الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا يَقُولُ وَمَا يَصْنَعُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ
جب آدمی بارش کو دیکھے تو کیا کرے اور کیا کہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2945
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَائِمٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قِيلَ لَهُ: أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هَٰذَا بَرَكَةٌ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اوپر اولے برسائے گئے اور سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، جو کہ روزے دار تھے، نے یہ اولے کھانا شروع کر دیئے۔ کسی نے ان سے کہا: کیا تم یہ کھا رہے ہو، حالانکہ تم روزے دار ہو؟ انہوں نے کہا: بے شک یہ برکت ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2945]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن عساكر في ’’تاريخه‘‘: 6/ ورقة 625، والبزار: 1022، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14016»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن عساكر في ’’تاريخه‘‘: 6/ ورقة 625
حدیث نمبر: 2946
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔ (اے اللہ! اس کو نفع مند بارش بنا دے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2946]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24645»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1032