🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
611. باب غزوة أحد
باب: غزوۂ احد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1169
1169 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ جُرْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: جُرِحَ وَجْهُ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ؛ فَكَانَتْ فَاطِمَةُ، عَلَيْهَا السَّلاَمُ، تَغْسِلُ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ يُمْسِكُ؛ فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الدَّمَ لاَ يَزِيدُ إِلاَّ كَثْرَةَ، أَخَذَتْ حَصِيرًا فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا، ثُمَّ أَلْزَقَتْهُ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی، (جس سے سر پر زخم آئے تھے)۔ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے۔ جب سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا جس سے خون بہنا بند ہو گیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 85 باب لُبس البيضة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1170
1170 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ، وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: (اللهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ”ان کی قوم نے انہیں مارا اور خون آلود کر دیا، لیکن وہ نبی خون صاف کرتے جاتے اور یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» ”اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما، یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
612. باب اشتداد غضب الله على من قتله رسول الله ﷺ
باب: جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود قتل کریں اس پر اللہ تعالیٰ کا غصہ بہت سخت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1171
1171 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِنَبِيِّهِ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر انتہائی سخت ہوا جس نے اس کے نبی کے ساتھ یہ کیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ آگے کے دندان مبارک (کے ٹوٹ جانے) کی طرف تھا۔ ”اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص (ابی بن خلف) پر انتہائی سخت ہوا جسے اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے میں قتل کیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 24 باب ما أصاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الجراح يوم أحد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
613. باب ما لقي النبي صلی اللہ علیہ وسلم من أذى المشركين والمنافقين
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں اور منافقوں کے ہاتھوں جو تکلیف پائی اس کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1172
1172 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ؛ إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَيُّكُمْ يَجِىءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنَعَةٌ قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رأْسَهُ حَتَّى جَاءَتهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ قَالَ: وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ثُمَّ سَمَّى: اللهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِين عَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ، قَلِيبِ بَدْرٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی (بھی وہیں) بیٹھے ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جو فلاں قبیلے کی (جو) اونٹنی ذبح ہوئی ہے (اس کی) اوجھڑی اٹھا کر لائے اور (لاکر) جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جائیں تو ان کی پیٹھ پر رکھ دے۔ یہ سن کر ان میں سے ایک سب سے زیادہ بدبخت (آدمی) اٹھا اور وہ اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں یہ (سب کچھ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ کاش! (اس وقت) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور (ہنسی کے مارے) ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے (بوجھ کی وجہ سے) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بوجھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سے اتار کر پھینکا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ”اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے۔“ یہ (بات) ان کافروں پر بہت بھاری ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بددعا دی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر (مکہ) میں جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان میں سے) ہر ایک کا (جدا جدا) نام لیا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ» ”اے اللہ! تو ابوجہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو (ہلاک کر دے)۔“ ساتویں (آدمی) کا نام (بھی) لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جن لوگوں کے (بدعا کرتے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیے تھے، میں نے ان کی (لاشوں) کو بدر کے کنویں میں پڑا ہوا دیکھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1172]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 69 باب إذا أُلقي على ظهر المصلى قذر أو جيفة لم تفسد عليه صلاته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1173
1173 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ قَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ مَا لَقِيتُ، وَكَانَ أَشَدُّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلاَلٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلاَّ وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ، فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ اللهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ ذَلِكَ فِيمَا شِئْتَ إِنْ أُطَبِّقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ وَحْدَهُ، لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا آپ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری قوم (قریش) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا، یہ وہ موقع تھا جب میں نے (طائف کے سردار) کنانہ ابن عبد یالیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ لیکن اس نے (اسلام قبول نہیں کیا اور) میری دعوت کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کیے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبریل علیہ السلام اس میں موجود ہیں، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا ہے اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا ہے۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد! پھر انہوں نے بھی وہی بات کہی، آپ جو چاہیں (اس کا مجھے حکم فرمائیں) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1174
1174 صحيح حديث جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ، وَقَدْ دَمِيَتْ إِصْبَعُهُ، فَقَالَ: هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لڑائی کے موقع پر موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے مخاطب ہو کر فرمایا: «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ» ”تیری حقیقت ایک زخمی انگلی کے سوا کیا ہے اور جو کچھ ملا ہے اللہ کے راستے میں ملا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1174]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 9 باب من ينكب في سبيل الله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1175
1175 صحيح حديث جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ رضي الله عنه، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ، لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مَنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَالضُّحى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى)
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑ گئے اور دو یا تین راتوں کو (تہجد کے لیے) نہیں اٹھ سکے۔ پھر ایک عورت (ابو لہب کی بیوی عوراء) آئی اور کہنے لگی: اے محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، دو یا تین راتوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے پاس وہ نہیں آیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الضحیٰ نازل فرمائی: ﴿وَالضُّحٰی ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰی ۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰی﴾ [سورة الضحى: 1-3] یعنی  قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔ [سورة الضحى: 1-3] آخر تک۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 93 سورة والضحى: 1 باب حدثنا أحمد بن يونس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
614. باب في دعاء النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم إلى الله وصبره على أذى المنافقين
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ سے دعا کرنا اور منافقوں کی تکلیف پر صبر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1176
1176 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمارًا، عَلَيْهِ إِكَافٌ، تَحْتهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ، وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحارث بْنِ الْخَزْرَجِ، وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ، عَبَدَةِ الأَوْثَانِ، وَالْيَهُودِ؛ وَفِيهِمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ بْنُ سَلُولَ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لاَ تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ بْنُ سَلُولَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ لاَ أَحْسَنَ مِنْ هذَا، إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَلاَ تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُص عَلَيْه قَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ فَاسْتَبُّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا؛ فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ وَاصْفَحْ، فَوَاللهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللهُ الَّذِي أَعْطَاكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيعَصِّبُونَهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ، شَرِقَ بِذلِكَ، فَذلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھایا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس سے گزرے جس میں مسلمان، بت پرست مشرک اور یہودی سب ہی شریک تھے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا۔ مجلس میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا: ”ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔“ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا: ”میاں! میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں، اگر وہ چیزیں حق ہیں جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو، اپنے گھر جاؤ اور ہم میں سے جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو۔“ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔“ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ کوئی ارادہ کر بیٹھیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیں لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سعد! کیا تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب نے آج کیا بات کہی ہے؟“ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ ”اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجیے اور درگزر فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔“ چنانچہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 20 باب التسليم في مجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشركين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1177
1177 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ حِمَارًا، فَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ مَعَهُ، وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِلَيْكَ عَنِّي، وَاللهِ لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْهُمْ: وَاللهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَشَتَمَا، فَغَضِبَ لِكلِّ وِاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ، فَكَانَ بَيْنَهمَا ضَرْبٌ بِالْجِرِيدِ وَالأَيْدِي وَالنِّعَالِ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا أُنْزِلَتْ (وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ عبداللہ بن ابی منافق کے یہاں تشریف لے چلتے تو بہتر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں ایک گدھے پر سوار ہو کر تشریف لے گئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پیدل آپ کے ہمراہ تھے۔ جدھر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے وہ شور زمین تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں پہنچے تو وہ کہنے لگا: ذرا آپ دور ہی رہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ اس پر ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ عبداللہ منافق کی طرف سے اس کی قوم کا ایک شخص اس صحابی کی اس بات پر غصہ ہو گیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، پھر دونوں طرف سے دونوں کے حمایتی مشتعل ہو گئے اور ہاتھا پائی، چھڑی اور جوتے تک نوبت پہنچ گئی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ آیت اسی موقع پر نازل ہوئی تھی: ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ [سورة الحجرات: 9] ”اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 53 كتاب الصلح: 1 باب ما جاء في الإصلاح بين الناس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
615. باب قتل أبي جهل
باب: ابو جہل کا قتل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1178
1178 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ بَدْرٍ: مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ، حَتَّى بَرَدَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ: أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ، أَوْ قَالَ: قَتَلْتُمُوهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا: ”کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ معلوم کرنے گئے تو دیکھا کہ عفراء کے دونوں لڑکوں نے اسے قتل کر دیا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے، انہوں نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا: ”تو ہی ابوجہل ہے؟“ اس نے کہا: ”کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے آج اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے، یا (اس نے یوں کہا کہ) تم لوگوں نے اسے قتل کر ڈالا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 8 باب قتل أبي جهل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں