اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
660. باب تحريم أكل لحم الحمر الإنسية
باب: پالتو گدھوں کا گوشت حرام ہے
حدیث نمبر: 1264
1264 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهى النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پالتو گدھوں کے گوشت“ کی ممانعت فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1265
1265 صحيح حديث ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ، لَيَالِيَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَانْتَحَرْنَاهَا، فَلَمَّا غَلَتِ الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ فَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا قَالَ عَبْدُ اللهِ (هُوَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى) : فَقُلْنَا إِنَّمَا نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ، قَالَ: وَقَالَ آخَرُونَ حَرَّمَهَا الْبَتَّةَ
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگِ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو (مالِ غنیمت میں) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے۔ چنانچہ انہیں ذبح کر کے (پکانا شروع کر دیا گیا)، جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ”ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔“ عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1265]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 20 باب ما يصيب من الطعام في أرض الحرب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1266
1266 صحيح حديث الْبَرَاءِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا فَطَبَخُوهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْفِئُوا الْقُدُورَ
سیدنا براء اور عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ”ہانڈیاں انڈیل دو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1267
1267 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، قَالَ: لاَ أَدْرِي أَنْهى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ، لَحْمَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں، یا آپ نے صرف غزوۂ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1267]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1268
1268 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نِيرَانًا تُوقَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: عَلَى مَا توقَدُ هذِهِ النِّيرَانُ قَالُوا: عَلَى الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ، قَالَ: اكْسِرُوهَا وَأَهْرِقُوهَا قَالُوا: أَلاَ نُهَرِيقهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ: اغْسِلُوا
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر دیکھا کہ آگ جلائی جا رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ آگ کس لیے جلائی جا رہی ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ گدھے (کا گوشت پکانے) کے لیے، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن (جس میں گدھے کا گوشت ہو) توڑ دو اور گوشت پھینک دو۔“ اس پر صحابہ بولے ایسا کیوں نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور برتن دھو لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن دھو لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 32 باب هل تكسر الدنان التي فيها الخمر أو تخرق الزقاق»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
661. باب في أكل لحوم الخيل
باب: گھوڑوں کا گوشت حلال ہے
حدیث نمبر: 1269
1269 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ خَيْبَرَ، عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں (کے گوشت کھانے) کی اجازت دی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
وضاحت: امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کی بناء پر گھوڑے کے گوشت کو حلال قرار دیا ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1270
1270 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما، قَالَتْ: نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ
سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 24 باب النحر والذبح»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
662. باب إِباحة الضب
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے
حدیث نمبر: 1271
1271 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الضَّبُّ، لَسْتُ آكُلُهُ، وَلاَ أُحَرِّمُهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خود گوہ نہیں کھاتا لیکن اسے حرام بھی نہیں قرار دیتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 33 باب الضب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1272
1272 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهمْ سَعْدٌ، فَذَهَبُوا يَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمٍ، فَنَادَتْهُمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَأَمْسَكُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا أَوِ اطْعَمُوا، فَإِنَّهُ حَلاَلٌ أَوْ قَالَ: لاَ بَأْسَ بِهِ وَلكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی اصحاب جن میں سعد رضی اللہ عنہ بھی (دستر خوان پر بیٹھے ہوئے) تھے، لوگوں نے گوشت کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ازواجِ مطہرات میں سے ایک زوجہ مطہرہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے آگاہ کیا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ سب لوگ کھانے سے رک گئے۔ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «كُلُوا» "تم کھاؤ" فرمایا یا «أَطْعِمُوا» "کھلاؤ" فرمایا) ”اس لیے کہ حلال ہے“ یا فرمایا: ”اس کھانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ یہ جانور میری خوراک نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 95 كتاب أخبار الآحاد: 6 باب خبر المرأة الواحدة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1273
1273 صحيح حديث خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى مَيْمُونَةَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، وَخَالَةُ ابْن عَبَّاسٍ، فَوَجَدُ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا، حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحارِثِ، مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ، قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ، حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ، هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدَهُ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: لاَ، وَلكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيَّ
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ان کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، ان کے یہاں بھنی ہوئی گوہ موجود تھی جو ان کی بہن حفیدہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں، انہوں نے وہ بھنی ہوئی گوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی، ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کھانے کے لیے اس وقت تک ہاتھ بڑھائیں جب تک آپ کو اس کے متعلق بتا نہ دیا جائے کہ یہ فلاں کھانا ہے، لیکن اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنی ہوئی گوہ کے گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا، اتنے میں وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا کیوں نہیں دیتیں کہ اس وقت آپ کے سامنے جو تم نے پیش کیا ہے وہ گوہ ہے؟ اے اللہ کے رسول! (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ گوہ سے ہٹا لیا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بولے کہ اے اللہ کے رسول! کیا گوہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میرے ملک میں چونکہ نہیں پائی جاتی اس لیے طبیعت پسند نہیں کرتی۔“ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھایا، اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 10 باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا يأكل حتى يسمى له فيعلم ما هو»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ ٓپ کی والدہ لبابہ الصغری ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں آپ کا تعلق مخزوم قبیلہ سے تھا۔ جاہلیت میں قریش کے سرداروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ غزوہ احد میں جبکہ آپ مشرکین مکہ کے لشکر کے سپہ سالار تھے آپ ہی کی چال سے مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سیف اللہ کا خطاب دیا تھا۔ آپ جس غزوے میں بھی گئے تو اللہ تعالیٰ نے فتح و کامرانی سے ہمکنار کیا حتیٰ کہ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگوں کا یہ عقیدہ بنتا جا رہا تھا کہ فتح خالد بن الولید کا اپنا ہنر اور فن ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنے والے اور موحد تھے نے انہیں معزول کر دیا لیکن آپ ایک سپاہی کی حیثیت سے جہاد میں حصہ لیتے رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر زخم نہ آیا ہو مگر شہادت کا جذبہ رکھنے کے باوجود ۲۱ ہجری کو بستر پر فوت ہوئے۔ اور اس حدیث کے مصداق ٹھہرے کہ جس نے خالص شہادت کی نیت سے جہاد کیا وہ شہید ہے خواہ بستر پر موت آئے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»