اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
477. باب المطلقة ثلاثا لا نفقة لها
باب: مطلقہ ثلاثہ کے نفقہ نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 946
946 صحيح حديث عَائِشَةَ وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا لِفَاطِمَةَ أَلاَ تَتَّقِي اللهَ، يَعْنِي فِي قَوْلِهَا لاَ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس اللہ سے ڈرتی نہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا (کہ مطلقہ بائنہ کو) نفقہ و سکنی دینا ضروری نہیں (جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في:68 كتاب الطلاق: 41 باب قصة فاطمة بنت قيس»
وضاحت: مکمل قصہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں درج کیا ہے۔ ابو بکر بن جھم روایت کرتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بن تقیس سے سنا وہ فرماتی ہیں، میری طرف میرے خاوند ابو عمرو بن حفص نے طلاق نامہ بھیجااور اس کے ساتھ پانچ صاع کھجوریں اور پانچ صاع جو بھی بھیجے۔ میں نے کہا کیا میرے لیے یہی نفقہ ہے اور میں تمھارے گھر میں عدت بھی نہیں گزار سکتی؟اس نے کہا نہیں۔فرماتی ہیں میں نے اپنے کپڑے لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کتنی طلاقیں ہوئی؟میں نے کہا تیسری طلاق ہے۔ فرمایا پھر اس نے سچ کہا ہے، تیرے لیے کوئی نفقہ اور خرچ نہیں اور تو اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے پاس جا کر عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہے اور جب تم کپڑے وغیرہ اتارو گی تو تمہیں تکلیف نہیں ہو گی۔ اور جب عدت ختم ہو تو مجھے خبر کرنا۔ فرماتی ہیں مجھے کئی لوگوں نے منگنی کے پیغام بھیجے جن میں معاویہ اور ابو جھم بھی شامل تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاویہ کنگال آدمی ہے اس کے پاس کوئی مال نہیں۔ باقی ابو جھم عورت کو مارتا بہت زیادہ ہے تو ایسے کرو کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔(مرتبؒ) راوي حدیث: سیّدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ بنت قیس رضی اللہ عنہ ضحاک بن قیس کی بہن ہیں۔ مہاجرات میں سے ہیں۔ بڑی ذہین و فطین اور صالحہ عورت تھیں۔ پہلے ابو عمر و بن حفص کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے طلاق دے دی عدت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے سے اسامہ بن زید سے نکاح کر لیا۔ بہت سی احادیث روایت کی ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 947
947 صحيح حديث عَائِشَةَ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ: أَلَمْ تَرَيْنَ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ، طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ قَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هذَا الْحَدِيثِ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ کیا آپ فلانہ (عمرہ) بنتِ حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں؟ ان کے شوہر نے انہیں طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ جو کچھ اس نے کیا، بہت برا کیا۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: کیا آپ نے فاطمہ (بنتِ قیس) رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا؟ انہوں نے بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 68 كتاب الطلاق: 41 باب قصة فاطمة بنت قيس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
478. باب انقضاء عدة المتوفى عنها زوجها وغيرها بوضع الحمل
باب: وضع حمل سے بیوہ اور مطلقہ کی عدت کا تمام ہونا
حدیث نمبر: 948
948 صحيح حديث سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحارِثِ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ؛ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ؛ فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ تَجَمَّلْتِ لِلْخُطَّابِ تُرَجِّينَ النِّكَاحَ، فَإِنَّكِ، وَاللهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذلِكَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي
سیدہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ان کا تعلق بنی عامر بن لوئی سے تھا اور وہ بدر کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے، پھر حجۃ الوداع کے موقع پر ان کی وفات ہو گئی تھی اور اس وقت وہ حمل سے تھیں، سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے کچھ ہی دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، نفاس کے دن جب وہ گزار چکیں تو نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے انہوں نے اچھے کپڑے پہنے، اس وقت بنو عبدالدار کے ایک صحابی ابوالسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے یہاں گئے اور ان سے کہا: میرا خیال ہے کہ تم نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے یہ زینت کی ہے، کیا نکاح کرنے کا خیال ہے؟ لیکن اللہ کی قسم! جب تک (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی وفات پر) چار مہینے اور دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح کے قابل نہیں ہو سکتیں، سیدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ابوالسنابل نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں نے شام ہوتے ہی کپڑے پہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ معلوم کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم بچہ پیدا ہونے کے بعد عدت سے نکل چکی ہو اور اگر تم چاہو تو نکاح کر سکتی ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 10 باب حدثني عبد الله بن محمد الجعفي»
وضاحت: راوي حدیث: سیدہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا اسلم قبیلہ سے تعلق تھا۔ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھیں۔ دس ہجری کو انتقال ہوا۔ ایک جماعت نے ان سے روایت لی ہے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 949
949 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: أَفْتِنِي فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ بَعْدَ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً؛ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرُ الأَجَلَيْنِ قُلْتُ أَنَا (وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي (يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ) فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ غُلاَمَهُ كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا فَقَالَتْ: قُتِلَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ، وَهِيَ حُبْلَى، فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَخُطِبَتْ، فَأَنْكَحَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ خَطَبَهَا
ابو سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آنے والے نے پوچھا کہ آپ مجھے اس عورت کے متعلق مسئلہ بتائیے جس نے اپنے شوہر کی وفات کے چار مہینے بعد بچہ جنا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کا خاوند فوت ہو وہ عدت کی دو مدتوں میں جو مدت لمبی ہو اس کی رعایت کرے، میں نے عرض کیا کہ (قرآن مجید میں تو ان کی عدت کا یہ حکم ہے) ﴿حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے﴾ [سورة الطلاق: 4] ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی اس مسئلہ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہی ہوں (ان کی مراد ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے تھی)، آخر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے، ام المومنین نے بتایا کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر (سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ) شہید کر دیے گئے تھے، وہ اس وقت حاملہ تھیں، شوہر کی موت کے چالیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر ان کے پاس نکاح کا پیغام پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کر دیا، ابوالسنابل رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پیغامِ نکاح بھیجنے والوں میں تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 65 سورة الطلاق: 2 باب وأولات الأحمال»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
479. باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة، وتحريمه في غير ذلك إِلا ثلاثة أيام
باب: اس عورت پر جس کا خاوند مر جائے سوگ واجب ہے اور کسی حالت میں تین دن سے زیادہ سوگ حرام ہے
حدیث نمبر: 950
950 صحيح حديث أُمِّ حَبِيبَة زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزْيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَزَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا، أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ، خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجِةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ زَيْنَبُ: فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: أَمَا وَاللهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمَ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ لَيَالٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ زَيْنَبُ: وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا، أَفَتَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: لاَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلَيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ علَى رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَ حُمَيْدٌ (الرَّاوِي عَنْ زَيْنَبَ) فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: وَمَا تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ، حِمَارٍ، أَوْ شَاةٍ، أَوْ طَائِرٍ، فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِسُئِلَ مَالِكٌ (أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) مَا تَفْتَضُّ بِهِ قَالَ: تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت گئی جب ان کے والد ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق خوشبو کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ خوشبو ایک لونڈی نے ان کو لگائی اور ام المومنین نے خود اپنے رخساروں پر اسے لگایا، اس کے بعد کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوائے شوہر کے (کہ اس کا سوگ) چار مہینے دس دن کا ہے“۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے بعد میں ام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا، انہوں نے بھی خوشبو منگائی اور استعمال کی اور کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برسرِ منبر یہ فرماتے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے صرف شوہر کے لیے چار مہینے دس دن کا سوگ ہے“۔ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ کہتے سنا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری لڑکی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے تو کیا سرمہ لگا سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”نہیں“، دو تین مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا)، ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے: ”نہیں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (شرعی عدت) چار مہینے اور دس دن ہی کی ہے، جاہلیت میں تو تمہیں سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی (جب کہیں عدت مکمل ہوتی تھی)“۔ حمید (راویِ حدیث) نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ زمانۂ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ و تاریک کوٹھری میں داخل ہو جاتی، سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا، پھر کسی چوپائے، گدھے، بکری یا پرندے کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی، ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے، اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی، اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی، امام مالک (راویانِ حدیث میں سے ایک) سے پوچھا گیا کہ «تَفْتَضُّ بِهِ» کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا: ”وہ اس کا جسم چھوتی تھی“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 68 كتاب الطلاق: 46 باب تحد المتوفى عنها زوجها أربعة أشهر وعشرا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 951
951 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ، وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ، إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا، لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا، ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں، نہ خوشبو، اور «الْعَصْبُ» ”عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی)“ کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں، اور ہمیں (عدت کے دنوں میں) حیض کے غسل کے بعد «قُسْطُ أَظْفَارٍ» ”کست اظفار“ استعمال کرنے کی اجازت تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 12 باب الطيب للمرأة عند غسلها من المحيض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»