🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الرَّضَاعُ
باب: رضاعت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4314 ترقیم الرسالہ : -- 4394
نَا نَا مُحَمَّدٌ، نَا إِسْحَاقُ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ:" أَتُحَرِّمُ رَضْعَةٌ أَوْ رَضْعَتَانِ؟، فَقَالَ: مَا أَعْلَمُ الأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلا حَرَامًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يُرِيدُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، زَعَمَ أَنَّهُ لا تُحَرِّمُ رَضْعَةٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَضَاءُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ، وَقَضَاءِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ" ،.
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: کیا ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ رضاعی بہن حرام ہوتی ہے۔ تو ایک شخص بولا: امیر المؤمنین نے تو یہ بات بیان کی ہے (اس شخص کی مراد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے) کہ ایک مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تمہارے فیصلے اور امیر المؤمنین کے فیصلے سے بہتر ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الرضاع/حدیث: 4394]
ترقیم العلمیہ: 4314
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 984، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15742، 15743، 15744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4377، 4392، 4394، 4395»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4315 ترقیم الرسالہ : -- 4395
نَا مُحَمَّدٌ، نَا إِسْحَاقُ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الرضاع/حدیث: 4395]
ترقیم العلمیہ: 4315
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 984، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15742، 15743، 15744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4377، 4392، 4394، 4395»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4316 ترقیم الرسالہ : -- 4396
نَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، قَالا: ثنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ، فَلا تُضَيِّعُوهَا، وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ، فَلا تَنْتَهِكُوهَا، وَحَّدَ حُدُودًا، فَلا تَعْتَدُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ، فَلا تَبْحَثُوا عَنْهَا" ، لَفْظُ يَعْقُوبَ.
سیدنا ابوثعلبہ خشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کر دیے ہیں، تم انہیں ضائع نہ کرو، اس نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے، تم ان کا ارتکاب نہ کرو اور اس نے کچھ حدود متعین کر دی ہیں، تم ان کی خلاف ورزی نہ کرو، اس نے بھولے بغیر کچھ چیزوں کے بارے میں کچھ بیان نہیں کیا، تو تم ان کو کریدنے کی کوشش نہ کرو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الرضاع/حدیث: 4396]
ترقیم العلمیہ: 4316
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7207، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 19786، 19787، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4396، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 589»
«قال الدارقطني: والأشبه بالصواب مرفوعا وهو أشهر، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 324)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں