🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
694. باب إِكرام الضيف وفضل إِيثاره
باب: مہمان کی خاطر داری اور اس کے لیے ایثار کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1332
1332 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلاَثَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ، قَالَ: فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي، وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:28] ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ، أَوْ قَالَتْ: ضَيْفِكَ قَالَ: أَوَ مَا عَشَّيْتِيهِمْ قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِي، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا قَال: فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ: كُلُوا، لاَ هَنِيئًا فَقَالَ: وَاللهِ لاَ أَطْعُمُه أَبَدًا وَايْمُ اللهِ مَا كُنّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلاَّ رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا، قَالَ: يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا، وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهَا فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هذَا قَالَتْ: لاَ، وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلاَثِ مَرَّاتٍ فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضى الأَجَلُ فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً، مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ، اللهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ، أَوْ كَمَا قَالَ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اصحابِ صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے (اصحابِ صفہ میں سے کسی) کو اپنے ساتھ لیتا جائے۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔“ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ، ماں اور میں تھا، نیز میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور (میرے والد) ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لیے تھا، بھی تھے۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہر گئے (اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا، صورت یہ ہوئی کہ) نمازِ عشاء تک وہیں (مسجد میں) رہے۔ پھر (مسجد سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے، تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھانا کھا لیا۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی (ام رومان رضی اللہ عنہا) نے کہا: کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی، یا یہ کہا کہ مہمان کی خبر نہ لی۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا؟ ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں کیا کروں، آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کیا، کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (عبدالرحمن کو) پکارا: «يَا غُنْثَرُ!» ”اے غنثر! (یعنی او پاجی)“ آپ نے برا بھلا کہا اور کوسنے دیے۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو! خدا کی قسم! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ (آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا) (عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا) خدا گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی جتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ اپنی بیوی سے بولے: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھا رہا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا اور معاہدے کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ (اس قبیلے کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کیے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے، ان سب نے اس میں سے کھایا۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کچھ ایسا ہی کہا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 41 باب السمر مع الضيف والأهل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
695. باب فضيلة المواساة في الطعام القليل، وأن طعام الاثنين يكفي الثلاثة، ونحو ذلك
باب: قلیل کھانے میں بھی دوسروں کو شریک کرنے کی فضیلت نیز دو آدمیوں کا کھانا تین افراد کے لیے کافی ہوتا ہے اور اسی طرح زیادہ افراد کے لیے بھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1333
1333 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَعَامُ الاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلاثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلاَثَةِ كَافِي الأَرْبَعَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 11 باب طعام الواحد يكفي الاثنين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
696. باب المؤمن يأكل في معى واحد، والكافر يأكل في سبعة أمعاء
باب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
1334 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَإِنَّ الْكَافِرَ أَوِ الْمُنَافِقَ يَأْكُلُ فِي سَبْعِةِ أَمْعَاءٍ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر یا منافق (راوی کو شک ہے) ساتوں آنتیں بھر لیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 12 باب المؤمن يأكل في معى واحد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1335
1335 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً كَانَ يَأْكلُ كَثِيرًا، فَأَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلاً قَلِيلاً؛ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب بہت زیادہ کھانا کھایا کرتے تھے، پھر وہ اسلام لائے تو کم کھانے لگے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 12 باب المؤمن يأكل في معى واحد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
697. باب لا يعيب الطعام
باب: کھانے میں عیب نہیں نکالنے چاہئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1336
1336 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِلاَّ تَرَكُهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ کو مرغوب ہوتا تو کھاتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صلي الله عليه وسلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں