الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ أَفْضَلِ الْأَيَّامِ لِلسَّفَرِ وَتَوْدِيعِ الْمُسَافِرِ وَإِيصَالِهِ وَالدُّعَاءِ لَهُ
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے¤اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2295
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوْصِنِي، قَالَ: ( (أُوْصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ) ) ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو کوئی وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی اور ہر اونچی جگہ پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتاہوں۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس شخص کے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت مختصر کر دے) اور اس پر سفر کو آسان کردے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2771، والترمذي: 3445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8310، 9724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10168»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 2296
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ وَهُوَ يُرِيدُ السَّفَرَ قَالَ لَهُ: اُدْنُ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا فَيَقُولُ: ( (أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ) )
سالم بن عبد اللہ سے کہتے ہیں کہ میرے باپ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ لے کر آتا تو وہ کہتے: میرے قریب ہو جا، تاکہ میں تجھے اس طرح الوادع کہوں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں الوداع کہا کرتے تھے،پھر وہ کہتے: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2296]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد فيه وھم، أخرجه ابوداود: 2600، والترمذي: 3442، 3443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4524، 4957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4524»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 2297
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ قَزَعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ: تَعَالَ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ
(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوں جیسے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4957»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4957
3. بَابُ اتِّخَاذِ الرَّفِيقِ فِي السَّفَرِ وَسَبَبِهِ
سفر میں ساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 2298
عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِرَجُلٍ: أُوَدِّعُكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَمَا وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ
موسیٰ بن وردان کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھے اس طرح الوداع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے الوداع کہا تھا (یا راوی نے کہا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الوداع کہا)، میں تجھے اُس اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 2825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8694، 9230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9219»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2299
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلَانِ وَآخَرُ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ: ارْبَعَا ارْبَعَا حَتَّى رَدَّهُمَا، ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ، فَقَالَ: إِنَّ هَٰذَانِ شَيْطَانَانِ وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا، فَإِذَا أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّا هَٰهُنَا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ، قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَلْوَةِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی خیبر سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے چل پڑے اور ایک ان کے پیچھے، جو انھیں کہتا تھا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ۔ (یہاں تک کہ) انھیں لوٹا دیا، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے، میں ان کے ساتھ لگا رہا، حتی کہ انھیں لوٹا دیا۔ جب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے۔ وہ آدمی مدینہ میں پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا پیغام پہنچا دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلوت (تنہائی) سے منع کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبو يعلي: 2589، والحاكم: 2/ 102، والبزار: 2022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2510، 2719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2719»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2300
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَارَ أَحَدٌ وَحْدَهُ بِلَيْلٍ أَبَدًا) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ رات کواکیلا سفر کرنے میں کیا نقصان ہے تو کوئی بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2300]
تخریج الحدیث: «حديثB صحيح، مؤمل بن اسماعيل ضعيف لكنه قد توبع، أخرجه البخاري: 2998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5908»
الحكم على الحديث:
حديثB صحيح
حدیث نمبر: 2301
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوَاحِدَةِ أَنْ يَبِيتَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے کہ آدمی اکیلا رات گزارے یا اکیلا سفر کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2301]
تخریج الحدیث: «صحيح دون النھي عن ان يبيت الرجل وحده، وھي زيادة شاذة، انظر الحديث السابق: 1163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5650»
الحكم على الحديث:
صحيح دون النھي عن ان يبيت الرجل وحده
حدیث نمبر: 2302
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اکیلا سفر کرنے والا سوار شیطان ہے اور دو سفر کرنے والے سوار بھی شیطان ہیں، البتہ تین کا قافلہ بن جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2607، والترمذي: 1674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6748)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6748»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 2303
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، قَالَ: فَقَالَ: ( (الْتَمِسْ صَاحِبًا) ) ، قَالَ: فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا وَجَدْتَّ صَاحِبًا فَآذِنِّي) ) ، قَالَ: فَقَالَ: ( (مَنْ؟) ) ، قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: فَقَالَ: ( (إِذَا هَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ ’أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلَا تَأْمَنْهُ‘) ) ، قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْتُ الْأَبْوَاءَ، فَقَالَ لِي: إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِي، قَالَ: قُلْتُ: رَاشِدًا، فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسِرْتُ عَلَى بَعِيرِي ثُمَّ خَرَجْتُ أُوضِعُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالْأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطِهِ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا وَجَاءَنِي، قَالَ: كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، فَمَضَيْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ
عبد اللہ بن عمرو بن فغواء اپنے باپ سیّدنا عمرو بن فغواء رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا، کیونکہ آپ مجھے کچھ مال دے کر سیّدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابواء پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میں نے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2303]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عمرو بن الفغواء، قال الذھبي: لايعرف، وقال ابن حجر: مستور، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘، وعيسي بن معمر، قال ابن حجر: لين الحديث، وقال الذھبي: صالح الرواية، وقيل: ان الأزدي ضعفه، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘، أخرجه ابوداود: 4861، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22859»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
4. بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 2304
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (يَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَيَقُولُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي) )
علی بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک سواری لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے رکاب میں اپنا پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر سوار ہو گئے تو کہا: ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ ذات پاک ہے، جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کر دیا، جبکہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں، پھر تین دفعہ اللہ کی حمد اور تین دفعہ اس کی بڑائی بیان کی، پھر کہا: تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تحقیق میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، مجھ کو معاف کردے، پھر وہ ہنسے۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا، جیسے میں نے کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے، میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے، جب بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے معاف کردے، تو اللہ کہتا ہے: میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2304]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 2602، والترمذي: 3446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 753)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 753»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره