🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
169. باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام
باب: کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 328
328 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلاَةَ الْمَغْرِبِ، وَلاَ تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا حاضر کیا گیا ہو تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانے میں بے مزہ بھی نہ ہونا چاہیے اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی مت کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 42 باب إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 329
329 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر شام کا کھانا سامنے رکھا جائے اور ادھر نماز کے لیے تکبیر بھی ہونے لگے تو پہلے کھانا کھا لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 42 باب إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 330
330 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَت الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلاَ يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا شام کا کھانا تیار ہو چکا ہو اور تکبیر بھی کہی جا چکی ہو تو پہلے کھانا کھا لو اور نماز کے لیے جلدی نہ کرو، کھانے سے فراغت کر لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 42 باب إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة»
وضاحت: ان احادیث کا مقصد اتنا ہی ہے کہ بھوک کے وقت اگر کھانا تیار ہو، تو پہلے اس سے فارغ ہونا چاہیے تاکہ نماز پورے سکون کے ساتھ ادا کی جائے اور دل کھانے میں نہ لگا رہے۔ اور یہ اس کے لیے ہے جسے پہلے ہی سے بھوک ستا رہی ہو۔ (راز) جسے بھوک نہ لگی ہو، اس کو چاہیے کہ نماز ادا کرنے کے بعد کھانا کھا لے۔ بلاوجہ کی رخصت تلاش نہ کرے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
170. باب نهي من أكل ثومًا أو بصلاً أو كراثًا أو نحوها
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا اسی طرح کی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں آنا ممنوع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
331 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر کہا تھا: ”جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو کھائے ہوئے ہو، اسے ہماری مسجد میں نہ آنا چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 160 باب ما جاء في الثوم النِّيِّ والبصل والكراث»
وضاحت: کچا لہسن یا کچا پیاز کھانا مراد ہے کہ اس کے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔ سگریٹ نوشوں کے لیے بھی لازم ہے کہ منہ صاف کر کے بدبودور کر کے مسواک سے منہ کو رگڑ رگڑ کر مسجد میں آئیں۔ ان بدبودار چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لہسن اور پیاز کو پکا کر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 332
332 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ أَنَسًا، مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثُّومِ فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرَبْنَا أَوْ لاَ يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا
عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لہسن کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس درخت کو کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے“ یا فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 160 باب ما جاء في الثوم النِّيِّ والبصل والكراث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
333 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لاَ تُنَاجِي
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے، تو وہ ہم سے دور رہے“ یا (یہ کہا کہ اسے) ”ہماری مسجد سے دور رہنا چاہیے یا اسے اپنے گھر ہی میں بیٹھنا چاہیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کئی قسم کی ہری ترکاریاں تھیں (پیاز یا گندنا بھی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی اور اس کے متعلق دریافت کیا، اس سالن میں جتنی ترکاریاں ڈالی گئی تھیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی گئیں۔ وہاں ایک صحابی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف یہ سالن بڑھا دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا اور فرمایا: ”تم لوگ کھا لو، میری جن سے سرگوشی رہتی ہے تمہاری نہیں رہتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 160 باب ما جاء في الثوم النِّيِّ والبصل والكراث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
171. باب السهو في الصلاة والسجود له
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 334
334 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ الأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ ْالأَذَانُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى، ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان ہوتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے، پھر جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ پڑتا ہے، لیکن اقامت ختم ہوتے ہی پھر آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کر، اس طرح اسے وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس کے ذہن میں نہیں تھیں، لیکن دوسری طرف نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعات اس نے پڑھی ہیں، اس لیے اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار تو بیٹھے ہی بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 22 كتاب السهو: 6 باب إذا لم يدرِكم صلى ثلاثًا أو أربعًا سجد سجدتين وهو جالس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 335
335 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ بُحَيْنَةَ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نماز کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد کھڑے ہو گئے اور پہلا قعدہ نہیں کیا، اس لیے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے «اَللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور سلام سے پہلے ہی بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 22 كتاب السهو: 1 باب ما جاء في السهو إذا قام من ركعتي الفريضة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 336
336 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، (قَالَ إِبْرَاهِيمُ، أَحَدُ الرُّوَاةِ، لاَ أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ) ؛ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَيْءٌ قَالَ: وَمَا ذَاكَ قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ بِهِ، وَلكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی (ابراہیم راوی نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی)، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر بات کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعات پڑھی ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور (سہو کے) دو سجدے کیے اور سلام پھیرا، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی ضرور کہہ دیتا، لیکن میں تو تمہارے جیسا آدمی ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلایا کرو، اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اس وقت ٹھیک بات سوچے، پھر اسی کے مطابق نماز پوری کرے، پھر سلام پھیر کر دو سجدے (سہو کے) کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 31 باب التوجه نحو القبلة حيث كان»
وضاحت: راوي حدیث: بخاری شریف کی ہی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار کے بجائے پانچ رکعت نماز پڑھ لی تھی۔ اور یہ ظہر کی نماز تھی۔ ٹھیک بات سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً تین یا چار میں شک ہو تو تین کو اختیار کرے۔ دو اور تین میں شک ہو تو دو کو اختیار کرے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 337
337 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدِّمِ الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا؛ وَفِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلاَةُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ كَان النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنَسِيت أَمْ قَصُرَتْ، فَقَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تَقْصُرْ، قَالُوا: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے آگے کے حصے یعنی دالان میں ایک لکڑی پر سہارا لے کر کھڑے ہو گئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے مگر بات کرنے سے ڈرے اور جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے، صحابہ نے آپس میں کہا کہ شاید نماز میں کمی ہو گئی ہے (اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز چار کے بجائے صرف دو ہی رکعت پڑھائی ہیں)، حاضرین میں ایک صحابی تھے جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین (لمبے ہاتھوں والا) کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! نماز کی رکعات کم ہو گئی ہیں یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعات کم ہوئی ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ بھول گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد کر کے فرمایا کہ: ”ذوالیدین نے صحیح کہا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعات اور پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہہ کر سجدہ (سہو) میں گئے، نماز کے سجدے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر پھر سجدے میں گئے، پہلے سجدے کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 45 باب ما يجوز من ذكر الناس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں