الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ إِثْبَاتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ
مجلس کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 5923
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فروخت کرنے والے اور خریدنے والے، دونوں کو جدا ہونے سے پہلے سودا واپس کرنے کا اختیار حاصل ہے، الا یہ کہ اختیار والا سودا ہو اور یہ حلال نہیں ہے کہ آدمی سودے کی واپسی کے ڈر سے جدائی اختیار کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5923]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3456، والترمذي: 1247، والنسائي: 7/ 251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6721»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں اس چیز کو خلاف مروت قراردیاگیا ہے کہ جلدی سے تجارت کے بعد جگہ بدل لینا تاکہ ساتھی کوتجارت کی واپسی کا موقع نہ مل سکے، اسلامی معاشرت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تجارت کا تعلق حصول دنیا سے اس طرح نہیں ہے کہ کسی دوسرے بھائی کے اختیار کا خیال ہی نہ رکھا جائے، جب چیز کو خریدنے والا یہ اندازہ کر لے کہ وہ اس چیز سے واقعی منافع حاصل کر سکے گا، پھر بھی اس کو اس نیت سے مجلس سے دور ہو جانے کی اجازت نہیں کہ فروخت کنندہ کا واپس کر لینے کا اختیار ختم ہو جائے۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ تجارت کا تعلق حصول دنیا سے اس طرح نہیں ہے کہ کسی دوسرے بھائی کے اختیار کا خیال ہی نہ رکھا جائے، جب چیز کو خریدنے والا یہ اندازہ کر لے کہ وہ اس چیز سے واقعی منافع حاصل کر سکے گا، پھر بھی اس کو اس نیت سے مجلس سے دور ہو جانے کی اجازت نہیں کہ فروخت کنندہ کا واپس کر لینے کا اختیار ختم ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3456
حدیث نمبر: 5924
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا فِي خِيَارٍ
۔ سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرید وفروخت کرنے والے دونوں افراد کو جدا ہونے سے پہلے سودا واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، یا پھر ان کی بیع اختیار والی ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5924]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 2568، وابن ابي شيبة: 7/ 125، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 912، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8085»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 2568
حدیث نمبر: 5925
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَفَرَّقُ الْمُتَبَايِعَانِ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ
۔ سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجارت کرنے والے دو آدمیوں کو رضامندی کے ساتھ جدا ہونا چاہئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5925]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 3458، والترمذي: 1248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10935»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {یٰاَیُّّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ} … ”اے ایماندار و! اپنے مال آپس میں باطل طریقہ سے مت کھاؤ، مگر آپس میں رضامندی کی تجارت ہوتو جائز ہے۔“ (سورۂ نسائ: ۲۹)
تجارتی لین دین کا انحصار دونوں فریقوں کی رضامندی پر ہے۔
تجارتی لین دین کا انحصار دونوں فریقوں کی رضامندی پر ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 3458