الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ إِثْبَاتِ الرُّشْدِ وَعَلَامَاتِ الْبُلُوغ
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 6081
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ ثُمَّ عَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَهُ
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کو غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کی عمر چودہ برس تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت نہ دی، پھر ان کو پندرہ برس کی عمر میں غزوۂ خندق کے موقع پر پیش کیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6081]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2664، ومسلم: 1868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4661»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں جنگ کا معاملہ بیان کیا گیا ہے کہ کتنے وجود اور طاقت کا آدمی جا سکتا ہے اور کون سا نہیں جا سکتا، چودہ یا پندرہ برس کی عمر کا بلوغت یا عدم بلوغت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ عمر کو اس ضمن میں معیار قرار دیا جا سکتا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نو سال کی عمر میں بالغ ہو گئی تھیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2664
حدیث نمبر: 6082
عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خِمْرَةٍ قَدْ حِضْنَ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي خِمَارٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَكَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى عَلَيَّ حَقْوَهُ فَقَالَ شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي فِي حِجْرِ أُمِّ سَلَمَةَ فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ أَوْ لَا أَرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ سیدہ ام طلحۂ طلحات صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور دیکھا کہ بالغہ بچیاں بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی تھیں، پس انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک دفعہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میری پرورش میں ایک لڑکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ازار مجھے دیا اورفرمایا: یہ لڑکی اور ام سلمہ کی تربیت میں پرورش پانے والے لڑکی،یہ ازار پھاڑ کر ان دونوں کو دے دو، کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6082]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 642، والترمذي: 377، وابن ماجه: 655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25153»
وضاحت: فوائد: … حیض کے خون کا شروع ہو جاناعورت کے لیے بلوغت کی علامت ہے۔
بلوغت اور عدم بلوغت کی علامتوں کا خلاصہ یہ ہے: علمائے امت کا اس چیز پر اتفاق ہے کہ احتلام مردو زن دونوں کے بالغ ہونے کی اور حیض اور حمل عورت کے بالغ ہونے کی علامت ہیں۔ شافعیہ کا خیال ہے کہ زیرناف بالوں کو کافروں کے بالغ یا نابالغ ہونے کی علامت قرار دیا جائے گا، کیونکہ کفر کی وجہ سے ان کی ان باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی عمر کتنی ہے یا ان کو احتلام ہو چکا ہے یا نہیں،یاان کی بچیوں کو حیض آ چکا ہے یا نہیں۔
بلوغت اور عدم بلوغت کی علامتوں کا خلاصہ یہ ہے: علمائے امت کا اس چیز پر اتفاق ہے کہ احتلام مردو زن دونوں کے بالغ ہونے کی اور حیض اور حمل عورت کے بالغ ہونے کی علامت ہیں۔ شافعیہ کا خیال ہے کہ زیرناف بالوں کو کافروں کے بالغ یا نابالغ ہونے کی علامت قرار دیا جائے گا، کیونکہ کفر کی وجہ سے ان کی ان باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی عمر کتنی ہے یا ان کو احتلام ہو چکا ہے یا نہیں،یاان کی بچیوں کو حیض آ چکا ہے یا نہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 642