🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب قوله صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ: لا نَدْرَ فِي غَضَبٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَهُ يَمِيْنِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5381
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا النَّذْرُ يَمِينٌ كَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر تو قسم ہی ہے، اس لیے اس کا کفارہ بھی نذر والا کفارہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5381]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن بلفظ: كفارة النذر كفارة اليمين كما سيأتي في الحديث الآتي، أخرجه الطبراني في الكبير:17/866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17473»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لكن بلفظ: كفارة النذر كفارة اليمين كما سيأتي في الحديث الآتي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5382
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر کا کفارہ قسم والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5382]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17452»
وضاحت: فوائد: … قسم کا کفارہ حدیث نمبر (۵۳۳۸) والے باب میں بیان کیا جا چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1645
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَاب مَا يُذْكَرُ فِيمَنْ نَذَرَ الصَّدْقَةَ بِمَالِهِ كُلِّهِ
اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5383
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میری توبہ کے قبول ہونے کا تقاضا ہے کہ میں اپنے مال کے بیچ سے نکل جاؤں اور اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کردوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال اپنے پاس رہنے دو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہو گی۔ میں نے کہا: تو پھر میں وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں،جو مجھے خیبر میںملا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2950، 3889، 4676، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27717»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میںنذر کی وضاحت تو نہیں ہے، لیکن جب سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے قبولیت ِ توبہ کی وجہ سے

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2950
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5384
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ
۔ سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرے توبہ قبول ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر آپ کے پاس رہوں اوراپنے مال کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس کے بیچ سے نکل جاؤں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال کا صدقہ تجھ سے کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5384]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسين بن السائب، روي عنه اثنان وذكره ابن حبان في الثقات وقال: يروي عن ابيه المراسيل، ثم ان في الاسناد اضطرابا، أخرجه ابوداود: 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16178»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب النهي عَنِ النَّدْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا مِنَ الْقَدْرِ
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5385
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا لَا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نذر، ابن آدم کے حق میں وہ چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدّر میں نہیں لکھی ہوتی، بلکہ میں اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیتا ہوں، کیونکہ وہ اس کے ذریعے مجھے وہ چیز دے دیتا ہے، جو عام حالات میں بخل کی وجہ سے نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5385]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6694، ومسلم: 1640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7295»
وضاحت: فوائد: … بخیل آدمی نذر کی وجہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے، وگرنہ اس کا بخل اس پر غالب رہتاہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6694
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5386
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَكِنَّهُ يَسْتَخْرِجُ مِنَ الْبَخِيلِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: بیشک یہ کسی چیز کو مقدم نہیں کرتی، البتہ بخیل سے کچھ مال نکال لیتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5386]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7207»
وضاحت: فوائد: … نذر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1640
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5387
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا مِنَ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانا کرو، کیونکہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کا ردّ نہیں کرتی، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5387]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9964»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9964
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5388
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5388]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6608، 6693، ومسلم: 1639، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5275»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَا یَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ شَیْئًا وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنْ الْبَخِیلِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: یہ تقدیر کے کسی معاملے کو پیچھے نہیںکر سکتی، بس اس کے ذریعے تو بخیل سے کچھ مال نکال لیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6608
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَنْ نَذَرَ صَوْمَ يَوْمٍ مُعَيَّنٍ فَصَادَفَ يَوْمَ عِیْدِ
اس شخص کا بیان جس نے معین دن کے روزے کی نذر مانی اور وہ دن، یومِ عید سے موافق ہو گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5389
عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى يَوْمِ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ
۔ زیاد بن جبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ہر بدھ کو روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اور اب یہ دن عید الاضحی یا عید الفطر کو آ گیا ہے، اب میں کیا کروں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی والے دن (یعنی دس ذوالحجہ کو) روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5389]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6705، ومسلم: 1139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4449»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا تعلق اس آدمی سے ہے جس نے ایک معین دن کو روزہ رکھنے کی نذر مانی، لیکن اتفاق سے وہ عید کا دن تھا۔ جو آدمی جانتے بوجھتے ہوئے عید کے دن کا روزہ رکھنے کی نذر مانے گا، اس کی نذر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل ہو گی اور اس کو پورا نہیں کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ أَن مَنْ نَذَرَ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الأقصى أَجْزَاء أَنْ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ¤مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5390
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَالنَّبِيُّ فِي مَجْلِسٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَقَامِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ لِلنَّبِيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ مَكَّةَ لَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ مُقْبِلًا مَعِي وَمُدْبِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَهُ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ ثُمَّ قَالَ الرَّابِعَةَ مَقَالَتَهُ هَذِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَصَلِّ فِيهِ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا لَقَضَى عَنْكَ ذَلِكَ كُلَّ صَلَاةٍ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ
۔ کچھ انصاری صحابہ سے مروی ہے کہ انصاری آدمی فتح مکہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابراہیم کے قریب ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مومنوں کو مکہ کی فتح عطا کی تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا، اور اب مجھے اہل شام میں سے ایک آدمی مل گیا ہے، وہ میرے ساتھ جائے گا بھی سہی اور واپس بھی آئے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو یہیں نماز پڑھ لے۔ اس بندے تین بار اپنی بات دوہرائی، ہربار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ تو یہیں نماز پڑھ لے۔ جب اس نے چوتھی دفعہ اپنی بات کو دوہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر چلا جا اور وہیں نماز ادا کر، اس ذات کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، اگر تو یہاں نماز پڑھ لیتا تو یہ عمل تجھے بیت المقدس کی ہر نماز سے کفایت کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5390]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 3306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23556»
وضاحت: فوائد: … مسجد ِ حرام کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو حکم دیا کہ وہ مسجد ِ حرام میں نماز ادا کر کے اپنی نذر پوری کر سکتا ہے، لیکن جب سائل نے تعنّت اور تکلّف سے کام لیتے ہوئے اپنے لیے سختی کو پسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو یہی مشکل کام کرنے کا حکم دے دیا۔ مسجد ِ اقصی، مسجد ِ حرام سے چالیس دنوں کی مسافت پر ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں