🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
621. باب عدد غزوات النبيّ ﷺ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعداد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1189
1189 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِي إِسْحقَ، قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَقِيلَ لَهُ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ قِيلَ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ قَالَ: الْعُسَيْرَةُ أَوِ الْعُشَيْرُ
سیدنا ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا، ان سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کیے؟ انہوں نے کہا: انیس۔ میں نے پوچھا: آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں۔ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ کہا کہ «عَسِيْرَةَ» ”عسیرہ“ یا «عُشَيْرَةَ» ”عشیرہ“ (ابواسحاق کہتے ہیں) پھر میں نے اس کا ذکر قتادہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (صحیح لفظ) «عُشَيْرَةَ» ”عشیرہ“ ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 1 باب غزوة العشيرة أو العسيرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1190
1190 صحيح حديث بُرَيْدَةَ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَة
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شریک تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 89 باب كم غزا النبي صلي الله عليه وسلم»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ کی کنیتیں ابو عبداللہ، ابو سہل، ابو ساسان اور ابو الحصیب اسلمی تھیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے سفر میں عمیم مقام پر آپ کے پاس سے گذرے تو آپ نے اسلام قبول کیا اور یہاں ہی ٹھہرے رہے اور احد کے بعد تشریف لائے اور غزوہ خیبر اور فتح مکہ میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قوم سے زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کیا تھا۔ صحیحین میں موجود ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوے کیے۔ حدیث کی ایک بڑی تعداد کے راوی ہیں۔ یزید بن معاویہ کی خلافت میں ۶۳ ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1191
1191 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ: مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسے لشکروں میں شریک ہوا ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیے تھے (مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان میں نہیں گئے)، کبھی ہم پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر ہوئے اور کسی فوج کے امیر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ ہوئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 45 باب بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم أسامة بن زبد إلى الحرقات من جهينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
622. باب غزوة ذات الرقاع
باب: غزوۂ ذات الرقاع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1192
1192 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ، بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، وَكنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا وَحَدَّثَ أَبُو مُوسى بِهذَا، ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے (پیدل طویل اور پرمشقت سفر کی وجہ سے) ہمارے پاؤں پھٹ گئے، میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے اور ناخن بھی جھڑ گئے تھے، چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹیاں باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام «غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ» ”پٹیوں والا غزوہ“ پڑا کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھا تھا۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی لیکن پھر انہیں اس کا اظہار اچھا معلوم نہیں ہوا۔ وہ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہیں کرنی چاہیے تھی، انہیں اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 31 باب غزوة ذات الرقاع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں