🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب انْشِقَاقِ الْقَمَرِ:
باب: شق القمر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2801 ترقیم شاملہ: -- 7075
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ، عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، فَقَالَ: اشْهَدُوا اشْهَدُوا.
محمد بن جعفر اور ابن عدی دونوں نے شعبہ سے، شعبہ سے ابن معاذ کی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث روایت کی، مگر ابن ابی عدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کے) گواہ بن جاؤ، گواہ بن جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7075]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ہاں ابن ابی عدی رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ ہو جاؤ، گواہ ہو جاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7075]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2801
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2802 ترقیم شاملہ: -- 7076
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ "،
شیبان نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ انھیں (اپنی نبوت کی سچائی کی) کوئی نشانی دکھائیں تو آپ نے انھیں چاند کے دو ٹکڑے ہونا دکھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7076]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی کہ آپ انہیں کوئی نشانی (معجزہ) دکھائیں تو آپ نے انہیں دو دفعہ انشقاقِ قمر دکھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7076]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2802
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2802 ترقیم شاملہ: -- 7077
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ.
معمر نے ہمیں قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شیبان کی حدیث سے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7077]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7077]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2802
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2802 ترقیم شاملہ: -- 7078
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر اور ابوداود طیالسی سب نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا۔ اور ابوداود طیالسی کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند پھٹ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7078]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چاند دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، ابوداؤد رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں چاند پھٹ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7078]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2802
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2803 ترقیم شاملہ: -- 7079
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7079]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند شق ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7079]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2803
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب فَي الْكُفَّارِ
باب: کافروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2804 ترقیم شاملہ: -- 7080
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابومعاویہ اور ابواسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابوعبدالرحمان سلمی سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تکلیف دہ باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7080]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل سے بڑھ کر کوئی اذیت ناک باتوں کو برداشت کرنے والا نہیں ہے، اس کے ساتھ شریک قرار دیے جاتے ہیں اور اس کے لیے اولاد قرار دی جاتی ہے، پھر بھی وہ ایسے لوگوں کو عافیت و تندرستی عنایت فرماتا ہے اور انہیں رزق سے نوازتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2804 ترقیم شاملہ: -- 7081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے ابوعبدالرحمان سلمی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے: اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے، انہوں نے اس (قول) کو بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7081]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں، مگر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اللہ کے لیے اولاد ٹھہرائی جاتی ہے موجود نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7081]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2804 ترقیم شاملہ: -- 7082
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ ".
عبیداللہ بن سعید نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابواسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے ابوعبدالرحمان سلمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ (ابوموسیٰ اشعری) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نہیں جو تکلیف دہ باتوں پر جنھیں وہ سنتا ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا ہو، لوگ اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں، اس کی اولاد بناتے ہیں اور وہ اس (سب کچھ) کے باوجود انھیں رزق دیتا ہے، عافیت بخشتا ہے اور عطا کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7082]
حضرت عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تکلیف دہ بات سن کر، اللہ سے زیادہ برداشت کرنے والا کوئی نہیں ہے، لوگ اس کے مد مقابل ٹھہراتے ہیں اور اس کے لیے اولاد قرار دیتے ہیں، اس کے باوجود وہ انہیں روزی دیتا ہے، عافیت بخشتا ہے اور (مال و دولت) عطا فرماتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2804
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَهَبًا:
باب: کافروں سے زمین بھر سونا بطور فدیہ طلب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2805 ترقیم شاملہ: -- 7083
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لَا تُشْرِكَ أَحْسِبُهُ، قَالَ: وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ، فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعوان جونی سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص سے، جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا، فرمائے گا: اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، تمہارے پاس ہو تو (عذاب سے چھوٹ جانے کے لیے) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے، اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آگے یہ) فرمایا: اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا، مگر تم نے شرک کے سوا ہر چیز سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7083]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے عذاب والے دوزخی سے فرمائے گا: اگر تیرے پاس دنیا و مافیہا ہو تو کیا تو اس کو بطور «فِدْيَة» (تاوان) (آگ سے بچنے کے لیے) دے دے گا؟ تو وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تم سے اس سے بہت کم آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا جبکہ تو ابھی آدمی کی پشت میں تھا کہ تم «شِرْك» نہ کرنا، (میرا خیال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور میں تمہیں آگ میں داخل نہیں کروں گا، لیکن تو نے شرک کرنے پر اصرار کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7083]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2805 ترقیم شاملہ: -- 7084
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعمران سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے، اسی کے مانند، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے: اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا، انہوں نے اسے بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7084]
امام صاحب ایک اور استاد سے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، مگر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اور میں تمھیں آگ میں داخل نہیں کروں گا۔ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2805
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں