اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
702. باب التواضع في اللباس والاقتصار على الغليظ منه، واليسير من اللباس والفراش وغيرهما، وجواز لبس الثوب الشعر وما فيه من أعلام
باب: موٹا جھوٹا کپڑا پہن لینا اور تواضع کرنے کا بیان لباس میں
حدیث نمبر: 1347
1347 صحيح حديث عَائِشَة عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً وَإِزَارًا غَليظًا؛ فَقَالَتْ: قُبِضَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هذَيْنِ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی «كِسَاءٌ» اور ایک موٹی «إِزَارٌ» نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان ہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1347]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 19 باب الأكسية والخمائص»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
703. باب جواز اتخاذ الأنماط
باب: قالین یا سوزینوں کا بیان
حدیث نمبر: 1348
1348 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكُمْ مِنْ أَنْمَاطٍ قلْتُ: وَأَنَّى يَكُون لَنَا الأَنْمَاطُ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ لَكُمُ الأنْمَاطُ فَأَنَا أَقُولُ لَهَا (يَعْنِي امْرَأَتَهُ) أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا سَتَكُون لَكُمُ الأنْمَاط فَأَدَعُهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (ان کی شادی کے موقع پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ہمارے پاس قالین کہاں؟ (ہم غریب لوگ ہیں) اس پر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یاد رکھو ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔“ اب جب میں اس (اپنی بیوی) سے کہتا ہوں کہ اپنے قالین ہٹا لے، تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس قالین ہوں گے؟ چنانچہ میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں (اور چپ ہو جاتا ہوں)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
704. باب تحريم جر الثوب خيلاء، وبيان حد ما يجوز إِرخاؤه إِليه وما يستحب
باب: غرور سے کپڑا لٹکانا حرام ہے
حدیث نمبر: 1349
1349 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَنْظُرُ اللهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظرِ رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور کے سبب سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1349]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 1 باب قول الله تعالى قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1350
1350 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَنْظُرُ اللهُ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا تہمند غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر بھی نہیں کرے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 5 باب من جر ثوبه من الخيلاء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
705. باب تحريم التبختر في المشي مع إِعجابه بثيابه
باب: کپڑوں وغیرہ پر اترانا یا اکڑ کر چلنا حرام ہے
حدیث نمبر: 1351
1351 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ، مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ، إِذْ خَسَفَ اللهُ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بنی اسرائیل میں) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سرمست، سر کے بالوں میں کنگھی کیے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1351]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 5 باب من جر ثوبه من الخيلاء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
706. باب في طرح خاتم الذهب
باب: سونے کی انگوٹھی پھینک دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1352
1352 صحيح حديث أَبِي هرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے مردوں کو منع فرمایا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1352]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 45 باب خواتيم الذهب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1353
1353 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ، فَيَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ فَصَنَعَ النَّاسُ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هذَا الْخَاتَمَ وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ فَرَمَى بِهِ ثُمَّ قَالَ: وَاللهِ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوا لیں، اس کے بعد ایک دن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اپنی انگوٹھی اتار دی اور فرمایا: ”میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1353]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 6 باب من حلف على الشيء وإن لم يُحَلَّف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
707. باب لبس النبي ﷺخاتمًا من ورق نقشه محمد رسول الله ولبس الخلفاء له من بعده
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی پہنی جس پر محمد رسول اللہ نقش تھا
حدیث نمبر: 1354
1354 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ، بَعْدُ، فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ، بَعْدُ، فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ، بَعْدُ، فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى وَقَعَ، بَعْدُ، فِي بِئْرِ أَرِيسٍ نَقْشه (مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، وہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں وفات تک رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی، لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی، اس کا نقش «مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 50 باب نقش الخاتم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1355
1355 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَاتَمًا، قَالَ: إِنَّا اتَّخَذْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا فَلاَ يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ قَالَ: فَإِنِّي لأَرَى بَرِيقَهُ فِي خِنْصَرِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے، اس پر لفظ «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ» ”محمد رسول اللہ“ کندہ کرایا ہے، اس لیے انگوٹھی پر کوئی شخص یہ نقش نہ کندہ کرائے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے اس انگوٹھی کی چمک آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلیا میں اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1355]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 51 باب الخاتم في الخنصر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
708. باب في اتخاذ النبي صلی اللہ علیہ وسلم خاتمًا لما أراد أن يكتب إِلى العجم
باب: عجم کی طرف خطوط لکھنے کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انگوٹھی بنانا
حدیث نمبر: 1356
1356 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كِتَابًا، أَوْ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلاَّ مَخْتُومًا فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فَضَّةٍ، نَقْشُهُ (مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ) كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی بادشاہ کے نام دعوتِ اسلام دینے کے لیے) ایک خط لکھا یا لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ بغیر مہر کے خط نہیں پڑھتے (یعنی بے مہر کے خط کو مستند نہیں سمجھتے) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کندہ تھا، گویا میں (آج بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1356]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 7 باب ما يذكر في المناولة، وكتاب أهل العلم بالعلم إلى البلدان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»