🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
670. باب ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام وبيان نسخه وإِباحته إِلى من شاء
باب: ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت تھی اور اس کے منسوخ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1290
1290 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي قَالَ: كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ، كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا
سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔“ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا؟ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ رکھیں) آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأضاحي/حدیث: 1290]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 73 كتاب الأضاحي: 16 باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود منها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
671. باب الفرع والعتيرة
باب: فرع اور عتیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1291
1291 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ وَالْفَرَعَ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لَطَوَاغِيتِهِمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسلام میں) «الفَرَعُ» ”فرع“ اور «العَتِيرَةُ» ”عتیرہ“ نہیں ہیں۔“ «الفَرَعُ» ”فرع“ (اونٹنی کے) سب سے پہلے بچے کو کہتے تھے جسے (جاہلیت میں) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور «العَتِيرَةُ» ”عتیرہ“ کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأضاحي/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 71 كتاب العقيقة: 3 باب الفرع»
وضاحت: فرع کی ایک تعریف تو نفس حدیث میں موجود ہے کہ جب ان لوگوں کا مادہ جانور پہلا بچہ جنم دیتا تھا تو وہ اسے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ بعض نے اس کی تعریف یہ کی ہے کہ جاہلیت میں جب کسی آدمی کے سو اونٹ ہو جاتے تو وہ ایک جوان اونٹ اپنے بت کے نام پر ذبح کر دیتا تھا اسے بھی وہ فرع کہتے تھے۔ ابن الاثیر نے لکھا ہے کہ امام خطابی فرماتے ہیں عتیرہ سے مراد وہ جانور ہے جسے جاہلیت میں لوگ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے اور اس کا خون بت کے سر پر بہا دیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12