🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2305
عَنْ عَلِّي بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّةِهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهِ كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: ( (مَا مِنْ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّةَهُ فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَضَحِكَ إِلَيْهِ كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی سواری پر بٹھایا ہوا تھا، پس جب آپ سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ الحمد للّٰہ اور ایک دفعہ لا الہ الا اللّٰہ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور مسکرائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جوآدمی بھی اپنی سواری پر سوار ہو اور اس طرح کرے، جس طرح میں نے کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتے ہیں، جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنس پڑا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابوبكر بن عبد الله ابن ابي مريم الغساني الشامي ضعيف، وعلي بن ابي طلحة لم يدرك ابن عباس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3057»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2306
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَمَّنْ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَهُ عَلَى حِمَارٍ فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ: تَعَسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَقُلْ تَعَسَ الشَّيْطَانُ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ تَعَسَ الشَّيْطَانُ تَعَاظَمَ الشَّيْطَانُ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ صَرَعْتُهُ بِقُوَّتِي فَإِذَا قُلْتُ بِسْمِ اللَّهِ تَصَاغَرَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَكُونَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ (وَفِي لَفْظٍ) تَصَاغَرَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الذُّبَابِ) )
ابوتمیمہ ہجیمی ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہتے ہیں: میں گدھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، گدھے کو ٹھوکر لگ گئی، جس پر میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو جائے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اس طرح نہ کہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے، کیونکہ جب تم یہ کہتے ہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے تو شیطان دل میں اپنے آپ کو بڑا جاننے لگتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اپنی طاقت سے اس کو گرا دیا ہے، لیکن (جب ایسی صورت میں) تم بسم اللہ کہو گے تو شیطان کا نفس ذلیل ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مکھی سے بھی زیادہ چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا ذلیل ہوجاتا ہے کہ وہ مکھی کی طرح چھوٹا بن جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20867»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2307
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (عَلَى ظَهْرِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ) )
سیّدنا حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کمر پر شیطان ہے، اس لیے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا کرو، پھراپنی حاجات (کو پورا کرنے میں) سستی نہ برتو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الدارمي: 2/ 285، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 10338، وابن خزيمة: 2546، وابن حبان: 1703، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 2994، والحاكم: 1/ 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16135»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2308
عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَّمَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ( ({سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَٰذَا وَاطْوِعَنَا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا) ) ) ، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: ( (آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ) )
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے علی ازدی کو یہ تعلیم دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے،پھر پڑھتے: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس سواری کو تابع کیا ہے، جبکہ ہم اس کو تابع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اوربے شک ہم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ بے شک ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقوٰی کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے پسند ہو، اے اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان کردے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے، اے اللہ! سفر میں بھی تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی ہمارا خلیفہ ہے، اے اللہ! میں تجھ سے پنا ہ مانگتا ہوں سفر کی مشکلات سے، ناکام و غمگین واپس لوٹنے سے اور اپنے گھر اورمال میں برے منظر کو دیکھنے سے۔ اور ایک روایت میں ہے: اے اللہ! سفر میں ہمارا ساتھی بن جا اور ہمارے اہل میں ہمارا خلیفہ بن جا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس لوٹتے تویہی کلمات کہتے اور ان میں یہ الفاظ زائد کرتے: واپس لوٹنے والے ہیں، تو بہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2308]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6374»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1342
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2309
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ سَفَرًا فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ …) ) فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو سواری پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! تو سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں ہمارا خلیفہ ہے، …۔ پھر انھوں نے سابقہ روایت کے الفاظ کی طرح الفاظ ذکر کیے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 3438، والنسائي: 8/ 273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9194»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2310
عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُرَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ إِلَى الْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَٰذِهِ الْإِبِلَ ضِعَافٌ، نَخْشَى أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذِرْوَتِهِ شَيْطَانٌ فَارْكَبُوهُنَّ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِنَّ كَمَا أُمِرْتُمْ ثُمَّ امْتَهِنُوهُنَّ لِأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیّدنا ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حج کے لیے صدقہ کے کمزور اونٹوں پر سوار کیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول: یہ اونٹ تو کمزور ہیں، ہمیں تو یہ اندیشہ ہے کہ یہ ہمیں نہ اٹھا سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، اس لیے جب تم ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو، جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر ان کو اپنی خدمت کے لیے استعمال کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی اٹھاتا ہے (یعنی ان اونٹوں میں بوجھ اٹھانے پر قوت اور صبر پیدا کر دیتا ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 838، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18104»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2311
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ فَتَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ: ارْكَبْ فَأَبَى، فَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا) ) ، فَقَالَ لَهُ حَبِيبٌ إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ
عبد الرحمن بن امیہ کہتے ہیں کہ سیّدناحبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ پہلے فتنے کے وقت کی بات ہے، وہ گھوڑے پر سوار تھے، وہ گھوڑے کی زین سے پیچھے ہٹ گئے اور ان سے کہا:سوار ہوجاؤ، لیکن سیّدنا قیس رضی اللہ عنہ نے (اس مقام پر) سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ آگے سے سیّدنا حبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشادسے جاہل نہیں ہوں، لیکن میں تجھ پر(کسی دشمن سے) ڈرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2311]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3534، وفي ’’الاوسط‘‘: 1948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15557»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2312
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ارْكَبْ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي) ) ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ، قَالَ: فَرَكِبَ
سیّدنا بریدہ اسلمی کہتے ہیں: ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے، اچانک ایک آدمی، جس کے پاس گدھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سوار جائیں، جبکہ وہ خود پیچھے ہٹنے لگا،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، (میں اس کے اگلے حصے پر سوار نہیں ہوں گا، کیونکہ) تو اپنی سواری کے اگلے حصے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے، ہاں اگر تو مجھے اجازت دے دے تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: میں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس اگلے حصے پر) سوار ہوگئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2572، والترمذي: 2773، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23380»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2313
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا
سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیاکہ سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2313]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 119»

الحكم على الحديث:
حديث حسن لشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ النَّهْيِ عَنِ السَّفَرِ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2314
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
سیّدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو لے کر (دشمن کے علاقے کی طرف) سفر نہ کرو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ دشمن کے ہتھے چڑھ جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2314]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4576»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں