🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. (بَابُ) الِاسْتِسْقَاءِ بِالدُّعَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَمَنِ اسْتَسْقَا بِغَيْرِ صَلَاةٍ
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2935
عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَقَالَ: ( (إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، أَلِمُضَرَ؟) ) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَنْصَرْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَنَصَرَكَ وَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَجَابَكَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مُرِيعًا مَرِيعًا طَبَقًا غَدَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ) ) ، قَالَ: فَأُجِيبُوا، قَالَ: فَمَا لَبِثُوا أَنْ أَتَوْهُ فَشَكَوْا إِلَيْهِ كَثْرَةَ الْمَطَرِ، فَقَالُوا: قَدْ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا) ) ، قَالَ: فَجَعَلَ الْسَّحَابُ يَتَقَطَّعُ يَمِينًا وَشِمَالًا
شرجیل بن سمط نے سیّدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب بن مرۃ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو اور احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: مضر قبیلے کے لیے اللہ سے بارش کی دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو بڑا جرأت مند ہے، کیا مضر کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اللہ سے مدد مانگی تو اس نے آپ کی مدد کی اور آپ نے اللہ سے دعا کی تو اس نے قبول کی، (لہٰذا اب کی بار بھی دعا کر دیں)۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسا، جو سختی و پریشانی کو دور کرنے والی،زمین کو سر سبز کرنے والی اور اچھے انجام والی ہو اور وہ عام بارش ہو اور زیادہ پانی والی ہو، وہ جلدی آنے والی ہو، دیر کرنے والی نہ ہو، نفع دینے والی ہو، نقصان دینے والی نہ ہو۔ پس لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا اور وہ جلدی ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (دوبارہ) پہنچے اور بارش کی کثرت کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے: گھر گرنے لگ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، نہ کہ ہم پر۔ بادل پھٹ کر دائیں بائیں ہونا شروع ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2935]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سالم بن أبي الجعد لم يسمع من شرحبيل بن السمط أخرجه ابن ماجه: 1269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18234»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ تَحْوِيلِ الْإِمَامِ وَالنَّاسِ أَرْوِبَتِهِمْ فِي الدُّعَاءِ وَصِفَةِ وَوَقْتِهِ
امام اور لوگوں کا دعا کے دوران اپنی اپنی چادریں تبدیل کرنے اور ان کی کیفیت اور وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2936
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ سُفْيَانُ: قَلْبُ الرِّدَاءِ جَعْلُ الْيَمِينِ الشِّمَالَ، وَالشِّمَالِ الْيَمِينَ
ان کا چچا (سیّدنا عبداللہ بن زید مازنی) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، قبلہ رخ ہوئے، اپنی چادر کو پلٹا اور دو رکعت نماز پڑھی۔سفیان کہتے ہیں: چادر کو پلٹنا یہ ہے دائیں کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو دائیں طرف کیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2936]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 186، 192، 199، 1012، 1026، 1027، ومسلم: 894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16432، 16451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16565»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 186
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2937
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَسْقَى لَنَا أَطَالَ الدُّعَاءَ وَأَكْثَرَ الْمَسْأَلَةَ، قَالَ: ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى الْقِبْلَةِ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَقَلَبَهُ ظَهْرًا لِبَطْنٍ وَتَحَوَّلَ النَّاسُ مَعَهُ
(دوسری سند)عبد اللہ بن زید کہتے ہیں: تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے بارش مانگی تو لمبی دعا کی، اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ سوال کیا، پھر قبلے کی طرف پھرے اور اپنی چادر کو الٹا کیا اور اس کے ظاہر کو باطن کی طرف پلٹ دیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چادر کو پلٹا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2937]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16579»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16579
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2938
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلَهُ أَعْلَاهَا فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ فَقَلَبَهَا عَلَيْهِ، الْأَيْمَنُ عَلَى الْأَيْسَرِ وَالْأَيْسَرُ عَلَى الْأَيْمَنِ
سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ رنگ کی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا کہ اس کے نچلے حصے کو پکڑ کر اس کو اوپر کردیں، لیکن جب یہ کام مشکل ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کے اوپر والے حصے کوہی) پلٹ دیا، یعنی دایاں بائیں پر اور بایاں دائیں پر۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1163، والنسائي: 3/ 156، وانظر الحديث السابق: 1720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16576»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1163
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ وَذِكْرِ أَدْعِيَةٍ مَأْثُورَةٍ
استسقاء کی دعا کرتے وقت ہاتھوں کو اٹھانے اور منقول دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2939
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کی پشتوں کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2939]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 896، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12582»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 896
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2940
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ (وَفِي لَفْظٍ مِنَ الدُّعَاءِ) إِلَّا فِي الاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے،وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دعا میں اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، سوائے بارش کی دعا کے، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اتنا بلندکرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2940]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1031، 3565، ومسلم: 895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14051»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1031
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2941
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا كَفَّيْهِ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ مُقْبِلٌ بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ إِلَى وَجْهِهِ
آبی اللحم کے غلام سیّدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زوراء مقام کے قریب احجاز الزیت کے پاس بارش کے لیے دعا کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر دعا کر رہے تھے، اپنے ہتھیلیاں بلند کررکھی تھیں، البتہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر سے تجاوز نہیں کررہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کے باطنی حصے کو اپنے چہرے کی طرف متوجہ کررکھاتھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2941]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه الترمذي: 557، والنسائي: 3/ 158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21943، 21944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22290»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه الترمذي: 557
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ بِالصَّالِحِينَ وَمَنْ تُرْجَى بَرَكَتُهُمْ
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2942
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ، وَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے کبھی کبھی شاعر کا یہ قول یاد آجاتا ہے، جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہوںاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بارش کے لیے دعا کررہے ہوتے ہیں اور ابھی اس سے اترتے نہیں کہ ہر پرنالہ پانی کی کثرت سے بہہ پڑتا ہے۔مجھے شاعر کا یہ قول یاد آتا ہے: وہ سفید رنگ والا کہ جس کے چہرے کے ذریعے بادلوں سے بارش مانگی جاتی ہے وہ یتیموں کا ملجأ و مأوی ہے اور بیوہ عورتوں کے لیے ڈھال ہے۔ یہ ابو طالب کا قول ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2942]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف عمر بن حمزة بن عبد الله أخرجه ابن ماجه: 1272، وعلّقه البخاري: 1009 بصيغة الجزم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5673»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ اعْتِقَادِ أَنَّ الْمَطَرَ بِيَدِ اللَّهِ وَمَنْ خَلَقَهُ وَإِبْدَاعِهِ وَكَفَرَ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا
اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2943
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: ( (هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟) ) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ) )
سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، یہ رات کو بارش ہونے کے بعد کا موقع تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میرے بعض بندوں نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں اور بعض ستاروں پر ایمان رکھنے والے اور میرے ساتھ کفر کرنے والے ہیں۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ)جس نے کہا: ہم پر اللہ کے فضل و رحمت سے بارش ہوئی ہے، وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والا اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے یہ کہا: ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی ہے، تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2943]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 846، 1038، ومسلم: 71، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17187»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 846
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا يَقُولُ وَمَا يَصْنَعُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ
جب آدمی بارش کو دیکھے تو کیا کرے اور کیا کہے، اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2944
عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ صَنَعْتَ هَٰذَا؟ قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہم پر بارش کا نزول ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا، یہاں تک کے اسے بارش کا پانی پہنچا، آپ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2944]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12392»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 898
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں