🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
662. باب إِباحة الضب
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
1274 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ، خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقِطًا وَسَمْنًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَقِطِ وَالسَّمْنِ، وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ حَرَامًا مَا أُكلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کی خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر، گھی اور گوہ (ساہنہ) کے تحائف بھیجے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر اور گھی میں سے تو تناول فرمایا لیکن گوہ پسند نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (اسی) دستر خوان پر (گوہ کو بھی) کھایا گیا اور اگر وہ حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کیوں کھائی جاتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 7 باب قبول الهدية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
663. باب إِباحة الجراد
باب: ٹڈی حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1275
1275 صحيح حديث ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَوْ سِتًّا، كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادَ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات یا چھ غزوؤں میں شریک ہوئے، ہم آپ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 13 باب أكل الجراد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
664. باب إِباحة الأرنب
باب: خرگوش حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
1276 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، فَأَدْرَكْتُهَا، فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ، وَأَكَلَ مِنْهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مرالظہران نامی جگہ میں ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور اسے تھکا دیا اور میں نے قریب پہنچ کر اسے پکڑ لیا، پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے پیچھے کا یا دونوں رانوں کا گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ شعبہ نے بعد میں یقین کے ساتھ کہا کہ دونوں رانیں انہوں نے بھیجی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا اور اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تناول بھی فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 5 باب قبول هدية الصيد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
665. باب إِباحة ما يستعان به على الاصطياد والعدو وكراهة الخذف
باب: شکار کے لیے اور دوڑنے کے لیے جو سامان ضروری ہو وہ درست ہے لیکن چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینکنا درست نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
1277 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ: لاَ تَخْذِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنِ الْخَذْفِ، أَوْ كَانَ يَكْرَهُ الْخَذْفَ وَقَالَ: إِنَّهُ لاَ يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ وَلاَ يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ، وَلكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأ الْعَيْنَ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُحَدِّثكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهى عَنِ الْخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الْخَذْفَ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ لاَ أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کنکری پھینکتے دیکھا تو فرمایا کہ کنکری نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے یا (انہوں نے بیان کیا کہ) آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کنکری پھینکنے کو پسند نہیں کرتے تھے اور فرمایا کہ ”اس سے نہ شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، البتہ یہ کبھی کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔“ اس کے بعد بھی انہوں نے اس شخص کو کنکریاں پھینکتے دیکھا تو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا یا کنکری پھینکنے کو ناپسند کیا اور تم اب بھی پھینکے جا رہے ہو، میں تم سے اتنے دنوں تک کلام نہیں کروں گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 5 باب الخذف والبندقة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
666. باب النهي عن صبر البهائم
باب: جانوروں کو باندھ کر مارنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
1278 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زندہ جانور کو باندھ کر مارنے“ سے منع فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 25 باب ما يكره من الْمُثْلة والمصبورة والمجثمة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
1279 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ، أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ فَعَلَ هذَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هذَا
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، وہ چند جوانوں یا چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے، جب انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ کون کر رہا تھا؟ ”ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 25 باب ما يكره من المثلة والمصبورة والمجثمة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں