابی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”سعد تیر پھینکتے رہو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“ اور فرمایا کہ یا اللہ سعد جب بھی دعا کرے قبول فرمانا۔ ۲۷۰ احادیث کے راوی ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں ۵۵ ہجری کو ستر سال کی عمر میں عتیق کے مقام پر وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
52. باب زيادة طمأنينة بتظاهر الأَدلة
باب: جب دلیلیں خوب پہنچ جائیں تو دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے
حدیث نمبر: 92
92 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: (رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤمِنْ قَالَ بَلَى وَلكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي) وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ؛ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طولَ مَا لَبِثَ يُوسُفَ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [سورة البقرة: 260] ”میرے رب مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں لائے؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں لیکن یہ صرف اس لیے تاکہ میرے دل کو زیادہ اطمینان ہو جائے“ اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے کہ وہ زبردست رکن (یعنی خداوند کریم) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں بلانے والے کی بات ضرور مان لیتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 11 باب قوله عز وجل (ونبئهم عن ضيف إبراهيم»
وضاحت: یعنی ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں شک محال ہے اور اس کی گنجائش نہیں۔ اور اگر انبیاء رضی اللہ عنہ کی طرف شک کی نسبت جائز ہوتی تو میں(صلی اللہ علیہ وسلم ) ابراہیم کی نسبت شک کرنے کا زیادہ حق رکھتا۔ اور تم جانتے ہو کہ ابراہیم علیہ السلام نے شک نہیں کیا پھر جب میں نے کوئی شک نہیں کیا اور اللہ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قدرت میں کوئی شک وشبہ نہیں کیا تو ابراہیم علیہ السلام اس کے (شک نہ کرنے کے) زیادہ لائق اور حق دار ہیں… رکن شدید کی طرف آنے سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی طرف آنا ہے… یعنی میں اگر حضرت یوسف علیہ السلام کی جگہ ہوتا تو قید سے نکلنے کو قبول کرنے میں جلدی کرتا اور برات کی طلب کرنے کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔ امام محی السنہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوسف علیہ السلام کی متانت، سنجیدگی، معاملات میں سوچ بچار اور صبر کی خوبی بیان فرما رہے ہیں کہ جب ان کے پاس بادشاہ کا قاصد آیا تو باوجود لمبی قید کاٹنے کے معاف کردہ اور درگزر شدہ گناہ کے فعل سے جلدی نہیں کی کہ باہر آجاتے بلکہ قاصد سے فرمایا کہ اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ ان پر حجت اور دلیل قائم ہو جائے کہ ان کی طرف سے آپ کو قید میں روکے رکھنا صریح ظلم تھا۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
53. باب وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد صلی اللہ علیہ وسلم إِلى جميع الناس ونسخ الملل بملته
باب: ہمارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا یقین کرنا اور تمام شریعتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے منسوخ سمجھنا واجب ہے
حدیث نمبر: 93
93 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلاَّ أُعْطِيَ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو ایسے ایسے معجزات عطا کیے گئے کہ (انہیں دیکھ کر) ان پر ایمان لائیں (بعد کے زمانے میں) ان کا کوئی اثر نہیں رہا اور مجھے جو معجزہ دیا گیا وہ وحی (قرآن) ہے جو اللہ نے مجھ پر نازل کی ہے (اس کا اثر قیامت تک رہے گا)، اس لیے مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے تابعدار لوگ دیگر پیغمبروں کے تابعداروں سے زیادہ ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 1 باب كيف نزول الوحي وأول ما نزل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 94
94 صحيح حديث أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ہیں جن کے لیے دو گنا اجر ہے۔ ایک وہ جو اہل کتاب سے ہو اور اپنے نبی پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، اور (دوسرے) وہ غلام جو اپنے آقا اور اللہ (دونوں) کا حق ادا کرے اور (تیسرے) وہ آدمی جس کے پاس کوئی لونڈی ہو، وہ اسے تربیت دے تو اچھی تربیت دے، تعلیم دے تو عمدہ تعلیم دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے، تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 31 باب تعليم الرجل أَمَته وأهله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»