🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
675. باب بيان أن كل مسكر خمر وأن كل خمر حرام
باب: ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1302
1302 صحيح حديث أَبِي مُوسى وَمُعَاذٍ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبَا مُوسى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا فَقَالَ أَبُو مُوسى: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا بِهَا شَرَابٌ مِنَ الشَّعِيرِ، الْمِزْرُ؛ وَشَرَابٌ مِنَ الْعَسَلِ، الْبِتْعُ فَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
سیدنا سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا سیدنا ابو موسیٰ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا: ”لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، ان کو دشواریوں میں نہ ڈالنا، لوگوں کو خوش خبریاں دینا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں موافقت رکھنا۔“ اس پر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے ملک میں جو سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جس کا نام «الْمِزْرُ» ”المزر“ ہے اور شہد سے ایک شراب تیار ہوتی ہے جو «الْبِتْعُ» ”البتع“ کہلاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 60 باب بعث أبي موسى ومعاذ إلى اليمن قبل حجة الوداع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
676. باب عقوبة من شرب الخمر إِذا لم يتب منها بمنعه إِياها في الآخرة
باب: جو شخص دنیا میں شراب پئے اور توبہ نہ کرے وہ آخرت میں شراب طہور سے محروم رہے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1303
1303 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس سے توبہ نہ کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔“ (یعنی جنت میں جانے ہی نہ پائے گا تو وہاں کی شراب اسے کیسے نصیب ہو سکے گی؟) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 1 باب قول الله تعالى (إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
677. باب إِباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرًا
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
1304 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ، يَوْمَئِذٍ، خَادِمَهُمْ، وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ سَهْلٌ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہیں معلوم ہے انہوں نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی (پانی) پلایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 71 باب حق إجابة الوليمة والدعوة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1305
1305 صحيح حديث سَهْلٍ، قَالَ: لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابَهُ فَمَا صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا وَلاَ قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ، إِلاَّ امْرَأَتُهُ، أُمُّ أُسَيْدٍ بَلَّتْ تَمَرَاتٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ لَهُ، فَسَقَتْهُ، تُتْحِفُهُ بِذلِكَ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت دی۔ اس موقع پر کھانا ان کی دلہن ام اسید رضی اللہ عنہا نے ہی تیار کیا تھا۔ انہوں نے ہی مردوں کے سامنے رکھا۔ انہوں نے پتھر کے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت کھجوریں بھگو دی تھیں اور جب آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہی اس کا شربت بنایا اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (تحفہ کے طور پر) پینے کے لیے پیش کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 77 باب قيام المرأة على الرجال في العرس وخدمتهم بالنفس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1306
1306 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا؛ فأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَدِمَتْ، فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، فَقَالَ: قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هذَا قَالَتْ: لاَ قَالُوا: هذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ فَخَرَجْتُ لَهُمْ بِهذَا الْقَدَحِ، فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيه (قَالَ الرَّاوِي) فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا مِنْهُ قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بَعْدَ ذَلِكَ، فَوَهَبَهُ لَهُ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس انہیں لانے کے لیے کسی کو بھیجنے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے کسی کو بھیجا اور وہ آئیں اور بنی ساعدہ کے قلعہ میں اتریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے، جب آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگیں: «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ» ”میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: «لَقَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ» ”میں نے تجھ کو پناہ دی۔“ لوگوں نے بعد میں ان سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم بھی ہے کہ یہ کون تھے؟ اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں، لوگوں نے کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، وہ تم سے نکاح کے لیے تشریف لائے تھے، اس پر وہ بولیں کہ پھر تو میں بڑی بدبخت ہوں (کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر کے واپس کر دیا)۔ اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے، پھر فرمایا: ”سہل! پانی پلاؤ۔“ میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا۔ (راویِ حدیث نے کہا:) سیدنا سہل رضی اللہ عنہ ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکال کر لائے اور ہم نے بھی اس میں پانی پیا، راوی نے بیان کیا کہ پھر بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ پیالہ مانگ لیا تھا اور انہوں نے یہ ان کو ہبہ کر دیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 30 باب الشرب من قدح النبي صلی اللہ علیہ وسلم وآنيته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
678. باب جواز شرب اللبن
باب: دودھ پینے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1307
1307 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي إِسْحقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى الْمَدِينَةِ، تَبَعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمِ، فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ قَالَ: ادْعُ اللهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ، فَدَعَا لَهُ قَالَ فَعَطِشَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِرَاعٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ
ابواسحاق روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا، اس نے عرض کی کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجیے (کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نقصان نہیں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی (اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا) سیدنا براء رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی، اتنے میں ایک چرواہا گزرا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں (ریوڑ کی ایک بکری) کا تھوڑا سا دودھ دوہا، وہ دودھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا، حتی کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 45 باب هجرة النبي صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابه إلى المدينة»
وضاحت: راوي حدیث:… پہلے خلیفہ راشد امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبداللہ بن ابی قحافہ تھا۔ مردوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کے سفر کے ساتھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وفات کے بعد فتنہ ارتداد کا مقابلہ بڑی پا مردی اور استقلال سے کیا اور اسلامی ریاست کو مستحکم فرمایا۔ جمع قرآن کا شرف آپ کو ہی حاصل ہوا۔ ۱۳ ہجری کو مدینہ میں وفات پائی۔ آپ کی مدت خلافت ۲ سال ۴ ماہ ہے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1308
1308 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ، بِإِيليَاءَ، بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَأَخَذَ اللَّبَنَ قَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کیے گئے، ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا، اس پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے آپ کو فطرت (اسلام) کی ہدایت دی، اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1308]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 17 سورة بني إسرائيل: 3 حدثنا عبدان»
وضاحت: فوائد کے لحاظ سے دودھ اللہ کی بڑی زبردست نعمت ہے۔ ایسا ہی فوائد سے بھر پور دین اسلام ہے۔ لہٰذا دودھ سے دین فطرت کی تعبیر کی گئی۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
679. باب في شرب النبيذ وتخمير الإناء
باب: نبیذ پینے اور برتن ڈھانپنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1309
1309 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ، رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، مِنَ النَّقِيعِ، بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَّ خَمَّرْتَهُ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انصاری صحابی ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ (کھلا ہوا) لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے؟ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ لیتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1309]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 12 باب شرب اللبن وقول الله تعالى (من بين فرث ودم لبنا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
680. باب الأمر بتغطية الإناء، وإِيكاء السقاء، وإِغلاق الأبواب وذكر اسم الله عليها، وإِطفاء السراج والنار عند النوم، وكف الصبيان والمواشي بعد المغرب
باب: برتن ڈھانپنے، مشک کا منہ بند کرنے، دروازے بند رکھنے اور ان پر اللہ کا نام لینے، سوتے وقت چراغ اور آگ بجھانے اور مغرب کے بعد بچوں اور جانوروں کو روکے رکھنے کی ہدایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1310
1310 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ، أَوْ أَمْسَيْتُمْ، فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحُلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكرُوا اسْمَ اللهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کا اندھیرا شروع ہو یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) جب شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لیا کرو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلتے ہیں۔ البتہ جب ایک گھڑی رات گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر لو، کیونکہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1310]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 15 باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1311
1311 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سونے لگو تو گھر میں آگ نہ چھوڑو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 79 باب لا تترك النار في البيت عند النوم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں