🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إِله إِلا الله محمد رسول الله
جو لوگ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہیں کہتے ان سے جنگ کرنے کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15
15 صحيح حديث ابْنُ عُمَر أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقاتِلَ النَّاسَ حَتّى يَشْهَدوا أَنْ لا إِلهَ إِلاّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللهِ، وَيُقيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكاةَ، فَإِذا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوالَهُمْ إِلاّ بِحَقِّ الإسْلامِ، وَحِسابُهُمْ عَلى اللهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں۔ جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے سوائے اسلام کے حق کے (رہا ان کے دل کا حال تو) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 17 باب فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فخلوا سبيلهم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب أول الإيمان قول لا إله إلا الله
باب: ایمان کا بنیادی اور پہلا جزو لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16
16 صحيح حديث المُسَيَّبِ بْنِ حَزْنٍ قَالَ: لَمّا حَضَرَتْ أَبا طَالِبٍ الْوَفاةُ جاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبا جَهْلِ بْنَ هِشامٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبي أُمَيَّةَ بْنِ المُغِيرَة، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبي طالِبٍ يا عَمِّ قُلْ لا إِلهَ إِلاّ اللهَ كَلِمَةَ أَشْهَدُ لَكَ بِها عِنْدَ اللهِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنِ أَبي أُمَيَّةَ يا أَبا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِب فَلَمْ يَزَل رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُها عَلَيْهِ، وَيَعُودَانِ بِتِلْكَ المَقالَةِ حَتّى قَالَ أَبو طَالِبٍ، آخِرَ ما كَلَّمَهُمْ، هُوَ عَلى مِلَّة عَبْدِ المُطَّلِبِ، وَأَبى أَنْ يَقُولَ لا إِلهَ إِلاّ الله، فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمّا وَاللهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ ما لَمْ أُنْهَ عَنْكَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعالى فِيهِ (مَا كانَ لِلنَّبِي) الآية
سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے فرمایا: ”چچا! آپ ایک کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہہ دیجیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔“ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے، ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے، آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں، انہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے سے انکار کر دیا۔ پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے منع نہ کر دیا جائے۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نبی کو اور ایمان داروں کو یہ لائق ہی نہیں کہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں اس کے بعد کہ ان پر یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں﴾ [سورة التوبة: 113] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 81 باب إذا قال المشرك عند الموت لا إله إلاّ الله»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا مسیب بن حزن کی کنیت ابو سعید تھی۔ آپ نے اپنے والد حزن کے ہمراہ ہجرت کی۔ مسیب بیعت رضوان میں شریک ہوئے۔ صحیحین میں ان کی ایک حدیث ہے جو طارق بن عبدالرحمن کے واسطے سے بیان ہوئی ہے۔ شام کی فتوحات میں شریک رہے۔ مشہور تابعی سعید بن مسیب کے باپ ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب من لقي الله بالإيمان وهو غير شاك فيه دخل الجنة وحرم على النار
باب: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ایمان کی حالت میں ملاقات کرے گا جس میں اسے کوئی شک وشبہ نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور آگ اس پر حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17
17 صحيح حديث عُبادَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقاها إِلى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَل وزاد أحد رجال السند مِنْ أَبوَابِ الْجَنَّةِ الثمانِيَةِ أَيُها شَاءَ
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس نے جو بھی عمل کیا ہو گا (آخر) اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ سند کے ایک راوی نے مزید یہ لفظ بیان کیے ہیں کہ ”جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل کیا جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 47 باب قوله: (يا أهل الكتاب لا تغلوا في دينكم ولا تقولوا على الله إلا الحق»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الولید تھی۔ لیلۃ العقبہ میں نقیب مقرر تھے۔ بدری صحابی ہیں۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام میں قاضی اور معلم کے فرائض نجام دئیے۔ بعد میں بیت المقدس میں مقیم رہے۔ آپ کی روایات ۱۸۱ ہیں جن میں سے چھ متفق علیہ ہیں۔ آپ نے ۷۲ سال کی عمر میں ۳۴ہجری کو رملہ مقام پر وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
18 صحيح حديث مُعاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: بَيْنا أَنا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْني وَبَيْنَهُ إِلاّ أَخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقالَ: يا مُعاذ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ ثُمَّ سَارَ ساعَةً ثُمَّ قَالَ: يا مُعاذ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ ثُمَّ سارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: يا مُعاذ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: هَلْ تَدْري ما حَقُّ اللهِ عَلى عِبادِهِ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: حَقُّ اللهِ عَلى عِبادِهِ أَنْ يَعْبُدوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: يا مُعاذُ بْنُ جَبَلٍ قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْري ما حَقُّ الْعِبادِ عَلى اللهِ إِذَا فَعَلُوهُ قُلْتُ اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: حَقُّ الْعِبادِ عَلى اللهِ أَنْ لا يُعَذِّبَهُمْ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کجاوے کی پچھلی لکڑی کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں تھی، اسی حالت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ!“ (میں بولا) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں، آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے تیار ہوں، پھر آپ تھوڑی دیر تک چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: ”اے معاذ!“ میں بولا: یا رسول اللہ حاضر ہوں، آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں، پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: ”اے معاذ!“ میں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق یہ ہے کہ بندے خاص اس کی ہی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں“، پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: ”معاذ!“ میں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے جب کہ وہ یہ کام کر لیں؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا: ”پھر بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 101 باب إرداف الرجُل خلف الرجُل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19
19 صحيح حديث مُعاذ رضي الله عنه قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلى حِمارٍ يُقالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ: يَا مُعاذُ هَلْ تَدْري حَقَّ اللهِ عَلى عِبادِهِ وَما حَقُّ الْعِبادِ عَلى اللهِ قُلْتُ اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللهِ عَلى الْعِبادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ الْعِبادِ عَلى اللهِ أَنْ لا يُعَذِّبَ مَنْ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ يا رَسُولَ اللهِ: أَفَلا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ: لا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے میں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، اس گدھے کا نام «عُفَيْرٌ» تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت دے دوں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔“ (اور نیک اعمال سے غافل ہو جائیں گے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 46 باب اسم الفرس والحمار»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
20 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعاذٌ رَديفُهُ عَلى الرَّحْلِ، قَالَ: يا مُعاذُ بْنَ جَبَلٍ قَالَ: لَبَّيْكَ يا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: يا مُعاذُ قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ ثَلاثًا، قَالَ: ما مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلاَّ حَرَّمَهُ اللهُ عَلى النَّارِ قَالَ: يا رَسولَ اللهِ أَفَلا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِروا قَالَ: إِذًا يَتَّكِلُوا وَأَخْبَرَ بِها مُعاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّما
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سہ بارہ) فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! تین بار ایسا ہوا۔ (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو (دوزخ) کی آگ پر حرام کر دیتا ہے۔“ (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے) کہا: یا رسول اللہ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر کر دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اگر تم یہ خبر سناؤ گے) تو لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور عمل چھوڑ دیں گے)۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیثِ رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 49 باب من خص بالعلم قومًا دون قوم كراهية أن لا يفهموا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب شعب الإيمان
باب: ایمان کی شاخوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21
21 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الإِيمانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً وَالْحَياءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمانِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 3 باب أمور الإيمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22
22 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ في الْحَياءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ فَإِنَّ الْحَياءَ مِنَ الإِيمانِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ انصاری اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (انصاری) سے فرمایا: ”اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیا بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 16 باب الحياء من الإيمان»
وضاحت: حیا اور شرم انسان کا ایک فطری نیک جذبہ ہے۔ جو اسے بے حیائی سے روک دیتا ہے اور اس کے طفیل وہ بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے بچ جاتا ہے۔ حیا سے مراد وہ بے جا شرم نہیں ہے جس کی وجہ سے انسان کی جرات عمل ہی مفقود ہو جائے اور وہ اپنے ضروری فرائض کی ادائیگی میں بھی شرم وحیا کا بہانہ تلاش کرنے لگے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23
23 صحيح حديث عِمَرانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَياءُ لا يَأتي إِلاّ بِخَيْرٍ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 77 باب الحياء»
وضاحت: راوي حدیث:سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو نجید تھی۔ فتح خیبر والے سال ۷ ہجری کو مسلمان ہوئے۔ بصرہ والوں کی طرف بھیجے گئے تا کہ انہیں فقہ اور علم سکھائیں۔ آپ سے ۱۸۰ احادیث مروی ہیں جن میں سے ۹ متفق علیہ ہیں۔ ۵۲ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب بيان تفاضل الإسلام وأي أموره أفضل
باب: اسلام کے افضل مفضول ہونے کا بیان اور کون سا اسلام افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24
24 صحيح حديث عبْد اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الإِسْلامِ خَيْرٌ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعامَ وَتَقْرَأُ السَّلامَ عَلى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 6 باب إطعام الطعام من الإسلام»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بڑے عابد وزاہد اور ماہر عالم تھے۔ آپ کی کنیت ابو محمد یا ابو عبدالرحمن تھی۔ اپنے والد سے پہلے مسلمان ہوئے۔ ایک قول کے مطابق ان کا نام العاص تھا لیکن اسلام لانے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ سے بدل دیا تھا۔ ابتداء میں جب احادیث لکھنے کی اجازت نہیں تھی تو یہ خاص اجازت نبوی کے تحت حدیث لکھا کرتے تھے۔ ۶۸ہجری میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں