الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ اشْتَرَاطِ مَنْفَعَةِ الْمَبِيعِ وَمَا فِي مَعْنَاهُ
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 5914
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لِي فَأَعْيَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَدَعَا لَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ وَقَالَ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ فَكَرِهْتُ أَنْ أَبِيعَهُ قَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ مِنْهُ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَقَالَ ظَنَنْتَ حِينَ مَاكَسْتَكَ أَنْ أَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ هُمَا لَكَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک اونٹ پہ سوار ہو کر سفر کر رہا تھا، اچانک وہ تھک گیا، میں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں سے اس کو ٹھوکر لگائی اور اس کے لیے دعا کی، پھر وہ ایسی چال چلاکہ کبھی بھی ایسی چال نہ چلاتھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ ایک اوقیے کے عوض مجھے فروخت کر دو۔ لیکن میں اس کا سودا کرنا ناپسند کر رہا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے بیچ دو۔ پس میں نے بیچ تو دیا لیکن اپنے گھر والوں تک سواری کرنے کی شرط لگالی، جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے کم قیمت لگا کر تیر ا اونٹ لینا چاہا ہے، یہ لو اپنا اونٹ اور یہ لو اس کی قیمت، دونوں چیزیں تمہاری ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5914]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 5079، 5245، 5247، ومسلم: ص 1088، 1221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14244»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اونٹ خریدا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا تھا، لیکنیہ شرط لگائی تھی کہ وہ مدینہ منورہ تک اسی پر سفر کریں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5915
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص غلام فروخت کرے اور غلام کے پاس مال ہوتو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا اور اس غلام کا قرض بھی اسی بائع کے ذمہ ہو گا، الا یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5915]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14376»
وضاحت: فوائد: … اصل مسئلہ یہ ہے کہ تجارت کی ممنوعہ صورتوں اور شرطوں کا علم ہوناچاہیے، ہر وہ شرط جو شریعت کی کسی شق کی مخالفت نہیں کرتی اور جس سے شریعت نے منع نہیں کیا، وہ جائز ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَاب صِحَةِ الْعَقْدِ مَعَ الشَّرْطِ الْفَاسِدِ
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q5915
فِيهِ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَمَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُهَا لَهُمْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ انظر فتح الربانی: 2/2300
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جب انھوں نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ وَلاء ان کی ہو گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خریدکر آزاد کر دو، وَلاء صرف اسی کی ہوتی ہے، جوآزاد کرتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: Q5915]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2155، 2565، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24554»
وضاحت: فوائد: … وَلاء ایک رشتہ اور تعلق ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں، وَلاء صرف آزاد کنندہ کا حق ہے اور یہ حق بھی نسب کی طرح کا ہے، اس لیے نہ اس کو فروخت یا ہبہ کیا جا سکتاہے اور نہ شرط کے ذریعے اصل مستحق کو محروم کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ شَرْطِ السَّلَامَةِ مِنَ الْغَيْنِ وَالْحَدَاعِ فِي الْبَيْعِ
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 5916
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَفِي لَفْظٍ مِنْ قُرَيْشٍ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ وَكَانَ فِي لِسَانِهِ لُوثَةٌ فَشَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْقَى مِنَ الْغَبْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ قَالَ يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُهُ يُبَايِعُ وَيَقُولُ لَا خِلَابَةَ يُلَجْلِجُ بِلِسَانِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری یا قریشی آدمی سودے میں دھوکہ کھاتا رہتا تھا، اس کی زبان میں اٹکن تھی، پس اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہونے والے خسارے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جب تو سودا کرنے لگے تو کہہ: دھوکہ نہ ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا اب بھی میں اس کو یہ اٹک اٹک کر بولتے ہوئے کہتے سن رہا ہوں کہ دھوکہ نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5916]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:2117، 2407، 6964، ومسلم: 1533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6134»
وضاحت: فوائد: … اس آدمی کو یہ تعلیم دی گئی کہ جب وہ کسی سے سودا کرے تو اسے یہ کہے کہ بھائی سودے میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اندازہ کر لیں گے کہ یہ ضعیف رائے والا آدمی ہے، اس لیے وہ اس پر رحم کریں گے، جبکہ وہ رحم و کرم والا زمانہ تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5917
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي عَقْلِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكِ الْبَيْعِ فَقُلْ هُوَ هَاءَ وَهَاءَ وَلَا خِلَابَةَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی تجارت کیا کرتا تھا، اس کی عقل میں کچھ کمزور تھی، اس لیے اس کے گھروالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! آپ اس آدمی پر پابندی لگا دیں، کیونکہ وہ سودے کرتا ہے اور اس کے عقل میں کمزوری ہے (اس طرح نقصان اٹھا بیٹھتا ہے)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور تجارت کرنے سے منع کر دیا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تجارت کے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اِس لین دین کو نہیں چھوڑ سکتا تو سودا کرتے وقت کہا کر: لیجئے جناب اور دیجئے، لیکن دھوکہ نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5917]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3501، وابن ماجه: 2354، والترمذي: 1250، والنسائي: 7/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13309»
وضاحت: فوائد: … اس صورت میں جب دھوکہ ہوجائے گا توتین دن تک واپسی کا اختیار ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5918
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ قِصَّةً فِيهَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ خُيِّرَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا وَبَيْنَ آنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ فَاخْتَارَ الْآنِيَةَ قَالَ فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنْ دَارِينَ فَبَاعَهُمْ إِيَّاهَا الْعَشْرَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ثُمَّ لَقِيَ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ خَدَعْتُهُمْ قَالَ كَيْفَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرُدَّنَّهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا
۔ محمد ایک قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب وہ آئے توعبداللہ کو تیس ہزار اورچاندی کے برتنوں کے درمیان اختیار دیاگیا، انہوں نے برتن کو اختیار کیا، پھر جب (بحرین کے علاقے) دارِ ین سے تا جر آئے تو عبداللہ نے ان کو اس چاندی کے دس برتن، تیرہ برتنوں کے عوض فروخت کر دیئے، پھر جب وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملے تو کہا: کیا تمہیں پتہ چلا ہے کہ میں نے ان کو کیسے دھوکہ دیا ہے؟ انھوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ پھر اس نے ساری تفصیل بتائی،یہ سن کر سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھ پر عزم کرتا ہوں یا تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو یہ سودا واپس کر دے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس قسم کی تجارت سے منع کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5918]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20798»
وضاحت: فوائد: … معلوم ایسے ہوتا ہے کہ یہ چاندی کے عوض چاندی کی بیع تھی، جس میں ایک طرف سے زیادہ مقدار وصول کی گئی تھی، اس تفصیل کی بنیاد سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس میں انھوں نے چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابربرابر فروخت کرنے کی شرط کی بات نقل کی ہے، یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ إِثْبَاتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ
مجلس کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 5919
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا رُزِقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک (تجارت فسخ کرنے کا) اختیار رہتا ہے، جب تک جدانہ ہوں، اگردونوں نے تجارت میں سچائی سے کام لیا اور پوری وضاحت کردی تو ان کو اس تجارت کی برکت ملے گی اور اگر جھوٹ بولا اور (عیوب وغیرہ کو) چھپا لیا تو ان کی تجارت سے برکت اٹھا لی جائے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5919]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2108، 2114، ومسلم: 1532، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15661»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5920
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا
۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والے دو آدمیوں کو اس وقت تک (بیع فسخ کرنے کا) اختیار ہوتا ہے، جب تک جدا نہ ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5920]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3457، وابن ماجه: 2182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20051»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5921
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں کو جدا ہونے تک سودا واپس کرنے کا اختیار ہوتا ہے، الا یہ کہ وہ اختیار والی تجارت ہو، یا ایک دوسرے سے کہے: تجھے اختیار ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5921]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3457، وابن ماجه: 2182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19813 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4484»
وضاحت: فوائد: … بیع خیار (اختیار والی تجارت) کا مفہوم یہ ہے کہ بائع نے مشتری کو اختیار دیا ہو یا مشتری نے اختیار کی شرط لگائی ہو، ایسی صورت میں جدائی کے بعد بھی اختیار باقی رہے گا، جب تک مقررہ مدت پوری نہ ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5922
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دوآدمی آپس میں لین دین کریں تو ان میں سے ہر ایک کو جدا ہونے تک سودا واپس کرنے کا اختیار ہے، یا پھر ایک دوسرے کو اختیار دے اور وہ اختیار قبول کر لے اور پھر اس پر بیع کر لیں تو سودا پکا ہو جائے گا اور اگر وہ بیع کرنے کے بعد اس حال میں جدا ہوئے کہ کوئی بھی تجارت کو ترک کرنے والا نہ ہو تو پھر بھی سودا ثابت ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5922]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6006»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میںیہ اضافہ ہے: امام نافع نے کہا: جب سیدنا ابن عمرd کسی سے کوئی چیز خریدتے اور وہ ان کو پسند ا ٓجاتی تو وہ فروخت کنندہ سے جدا ہو جاتے (تاکہ اس کا واپسی کا اختیار ختم ہو جائے)۔
ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر d کو درج ذیل حدیث کا علم نہ ہو، جس میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر d کو درج ذیل حدیث کا علم نہ ہو، جس میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح