🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى:
باب: کوئی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہ جائے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2816 ترقیم شاملہ: -- 7115
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ "، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَدَارَكَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں لے لے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7115]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی ایک کو بھی اس کا عمل نجات نہیں دلا سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اور آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میرے شاملِ حال کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7115]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2816
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2816 ترقیم شاملہ: -- 7116
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ "، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ ".
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوعبید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7116]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کر سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اور آپ کو بھی نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2816
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2816 ترقیم شاملہ: -- 7117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَاعْلَمُوا، أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَنْتَ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (عمل کے اعلیٰ ترین معیار کے) قریب تر رہنے کی کوشش کرو۔ صحیح راستہ اختیار کرو اور یقین رکھو کہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7117]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہِ راست اور درستگی کے قریب رہو اور راہِ راست پر چلو اور یقین کر لو، تم میں سے کوئی ایک بھی اپنے عمل سے نجات نہیں پا سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی نہیں، الّا یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2816
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2817 ترقیم شاملہ: -- 7118
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7118]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2817
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2817 ترقیم شاملہ: -- 7119
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا كَرِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ،
جریر نے اعمش سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ ابن نمیر کی روایت کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7119]
امام صاحب ایک اور استاد سے دونوں صحابہ ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2817
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2816 ترقیم شاملہ: -- 7120
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَأَبْشِرُوا.
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور اس میں مزید کہا: اور خوش خبری لو (کہ اس کی رحمت بہت وسیع ہے، اچھے عمل قبول ہو جائیں گے)۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7120]
امام صاحب اپنے دوسرے اساتذہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت، اس اضافے سے بیان کرتے ہیں: اور خوش ہو جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2816
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2817 ترقیم شاملہ: -- 7121
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ، وَلَا أَنَا إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نہ جنت میں لے جائے گا اور نہ دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور نہ مجھے سوائے اللہ کی طرف سے رحمت کے (جو نجات کا سبب بنے گی)۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7121]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کر سکے گا اور نہ اسے آگ سے بچائے گا اور نہ مجھے، مگر اللہ کی رحمت سے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2817
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2818 ترقیم شاملہ: -- 7122
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ "، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ "،
عبدالعزیز بن محمد اور وہیب نے کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صحیح عمل کرو، (اعلیٰ ترین معیار کے) قریب تر رہو اور (اللہ کی رحمت کی) خوش خبری (کی امید) رکھو۔ حقیقت یہی ہے کہ کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: مجھے بھی نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے چاہے کم ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7122]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درستگی اختیار کرو، اس کے قریب قریب رہو اور خوش ہو جاؤ، کیونکہ کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کر سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی نہیں، «إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ» الّا یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں ڈھانپ لے اور جان لو، اللہ کو ہی عمل پسند ہے جس پر دوام کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2818
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2818 ترقیم شاملہ: -- 7123
وحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَأَبْشِرُوا.
عبدالعزیز بن مطلب نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور خوش خبری (کی امید) رکھو ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7123]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں اور خوش ہو جاؤ۔ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2818
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب إِكْثَارِ الأَعْمَالِ وَالاِجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ:
باب: عمل بہت کرنا اور عبادت میں کوشش کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2819 ترقیم شاملہ: -- 7124
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: " أَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ابوعوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی (اتنی لمبی) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت فرما دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7124]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنی دیر تک) نماز پڑھی کہ آپ کے قدم سوج گئے۔ چنانچہ آپ سے پوچھا گیا: کیا آپ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے «ذَنْب» معاف کر دیے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2819
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں