🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
709. باب في طرح الخواتم
باب: انگوٹھیاں پھینکنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1357
1357 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اصْطَنَعُوا الْخَواتِيمَ مِنْ وَرِقٍ وَلَبِسُوهَا فَطَرَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی، پھر دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوانی شروع کر دیں اور پہننے لگے، تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1357]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 47 باب حدثنا عبد الله بن مسلمة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
710. باب إِذا انتعل فليبدأ باليمين وإِذَا خلع فليبدأ بالشمال
باب: جوتا پہنتے وقت پہلے داہنا جوتا پہنے اور اتارتے وقت پہلے بایاں اتارے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1358
1358 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، لِتَكُنِ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے تاکہ داہنی جانب پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخر ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 39 باب ينزع نعل اليسرى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1359
1359 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُحْفِهِمَا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کوئی شخص صرف ایک پاؤں میں جوتا پہن کر نہ چلے، یا دونوں پاؤں ننگے رکھے یا دونوں میں جوتا پہنے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 40 باب لا يمشي في نعل واحدة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
711. باب في إِباحة الاستلقاء ووضع إِحدى الرجلين على الأخرى
باب: مسجد میں پاؤں کے اوپر پاؤں رکھ کر چت لیٹنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1360
1360 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الاخْرَى
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چت لیٹے ہوئے دیکھا، آپ اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1360]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 85 باب الاستلقاء في المسجد ومد الرجل»
وضاحت: چت لیٹ کر ایک پاؤں دوسرے پر رکھنے کی ممانعت بھی آئی ہے۔ ممانعت اس صورت میں ہے جب شرم گاہ بے پردہ ہونے کا خطرہ ہو۔ اگر کوئی شخص ستر پوشی کا پورا اہتمام کرتا ہے تو پھر اس طرح چت لیٹ کر سونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
712. باب النهي عن التزعفر للرجال
باب: مرد کو زعفران لگانا اور زعفران رنگا کپڑا پہننا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1361
1361 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ”کوئی مرد زعفران کے رنگ کا استعمال کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1361]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 33 باب التزعفر للرجال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
713. باب في مخالفة اليهود في الصبغ
باب: خضاب لگاکر یہود کی مخالفت کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1362
1362 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ، فَخَالِفُوهُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ (داڑھی وغیرہ) میں خضاب نہیں لگاتے، تم لوگ اس کے خلاف طریقہ اختیار کرو (یعنی خضاب لگایا کرو)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 50 باب ما ذكر عن بني إسرائيل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
714. باب لا تدخل الملائكة بيتًا فيه كلب ولا صورة
باب: جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1363
1363 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لاَ تَدْخلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةُ تَمَاثِيلَ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتے ہوں اور اس میں بھی نہیں جس میں مورت ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت زید بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو طلحہ تھی۔ بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوئے۔ بدر اور دیگر غزوات میں بھی شریک رہے۔ لشکر میں ابو طلحہ کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک جماعت سے بہتر ہے۔ ۳۱ ہجری کو وفات پائی۔ اہل بصرہ کہتے ہیں کہ آپ سمندر میں سوار ہوئے اور وفات پا گئے تھے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
1364 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ بْنِ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللهِ الْخَوْلاَنِيُّ، الَّذِي كَانَ فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ رضي الله عنها، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُمَا زَيْدُ ابْنُ خَالِدٍ أنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ ابْنُ خَالِدٍ، فَعُدْنَاهُ فَإِذَا نَحْن فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ فَقَالَ: إِنَّهُ قَالَ: إِلاَّ رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ، أَلاَ سَمِعْتَهُ قُلْتُ: لاَ قَالَ: بَلَى، قَدْ ذَكَرَه
بسر بن سعید نے بیان کیا، اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور (راویِ حدیث) بسر بن سعید کے ساتھ عبید اللہ خولانی بھی روایتِ حدیث میں شریک ہیں، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ ان دونوں سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں (جاندار کی) تصویر ہو۔“ بسر نے بیان کیا کہ پھر زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار پڑے اور ہم ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ گھر میں ایک پردہ پڑا ہوا تھا اور اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہم سے تصویروں کے متعلق ایک حدیث نہیں بیان کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر اگر نقش و نگار ہوں (جاندار کی تصویر نہ ہو) تو وہ اس حکم سے الگ ہے۔ کیا آپ نے حدیث کا یہ حصہ نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»
وضاحت: امام نووی نے لکھا ہے اورجمہور علماء کا یہی قول ہے کہ ہر وہ کپڑا لینا حرام ہے جس پر حیوان کی تصویر ہو اور اسے پہنا جاتا ہو مثلاً لباس، پگڑی، لٹکانے والا پردہ جس کی توہین نہیں ہوتی۔ ہاں اگر ایسی چیز میں ہے جس کی توہین ہوتی ہے مثلاً بچھونا جسے روندا جاتا ہے تکیہ وغیرہ تو اس کا لینا حرام نہیں۔ لیکن یہ بھی اس گھر میں فرشتوں کے داخلہ کے لیے رکاوٹ بنتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس چیز کا سایہ ہو یا نہ ہو۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
1365 صحيح حديث عَائِشَةَ رضي الله عنها، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَرْتُ بِقِرَامٍ لِي، عَلَى سَهْوَةٍ لِي، فِيهَا تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَتَكَهُ، وَقَالَ: أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِين يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللهِ، قَالَتْ: فَجَعَلْنَاهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر (غزوۂ تبوک) سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، اس پر تصویریں تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو توشک بنا لیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: باب ما وطى من التصاوير»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
1366 صحيح حديث عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنها، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْهُ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُوبُ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاذَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ هذِهِ النُّمْرُقَةِ قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَصْحَابِ هذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعَذَّبُونَ فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ: إِنَّ الْبيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ الْمَلاَئِكَةُ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے ایک گدا خریدا جس پر مورتیں تھیں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر جوں ہی اس پر پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر داخل نہیں ہوئے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض کی، یا رسول اللہ! میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگتی ہوں۔ فرمائیے مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا کیسا ہے؟“ میں نے کہا کہ میں نے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے خریدا ہے، تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس سے ٹیک لگائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اس طرح کی مورتیں بنانے والے لوگ قیامت کے دن عذاب کیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے جس چیز کو بنایا اسے زندہ کر کے دکھاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ”جن گھروں میں مورتیں ہوتی ہیں (رحمت کے) فرشتے ان میں داخل نہیں ہوتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 40 باب التجارة فيما يكره لبسه للرجال والنساء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں