🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب بيان أن الدين النصيحة
باب: دین خیر خواہی، سچائی اور خلوص کو کہتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 35
35 صحيح حديث جَريرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ بايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَلَقَّنَني فِيما اسْتَطَعْتُ، وَالنُّصْحِ لِكلِّ مُسْلِمٍ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی تلقین کی کہ ”جتنی مجھ میں طاقت ہو“ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بھی بیعت کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 43 باب كيف يبايع الإمام الناس»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمرو یا ابو عبداللہ تھی۔ نجاشی کی موت والی حدیث کے راوی ہونے کی وجہ سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ دس ہجری سے پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ بڑے خوبصورت اور جوان تھے اسی لیے تو سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ یہ اس امت کے یوسف ہیں۔ کوفہ میںسکونت اختیار کی تھی بعد میں قرقیسیا میں رہائش اختیار کی اور ۵۱ یا ۵۴ ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب بيان نقصان الإيمان بالمعاصي ونفيه عن المتلبس بالمعصية على إرادة نفي كماله
باب: ایمان نافرمانیوں سے کم ہوتا ہے اور نافرمان سے ایمان کی نفی کرنے سے اس کے کمال کی نفی مراد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 36
36 صحيح حديثُ أَبي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْني وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وزَادَ في رِوايَةٍ وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصارَهُمْ فِيها حِينَ يَنْتَهِبُها وَهُوَ مُؤْمِنٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اسی طرح جب کوئی شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔“ اور ایک روایت میں زیادتی ہے کہ ”کوئی شخص (دن دہاڑے) اگر کسی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 1 باب قول الله تعالى: (إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب بيان خصال المنافق
باب: منافق کی خصلتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 37
37 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعٌ مَنْ كنَّ فِيهِ كَانَ مُنافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفاقِ حَتّى يَدَعَهَا: إِذا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذا عاهَدَ غَدَرَ، وَإِذا خَاصَمَ فَجَرَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ (بھی) نفاق ہی ہے جب تک کہ اسے نہ چھوڑ دے (وہ یہ ہیں): جب اسے امین بنایا جائے تو (امانت میں) خیانت کرے، اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے، اور جب (کسی سے) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے، اور جب (کسی سے) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 24 باب علامة المنافق»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 38
38 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةَ الْمُنافِق ثَلاثٌ: إِذا حَدَّثَ كَذَب، وَإِذا وَعَد أَخْلَفَ، وَإِذا اؤْتُمِنَ خَانَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی علامتیں تین ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 24 باب علامة المنافق»
وضاحت: ان احادیث میں نفاق کی جتنی علامتیں ذکر ہوئی ہیں وہ عمل سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی مسلمان ہونے کے بعد عمل میں نفاق کا مظاہرہ ہو۔ اور اگر نفاق قلب میں ہے یعنی سرے سے ایمان ہی موجود نہیں اور محض زبان سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے تو وہ نفاق یقینا کفر وشرک کے برابر بلکہ بڑھ کر ہے۔ قرآن میں ہے: ”منافقین دوزخ کے نیچے والے درجے میں ہوں گے۔“ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب بيان حال إيمان من قال لأَخيه المسلم يا كافر
باب: مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کا ایمان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 39
39 صحيح حديثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّما رَجُلٍ قالَ َلأخيهِ يا كافِرُ فَقَدْ باءَ بِها أَحَدَهُما
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے بھی اپنے کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 73 باب من كفر أخاه بغير تأويل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب بيان حال إيمان من رغب عن أبيه وهو يعلم
باب: اپنے باپ سے پھر جانے، نفرت کرنے اور دانستہ دوسرے کو باپ بنانے والے کے ایمان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
40 صحيح حديث أَبي ذَرٍّ رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلاَّ كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ نَسَبٌ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 5 باب حدثنا أبو معمر»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ پنی کنیت ابو ذر الغفاری کے ساتھ مشہور معروف ہوئے۔ ابتداء میں ہی اسلام قبول کیا تھا۔ اور اس موقعہ پر بڑی اذیتیں دی گئیں۔ بڑے بہادر اور ماہر تیر انداز تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ زمین کے اوپر اور آسمان کی چھت کے نیچے ابو ذر سے زیادہ سچا اور راست گو کوئی نہیں ہے۔ اونٹ کے بیمار ہونے کی وجہ سے غزوئہ تبوک میں لشکر کے ساتھ نہ جا سکے تو بعد میں اپنا سامان پیٹھ پر اٹھایا اور پیدل شرکت کی۔ ۲۸۱ احادیث کے راوی ہیں۔ ربذہ مقام پر ۳۶ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
41 صحيح حديثُ أَبي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لا تَرْغَبُوا عَنْ آبائِكِمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبيهِ فَهُوَ كُفْرٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے (اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو) یہ کفر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 85 كتاب الفرائض: 29 باب من ادعى إلى غير أبيه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 42
42 صحيح حديثُ سَعْدِ بْنِ أَبي وَقَّاصٍ وَأَبي بَكْرَةَ قَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ ادَّعى إِلى غَيْرِ أَبيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرامٌ فَذُكِرَ َلأبي بَكْرَةَ فَقَالَ: وَأَنا سَمِعَتْهُ أُذُنايَ وَوَعاهُ قَلْبي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔“ پھر اس حدیث کا تذکرہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے دونوں کانوں نے بھی سنا ہے اور میرے دل نے اس کو محفوظ رکھا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 85 كتاب الفرائض: 29 باب من ادعى إلى غير أبيه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب بيان قول النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم سباب المسلم فسوق وقتاله كُفر
باب: مسلمان کو گالی دینا برا کہنا گناہ ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
43 صحيح حديثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعودٍ أَنَّ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوقٌ وَقِتالُهُ كُفْرٌ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: كتاب الإيمان: 36 باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبدالرحمن تھی۔ بدری صحابی ہیں اور فقیہ الامت کے لقب سے مشہور ہیں۔ ہجرت حبشہ اور تمام غزوات میں شریک رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور آپ کے ساتھ رہے۔ اس لیے آپ کے تکیہ، مسواک اور جوتے اٹھانے والے معروف ہیں۔ آپ شکل وصورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے۔ قرآن کے قاری تھے، مسند احمد میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن اس طرح سنے جیسے وہ اترا تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سن لے۔ قرآن مجید کے اسباب نزول کے ماہر تھے۔ ۸۴۰احادیث کے راوی ہیں۔ ۳۲ہجری کو ساٹھ سال کے قریب عمر میں مدینہ میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب لا ترجعوا بعدي كفارًا يضرب بعضكم رقاب بعض
باب: میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ بن جانا (فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
44 صحيح حديثُ جَريرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ في حَجَّةِ الْوَداعِ: اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، فَقالَ: لا تَرْجِعُوا بَعْدي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقابَ بَعْضٍ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حجۃ الوداع میں فرمایا: ”لوگوں کو بالکل خاموش کر دو (تاکہ وہ خوب سن لیں)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! میرے بعد پھر کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 43 باب الإنصات للعلماء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں