🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
187. باب فضل صلاتي الصبح والعصر والمحافظة عليهما
باب: صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی محافظت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 368
368 صحيح حديث جَرِيرٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَر لَيْلَةً، يَعْنِي الْبَدْرَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هذَا الْقَمَرَ، لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ثُمَّ قَرَأَ: (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ)
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے، آپ نے چاند پر ایک نظر ڈالی پھر فرمایا: ”تم اپنے رب کو (آخرت میں) اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہو، اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی زحمت بھی نہیں ہو گی، پس تم ایسا کر سکتے ہو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے والی نماز (فجر) اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز (عصر) سے تمہیں کوئی چیز روک نہ سکے تو ایسا ضرور کرو۔“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا﴾ [سورة طه: 130] ”پس اپنے مالک کی حمد کی تسبیح کر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 16 باب فضل صلاة العصر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 369
369 صحيح حديث أبِي مُوسى، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں (وقت پر) پڑھیں (فجر اور عصر) تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 369]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 26 باب فضل صلاة الفجر»
وضاحت: یعنی نماز فجر اور نماز عصر۔ کیونکہ یہ دونوں دن کے ٹھنڈے اوقات میں ہیں۔ اور اس کے کنارے ہیں۔ یعنی ابتداء وانتہا ہیں۔ ان اوقات میں تازہ اور پاکیزہ ہو چلتی ہے اور گرمی کا اثر ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح اپنے شرف اور فضیلت کے سبب فجر اور عصر ممتاز ہوجاتی ہیں۔ ایسے ہی فرشتوں کی حاضری کا ذکر کر کے ان کی حفاظت پر رغبت دلائی گئی ہے۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
188. باب بيان أن أول وقت المغرب عند غروب الشمس
باب: مغرب کا اول وقت غروب شمس سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 370
370 صحيح حديث سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت پڑھتے تھے جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 370]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 18 باب وقت المغرب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 371
371 صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے (اور تیر اندازی کرتے تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 371]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 18 باب وقت المغرب»
وضاحت: اس کی وضاحت وہ حدیث کرتی ہے جو علی بن بلال کے طریق سے مسند احمد میں حسن سند سے مروی ہے۔ وہ انصار کے لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے پھر واپس آتے تو تیر اندازی کرتے حتیٰ کہ گھر واپس آجاتے۔ جبکہ تیروں کے گرنے کے مقامات ہم سے مخفی نہیں رہتے تھے۔ اس حدیث میں نماز مغرب جلدی پڑھنے اور اسے لمبا نہ کرنے پر دلیل ہے۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
189. باب وقت العشاء وتأخيرها
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 372
372 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى قَالَ عُمَرُ: نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ؛ فَخَرَجَ، فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرَكُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی، یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے، پس آپ تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 372]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب المواقيت 22 فضل العشاء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 373
373 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً، فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ غَيْرُكُمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کسی کام میں مشغول ہو گئے اور بہت دیر کی، ہم (نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے) مسجد ہی میں سو گئے، پھر ہم بیدار ہوئے، پھر ہم سو گئے، پھر ہم بیدار ہوئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”دنیا کا کوئی شخص بھی تمہارے سوا اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 373]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 24 باب النوم قبل العِشاء لمن غُلِب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374
374 صحيح حديث أَنَسٍ قَالَ حُمَيْدٌ: سُئِلَ أَنَسٌ، هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ: أَخَّرَ لَيْلَةً صَلاَةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْههِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا
حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات میں پڑھائی، پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا، جیسے اب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 48 باب فص الخاتم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 375
375 صحيح حديث أَبِي مَوسى قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فيِ السَّفِينَةِ نُزُولاً فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَا وَأَصْحَابِي، وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فيِ بَعْضِ أَمْرِهِ فَأَعْتَمَ بِالصَّلاَةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ، قَالَ لِمَنْ حَضَرهُ: عَلَى رِسْلِكُمْ، أَبْشِرُوا، إِنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَلِّي هذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ، أَوْ قَالَ: مَا صَلَّى هذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ قَالَ أَبُو مُوسى، فَفَرِحْنَا بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جو کشتی میں میرے ساتھ (حبشہ) آئے تھے، بقیعِ بطحان میں قیام کیا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف رکھتے تھے، ہم میں سے کوئی نہ کوئی عشاء کی نماز میں روزانہ باری مقرر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ اتفاق سے میں اور میرے ایک ساتھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے (کسی ملی معاملہ میں آپ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گفتگو کر رہے تھے) جس کی وجہ سے نماز میں دیر ہو گئی اور تقریباً آدھی رات گزر گئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ جب نماز پوری کر چکے تو حاضرین سے فرمایا: ”اپنی جگہ پر وقار کے ساتھ بیٹھے رہو اور ایک خوش خبری سنو کہ تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی آدمی ایسا نہیں جو اس وقت نماز پڑھتا ہو“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”تمہارے سوا اس وقت کسی (امت) نے بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔“ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر بہت ہی خوش ہو کر لوٹے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 22 باب فضل العِشاء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 376
376 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا؛ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلاَةَ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هكَذَا (قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ الرَّاوِي عَنْ عَطَاءٍ، الرَّاوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ) فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ يَدَهُ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عبَّاسٍ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا، يُمِرُّهَا كَذلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ، لاَ يُقَصِّرُ وَلاَ يَبْطشُ إِلاَّ كَذلِكَ، وَقَالَ: لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هكَذَا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی جس کے نتیجے میں لوگ (مسجد ہی میں) سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، آخر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور پکارا: ”نماز!“، اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے، وہ منظر میری نگاہوں کے سامنے ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت کے لیے مشکل نہ ہو جاتی تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز کو اسی وقت پڑھیں۔“ (ابن جریج یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عطاء کے واسطے سے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ) میں نے عطاء سے مزید تحقیق چاہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت کیا تھی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اس سلسلے میں کس طرح خبر دی تھی؟ اس پر سیدنا عطاء نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں تھوڑی سی کھول دیں اور انہیں سر کے ایک کنارے پر رکھا، پھر انہیں ملا کر یوں سر پر پھیرنے لگے کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے سے جو چہرے سے قریب ہے اور ڈاڑھی سے جا لگا، نہ سستی کی اور نہ جلدی بلکہ اسی طرح کیا اور کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت پر مشکل نہ گزرتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة 24 باب النوم قبل العِشاء لمن غُلِب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
190. باب استحباب التبكير بالصبح في أول وقتها وهو التغليس وبيان قدر القراءة فيها
باب: صبح کی نماز کے لیے سویرے جانے اور اس کی قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
377 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءُ الْمُوْمنَاتِ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةَ الْفَجْرِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلاَةَ لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھنے چادروں میں لپٹ کر آتی تھیں، پھر نماز سے فارغ ہو کر جب اپنے گھروں کو واپس ہوتیں تو کوئی انہیں اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں سکتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 27 باب وقت الفجر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں