الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ أَن مَنْ نَذَرَ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الأقصى أَجْزَاء أَنْ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ¤مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
حدیث نمبر: 5391
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ صَلِّ هَاهُنَا فَسَأَلَهُ فَقَالَ صَلِّ هَاهُنَا فَسَأَلَهُ فَقَالَ شَأْنَكَ إِذًا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے فتح مکہ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مکہ فتح کر دیا تو میں بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر یہی سوال دوہرا دیا، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5391]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 3305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14981»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 5392
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى فَقَالَتْ لَئِنْ شَفَانِي اللَّهُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَبَرِئَتْ فَتَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ فَقَالَتْ اجْلِسِي فَكُلِي مَا صَنَعْتُ وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ
۔ ابراہیم بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون بیمار ہو گئی اور اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں ضرور جاؤں گی اور بیت المقدس میں نماز ادا کروں گی، جب وہ شفایاب ہو گئی اور روانہ ہونے لگی تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اس نے ام المومنین کو سلام کہا اور اپنی ساری بات بتلائی، سیدہ نے کہا: تو بیٹھ جا، میں نے جو کھانا تیار کیا، وہ کھا اور مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری مسجد میں ایک نماز، دوسری مسجدوں کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے، ما سوائے مسجد ِ حرام کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5392]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27363»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث کی روشنی میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا استدلال درست ہے، یہ صورت بھی سابقہ احادیث سے ملتی جلتی ہے اور مسجد ِ نبوی کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1396
21. بَاب قَضَاءِ الْمَنْدُورَاتِ عَنِ الْمَيِّتِ
میت کی طرف سے نذریں پوری کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5393
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنِ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْجَاهَا أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَأَنْجَاهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ فَجَاءَتْ قَرَابَةٌ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ صُومِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے بحری سفر کیا اور یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس سفر سے نجات دی تو وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی، جب اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دلا دی تو ابھی اس نے روزے نہیں رکھے تھے کہ وہ فوت ہو گئی، اس کی ایک رشتہ دار خاتون، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس کا سارا ماجرا سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی طرف سے روزے رکھ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5393]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1861»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ، صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔)) جو آدمی مرجائے اور اس پر روزے ہوں، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (بخاری، مسلم)
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1861
حدیث نمبر: 5394
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ اقْضِهِ عَنْهَا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں سوال کیا جو اس کی ماں نے مانی تھی، لیکن اس کو پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو اس کی طرف سے پورا کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5394]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2761، 6698، ومسلم: 1638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1893»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2761
حدیث نمبر: 5395
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا قَالَ أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میری ماں وفات پا گئی ہے، جبکہ ان پر ایک نذر بھی تھی، تو اب اگر میں ان کی طرف سے گردن آزاد کر دوں، توکیا یہ عمل ان کو کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ماں کی طرف سے آزاد کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5395]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24347»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5396
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے حج ادا کرنے کی نذر مانی، لیکن وہ اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تو ادا کرتا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض بھی ادا کرو، کیونکہ وہ ادائیگی کے زیادہ لائق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5396]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 66999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2140»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ میت جس نذر کو پورا نہ کر سکے، اس کے لواحقین کو چاہیے کہ وہ اس کی نذر کو پورا کر دیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 66999