مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
ترقیم عوامۃ: 38264 ترقیم الشثری: -- 39892
٣٩٨٩٢ - حدثنا ابو عبد الرحمن قال: حدثنا ابو بكر عبد الله بن محمد بن ابي شيبة قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة، قال: انتهيت إلى عبد الله بن عمرو وهو جالس في ظل الكعبة والناس عليه مجتمعون فسمعته يقول: بينما نحن مع رسول الله ﷺ في سفر إذ نزلنا منزلا، فمنا من يضرب خباءه، ومنا من ينتضل، ومنا من هو في جشره إذ نادى مناديه: الصلاة (جامعة) (١) ، فاجتمعنا. فقام النبي ﷺ فخطبنا فقال:"إنه لم يكن نبي قبلي إلا كان (حقا لله) (٢) عليه ان يدل امته على ما هو خير لهم، وينذرهم ما يعلمه شرا لهم، وإن امتكم هذه جعلت (عافيتها) (٣) في اولها، وإن آخرها سيصيبهم بلاء وامور (تنكرونها) (٤) ؛ فمن ثم تجيء الفتنة، فيقول المؤمن: هذه مهلكتي، ثم تنكشف ثم تجيء الفتنة، فيقول المؤمن: هذه (٥) ، (ثم) (٦) تنكشف، فمن سره منكم ان يزحزح عن النار ويدخل ⦗١٩٠⦘ الجنة فتدركه منيته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر، وليات (٧) الناس الذي يحب ان ياتوا إليه، ومن بايع إماما فاعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع، فإن جاء (احد) (٨) ينازعه فاضربوا عنق الآخر". (قال) (٩) : (١٠) (فادخلت) (١١) راسي من بين الناس، فقلت: انشدك بالله، اسمعت هذا من رسول الله ﷺ؟ قال: فاشار بيديه إلى اذنيه: (١٢) (سمعته) (١٣) اذناي ووعاه قلبي، (قال) (١٤) : قلت: هذا ابن عمك، يامرنا ان ناكل اموالنا بيننا بالباطل وان نقتل انفسنا، وقد قال الله (١٥) : ﴿ (١٦) ولا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل (وتدلوا بها إلى الحكام) (١٧) ﴾ [البقرة: ١٨٨] (إلى آخر) (١٨) الآية، قال: فجمع يديه فوضعهما على جبهته ثم نكس هنيهة ثم قال: اطعه في طاعة الله، واعصه في معصية الله (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، س، ط، هـ]: (حق اللَّه).
(٣) في [ب]: (عاقبتها).
(٤) في [س]: (ينكرونها).
(٥) في [ب]: زيادة (مهكته).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [ط، هـ]: زيادة (إلى).
(٨) في [هـ]: (آخر).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) في [ك]: زيادة (قال).
(١١) في [أ]: (فأدخل)، وفي [ب]: (دخل).
(١٢) في [هـ]: زيادة (قال).
(١٣) في [أ، هـ]: (فسمعته).
(١٤) سقط من: [ع].
(١٥) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(١٦) في [أ، ب]: زيادة (و).
(١٧) سقط من: [أ، ب].
(١٨) سقط من: [س].
(١٩) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٤٤)، وأحمد (٦٥٠٣).
حضرت عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا پس کچھ ہم میں سے وہ تھے جو خیمے نصب کرنے لگے اور کچھ وہ تھے جو تیر اندازی میں مقابلہ کرنے لگے اور کچھ وہ جو اپنے مویشیوں (کی دیکھ بھال) میں (لگ گئے) تھے۔ ناگاہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناوی نے ندادی الصلوٰۃ جامعۃ پس ہم جمع ہوگئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا یقینا مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر اللہ کیلئے اس پر حق تھا کہ اپنی امت کی رہنمائی کرے اس بات کی طرف جو ان کے لیے بہتر ہو اور ڈرائے ان کو اس بات سے جس کے بارے میں جانتا ہو یہ ان کے لیے بری ہے۔ بیشک یہ تمہاری امت اس کی عافیت اس کے اول حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے کو عنقریب پہنچیں گی، مصیبتیں اور ایسے امور جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو اس موقعے پر ایک فتنہ آئے گا مومن کہے گا، یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا۔ پھر فتنہ آئے گا پس مومن کہے گا یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا پس وہ شخص جسے پسند ہے تم میں سے کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرے جیسا وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں اور وہ شخص جس نے کسی امام کی بیعت کی اور اس کو ہاتھ کا معاملہ اور دل کا پھل دے دے تو جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن ماردو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے داخل کیا اپنا سر لوگوں کے درمیان پس میں نے عرض کیا میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے راوی فرماتے ہیں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اپنے کانوں کی طرف کہ میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد کیا راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ آپ کے چچا کے بیٹے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم اپنے مالوں کو ناحق طریقے سے کھائیں اور یہ کہ اپنے آپ کو قتل کریں۔ حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہ کھاؤ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے پر اور ان (کے جھوٹے مقدمے) حکام کے یہاں اس غرض سے نہ لے جاؤ۔ آیت کے اخیر تک، راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو نے اپنے دونوں ہاتھ جمع کیے اور ان دونوں کو اپنی پیشانی پر رکھا پھر کچھ دیر سر جھکایا پھر فرمایا: اس کی اطاعت کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور اس کی نافرمانی کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39892]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39892، ترقيم محمد عوامة 38264)
ترقیم عوامۃ: 38265 ترقیم الشثری: -- 39893
٣٩٨٩٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن ابن عبد رب الكعبة عن عبد الله بن (عمرو) (١) عن النبي ﷺ بمثله إلا ان وكيعا قال:"وسيصيب آخرها بلاء وفتن (يوافق) (٢) بعضها بعضا"، وقال:"من احب ان يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتدركه منيته" -ثم ذكر مثله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ]: (يواقف)، وفي [ع]: (يوفق)، وفي [هـ]: (يرقق).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٤٤)، وأحمد (٦٧٩٣).
عبداللہ بن عمرو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی (مذکورہ روایت) کی مثل نقل کرتے ہیں لیکن وکیع نے یوں نقل کیا، اور عنقریب اس امت کے آخری حصے کو مصیبتیں اور فتن پہنچیں گے ان میں سے ایک دوسرے کو کمزور کر دے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی پسند کرے اس بات کو کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے پس اسے موت آئے پھر وکیع نے اوپر والی روایت کے مثل بقیہ روایت نقل کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39893]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39893، ترقيم محمد عوامة 38265)
ترقیم عوامۃ: 38266 ترقیم الشثری: -- 39894
٣٩٨٩٤ - حدثنا وكيع عن عثمان (الشحام) (١) قال: حدثنا مسلم (٢) بن ابي بكرة عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إنها ستكون فتنة! المضطجع فيها خير من الجالس، والجالس خير من القائم، والقائم خير من الماشي، والماشي خير من الساعي"، فقال رجل: يا رسول الله (ما تامرنا؟) (٣) قال:"من كانت له إبل فليلحق بإبله، ومن (كانت) (٤) له غنم فليلحق بغنمه، ومن كانت له ارض فليلحق بارضه، ومن لم يكن له شيء من ذلك فليعمد إلى سيفه فليضرب بحده (على صخرة) (٥) ثم لينج إن استطاع النجاة" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الجسام).
(٢) في [ع]: زيادة (عن مسلم).
(٣) في [س، ع]: (فما تأمرني؟).
(٤) في [ع]: (كان).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) حسن؛ عثمان صدوق، أخرجه مسلم (٢٨٨٧)، وأحمد (٢٠٤١٢).
ابو بکرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عنقریب ایک فتنہ ہوگا اس میں لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے اور جس آدمی کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہ ہو تو وہ اپنی تلوار کا قصد کرے اور اس کی دھار پتھر کی چٹان پر مارے پھر نجات پاسکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39894]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39894، ترقيم محمد عوامة 38266)
ترقیم عوامۃ: 38267 ترقیم الشثری: -- 39895
٣٩٨٩٥ - حدثنا عبد الاعلى وعبيدة بن حميد عن داود عن ابي عثمان عن سعد -رفعه عبيدة ولم يرفعه عبد الاعلى- قال: تكون فتنة القاعد فيها خير من ⦗١٩٢⦘ القائم، والقائم خير (١) من الساعي، والساعي خير من الموضع (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (من الماشي، والماشي خير).
(٢) الموضع: المسرع، وفي [هـ]: زيادة (خير من الراكب، والراكب خير من الموضع).
(٣) صحيح؛ وقد وافق عبيدة في الرفع: معتمر وهشيم ومسلمة بن علقمة وأبو شهاب، وأخرجه أحمد ١/ ١٦٨ (١٤٤٦)، والترمذي (٢١٩٤)، وأبو داود (٤٢٥٨)، والحاكم ٤/ ٤٤١، وأبو يعلى (٧٨٩)، والضياء في المختارة ٣/ (١٣٨)، والبزار (١٢٢٤)، والطبراني في الأوسط (٨٦٧٨)، والشاشي (١٢٦)، والدولابي في مسند سعد (١١٥)، وابن عساكر ٢٧/ ٢٢، والمزي ٦/ ٣٩٠، والسهمي في تاريخ جرجان ص ٥٤٠
حضرت سعد سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک فتنہ ہوگا اس میں بیٹھے والا کھڑے ہونے ولے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا اور کوشش کرنے والا بہتر ہوگا اس میں جلدی چلنے والے سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39895]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39895، ترقيم محمد عوامة 38267)
ترقیم عوامۃ: 38268 ترقیم الشثری: -- 39896
٣٩٨٩٦ - حدثنا وكيع عن حماد بن نجيح عن ابي التياح عن صخر بن بدر عن خالد بن سبيع -او، سبيع بن خالد- قال: اتيت الكوفة فجلبت منها دواب، فإني لفي مسجدها إذ جاء رجل قد اجتمع الناس عليه، فقلت: من هذا؟ قالوا: حذيفة ابن اليمان قال: فجلست إليه فقال:"كان الناس يسالون النبي ﷺ عن الخير، وكنت اساله عن الشر، قال: قلت: يا رسول الله! ارايت هذا الخير الذي كنا فيه هل كان قبله شر وهل كائن بعده شر؟ قال:"نعم"، قلت: فما العصمة منه؟ قال:"السيف"، قال: فقلت: يا رسول الله! فهل بعد السيف من بقية؟ قال:"نعم هدنة"، قال: قلت: يا رسول الله فما بعد الهدنة؟ قال:"دعاة الضلالة، فإن رايت خليفة فالزمه، وإن نهك ظهرك ضربا، واخذ مالك، فإن لم يكن خليفة فالهرب حتى ياتيك الموت، وانت عاض على شجرة"، قال: قلت: يا رسول الله فما بعد ذلك؟ قال:"خروج الدجال"، قال: قلت: يا رسول الله! (فما) (١) يجيء به الدجال؟ قال:"يجيء بنار ونهر، فمن وقع في ناره وجب اجره، و (حط) (٢) وزره، ⦗١٩٣⦘ [ومن وقع في نهره (حط) (٣) اجره ووجب وزره] (٤) "، قال: قلت: يا رسول الله! فما بعد الدجال؟ قال:" (لو) (٥) ان احدكم انتج فرسه ما ركب مهرها حتى تقوم الساعة" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: (وما).
(٢) في [أ، ب، س]: (حبط).
(٣) في [أ، ب، س]: (حبط).
(٤) ما بين المعكوفين سقط من: [ع].
(٥) سقط من: [س].
(٦) مجهول؛ لجهالة صخر بن بدر، أخرجه أحمد (٢٣٤٢٥)، وأبو داود (٤٢٤)، وعبد الرزاق (٢٠٧١١)، والطيالسي (٤٤٣)، والبزار (٢٩٥٩)، والحاكم ٤/ ٤٣٢، وابن عدي ٢/ ٦٦٧، والبغوي (٤٢١٩)، وأبو عوانة (٧١٦٨)، وابن عساكر ١٢/ ٢٦٧، وبعضه عند البخاري (٧٠٨٤)، ومسلم (١٨٤٧).
حضرت خالد بن سبیع یا سبیع بن خالد فرماتے ہیں میں کوفہ آیا اور وہاں سے چوپائے ہانکے اور میں اس کی مسجد میں تھا اچانک ایک صاحب آئے لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان ہیں، راوی فرماتے ہیں میں ان کے پاس بیٹھ گیا پس انہوں نے فرمایا: لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اور میں ان سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان نے فرمایا میں نے عرض کیا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس برائی سے بچنے کا طریقہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتلائیے یہ بھلائی جس میں ہم ہیں کیا اس سے پہلے برائی تھی اور کیا اس کے بعد برائی ہوگی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا تلوار کے بعد کچھ باقی ہوگا ارشاد فرمایا: کہ ہاں صلح میں نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح کے بعد کیا ہوگا ارشاد فرمایا: گمراہی کی دعوت دینے والے پس تو اگر دیکھے کوئی خلیفہ تو اس کے ساتھ ہوجانا اگرچہ وہ تیری پشت پر مار کر سخت سزا دے اور تیرا مال لے لے اور اگر کوئی خلیفہ نہ ہو تو بھاگ جانا یہاں تک کہ تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کھانے والے ہو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد کیا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کا نکلنا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کیا لائے گا، ارشاد فرمایا: آگ اور قہر لائے گا جو اس کی آگ میں پڑگیا اس کا اجر ضائع ہوجائے گا اور گناہ لازم ہوجائے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے بعد کیا ہوگا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی ایک کے گھوڑے کا بچہ ہو تو وہ اس کے پچھیرے پر سوار نہیں ہوگا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39896]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39896، ترقيم محمد عوامة 38268)
ترقیم عوامۃ: 38269 ترقیم الشثری: -- 39897
٣٩٨٩٧ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة قال: قال حميد: حدثنا نصر ابن عاصم الليثي (عن اليشكري) (١) قال: سمعت حذيفة يقول: كان رسول الله ﷺ يساله الناس عن الخير وكنت اساله عن الشر، (وعرفت) (٢) ان الخير لن يسبقني، قال: قلت: يا رسول الله! هل بعد هذا الخير من شر؟ قال:"يا حذيفة! تعلم كتاب الله واتبع ما فيه"، -ثلاثا، (قال: قلت: يا رسول الله! هل بعد هذا الخير شر؟ قال:"فتنة وشر") (٣) ، قال: قلت: يا رسول الله هل بعد هذا الشر خير؟ قال:"يا حذيفة تعلم كتاب الله واتبع ما فيه" -ثلاث مرار، قال: قلت: يا رسول الله! هل بعد هذا الخير (شر؟) (٤) قال:"فتنة عمياء صماء، عليها دعاة على ابواب النار، فان (تموت) (٥) ⦗١٩٤⦘ يا حذيفة وانت عاض على (جذر) (٦) خير من ان تتبع احدا منهم" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من مصادر التخريج، وهكذا سيأتي ١٥/ ١٧ برقم [٣٩٩١٦].
(٢) في [أ، ب]: (فعرفت).
(٣) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٤) سقط من. [أ، ب، جـ، س].
(٥) في [ع]: (تمت).
(٦) في [هـ]: (جذل).
(٧) حسن؛ اليشكري صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٢٨٢)، وأبو داود (٤٢٤٦)، والنسائي في الكبرى (٨٠٣٢)، وابن ماجه (٣٦٨١)، وابن حبان (٥٩٦٣)، وعبد الرزاق (٢٠٧١١)، والطيالسي (٤٤٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥٧١، والبغوي (٤٢١٩)، وأصله عند البخاري (٣٦٠٦)، ومسلم (١٨٤٧).
حضرت یشکری فرماتے ہیں میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا اور میں پہچان چکا تھا کہ خیر مجھ سے ہرگز نہیں بڑھے گی راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حذیفہ رضی اللہ عنہاللہ کی کتاب سیکھو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو تین مرتبہ (فرمایا) راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس برائی کے بعد بھلائی ہوگی ارشاد فرمایا اے حذیفہ رضی اللہ عنہاللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کرو تین مرتبہ فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی ارشاد فرمایا: اندھا اور بہرا فتنہ ہوگا اس پر قائم ہوں گے جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے اے حذیفہ رضی اللہ عنہاگر تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کے تنے کو کھانے والے ہو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39897]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39897، ترقيم محمد عوامة 38269)
ترقیم عوامۃ: 38270 ترقیم الشثری: -- 39898
٣٩٨٩٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يونس بن ابي إسحاق عن هلال ابن خباب (قال: حدثني عكرمة) (١) قال: حدثني عبد الله بن عمرو قال: بينا نحن حول رسول الله ﷺ (إذ ذكر) (٢) الفتنة او ذكرت عنده، قال: فقال:"إذا رايت الناس مرجت عهودهم وخفت اماناتهم، وكانوا هكذا" -وشبك بين اصابعه- قال: فقمت إليه فقلت: كيف افعل (عند) (٣) ذلك؟ جعلني الله فداءك، قال: فقال لي:"الزم بيتك وامسك عليك لسانك وخذ بما تعرف وذر ما تنكر، وعليك بخاصة نفسك، وذر عنك امر العامة" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب]: (أنذكر).
(٣) سقط من: [س].
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٩٨٧)، وأبو داود (٤٣٤٣)، والنسائي في الكبرى (١٠٠٣٣)، والحاكم ٤/ ٢٨٢، وابن السني (٤٤١)، وابن ماجه (٣٩٥٧)، وأبو يعلى (٥٥٩٣)، وأصله عند البخاري (٤٧٨).
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد تھے جب آپ نے فتنے کا تذکرہ کیا یا آپ کے پاس اس کا تذکرہ کیا گیا۔ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا: جب تو لوگوں کو دیکھے کہ ان کے وعدے خراب ہوجائیں اور امانتیں ہلکی ہوجائیں اور وہ ہوجائیں اس طرح اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا، راوی فرماتے ہیں میں آپ کی طرف کھڑا ہوا میں نے عرض کیا اس وقت میں کیسے کروں اللہ مجھے آپ پر قربان کرے فرماتے ہیں مجھ سے آپ نے ارشاد فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا اور اپنی زبان کو روک کر رکھنا جو جانتے ہو وہ لے لینا اور جو نہیں جانتے وہ چھوڑ دینا اور تم پر لازم ہے خاص طور پر تمہاری ذات اور عامۃ الناس کے معاملے کو چھوڑ دینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39898]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39898، ترقيم محمد عوامة 38270)
ترقیم عوامۃ: 38271 ترقیم الشثری: -- 39899
٣٩٨٩٩ - حدثنا عبد الله بن نمير عن يحيى بن سعيد عن (عبد الله بن) (١) عبد الرحمن الانصاري عن ابيه انه سمع ابا سعيد يقول: قال رسول الله ﷺ: ⦗١٩٥⦘"يوشك ان يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال (٢) مواقع القطر، يفر بدينه من الفتن" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]، وما في [أ، ب]: هو الصواب، وفي بقية النسخ: (عبد اللَّه بن عبد الرحمن الأنصاري)، وهو هكذا في مصادر التخريج، لكن العلماء قالوا: "هذا مقلوب صوابه: عبد الرحمن ابن عبد اللَّه"، وانظر: سنن ابن ماجه (٣٩٨٠).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (و).
(٣) صحيح؛ رواه البخاري (١٩)، وأحمد (١٣٩١) من طريق عبد الرحمن بن عبد اللَّه عن أبيه عن أبي سعيد، ورواه ابن ماجه (٣٩٨٠)، وأحمد (١١٢٥٤) عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن.
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا وہ فتنوں سے اپنے دین کو بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39899]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39899، ترقيم محمد عوامة 38271)
ترقیم عوامۃ: 38272 ترقیم الشثری: -- 39900
٣٩٩٠٠ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن حميد بن هلال عن (حجير) (١) بن الربيع قال: قال لي عمران بن حصين: ائت قومك فانههم ان يخفوا في هذا الامر، فقلت: إني فيهم (لمغمور) (٢) و (لما) (٣) انا فيهم بالمطاع، (٤) فابلغهم عني لان اكون عبدا حبشيا في اعنز (حضنيات) (٥) ارعاها في راس جبل حتى يدركني الموت احب إلي (من) (٦) ان ارمي في واحد من الصفين بسهم اخطات او اصبت (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع]: (حجر).
(٢) في [ط، ع، هـ]: (لغموز).
(٣) في [ع]: (ما).
(٤) الآتي من كلام عمران.
(٥) نسبة لجبل حضن، وفي [أ، هـ]: (حصبات)، وفي [جـ]: (حصيات).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) حسن؛ حجير صدوق، أخرجه ابن سعد ٤/ ٢٨٨، وابن جرير في التاريخ ٣/ ٣٧، والطبراني ١٨/ (١٩٦)، والروياني (١٢٧)، والحربي في الغريب ٢/ ٨٩٩ و ٣/ ١٠٦٨.
حضرت حجیربن الربعو فرماتے ہیں مجھ سے حضرت عمر ان بن حصین نے فرمایا اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان کو اس معاملے میں جلدی کرنے سے روکو میں نے عرض کیا میں ان میں مامور ہوں اور میں ان میں امیر نہیں ہوں حضرت عمران بن حصین نے فرمایا انہیں میری جانب سے یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میں ایک حبشی غلام ہوں عیب دار ہوں بھیڑوں کو چراؤں ایک پہاڑ کی چوٹی میں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یہ بات مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں دونوں صفوں میں سے کسی ایک میں تیر ماروں چاہے درستگی تک پہنچ جاؤں یا غلطی پر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39900]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39900، ترقيم محمد عوامة 38272)
ترقیم عوامۃ: 38273 ترقیم الشثری: -- 39901
٣٩٩٠١ - حدثنا (ابو) (١) معاوية عن الاعمش عن زيد بن وهب قال: قال حذيفة: إن (للفتنة) (٢) وقفات وبعثات، فإن استطعت ان تموت في وقفاتها فافعل (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب، ع]: (الفتنة).
(٣) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٤، والحاكم ٤/ ٤٣٣، ونعيم بن حماد في الفتن (١٦٩)، وأبو عمران الداني في السنن الواردة في الفتن (١٨٠).
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یقینا فتنے میں تلواریں سونتی بھی جاتی ہیں اور نیام میں بھی ڈال لی جاتی ہیں۔ یا یقینا فتنہ رکتا بھی ہے اور اٹھتا بھی ہے پس اگر تم سے ہوسکے کہ تمہیں موت آئے اس کے رکنے کے وقت تو ایسا ہی کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39901]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39901، ترقيم محمد عوامة 38273)