🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مُلازَمَةِ الْمَلِي وَعُقُوبَتِهِ بِالْحَبْسِ وَاطْلَاقِ الْمُعْسِرِ
قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6071
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ ظُلْمٌ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ قَالَ وَكِيعٌ عِرْضَهُ شَكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ حَبْسَهُ
۔ سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، یہ چیز اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتی ہے۔ امام وکیع نے کہا: بے عزتی سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مرا اس کو قید کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6071]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 3628، وابن ماجه: 2427، والنسائي: 7/ 316، وعلقه البخاري في الاستقراض باب لصاحب الحق مقال، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18110»
وضاحت: فوائد: … غنی آدمی کی قید لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ تنگ دست آدمی اس حکم سے مستثنی ہو گا اور اس کو مزید مہلت دی جائے گییا اس کو معاف کر دیا جائے گا۔
خلیفہ اور حکمران کو حق حاصل ہے کہ کسی شبہ یا جرم کی بنا پر آدمی کو قید کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV حَبَسَ رَجُلًا فِیْ تُھْمَۃٍ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی تہمت کی وجہ سے ایک آدمی کو قید کر لیا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۳۰، ترمذی: ۱۴۱۷، نسائی: ۴۸۷۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6072
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ قَالَ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6072]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1556، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11337»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب مفلس کا مال اس کے ذمہ قرضوں سے کم ہو گا تو پھر بھی اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اس مال کو اپنے قرض خواہوں کے سپرد کر دے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَاب مَنْ وَجَدَ سِلْعَتَهُ عِنْدَ رَجُلٍ اِبْتَاعَهَا مِنْهُ وَقَدْ أَفْلَس
جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ وَفِي لَفْظٍ مَتَاعَهُ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ
۔ سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بعینہ اپنا مال و متاع اس آدمی کے پاس پاتا ہے، جو مفلس ہوچکا ہے تو وہ دوسرے قرض خواہوں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق رکھتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6073]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2402، ومسلم 1559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7124»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6074
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَوَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالَهُ وَلَمْ يَكُنِ اقْتَضَى مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی مفلس ہو جائے اور اس کا ایک قرض خواہ اپنا مال اس کے پاس پا لے اور اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو تو وہ مال اسی کا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6074]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10807»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6075
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرض خواہ، مفلس کے پاس اپنا مال بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6075]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20370»
وضاحت: فوائد: … تینوں احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو جانے والے شخص کے پاس بعینہ اپنا سامان پا لے تو وہ اسی کا ہو گا، مفلس کے باقی قرض خواہوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، بشرطیکہ اس نے اس کی قیمت میں کچھ بھی وصول نہ کیا ہو۔ حدیث کے الفاظ سے یہ شرط بھی سمجھ آرہی ہے کہ ابھی تک خریدار نے کسی کے مال میں کوئی تصرف نہ کیا ہو تو پھر اصل مالک زیادہ حقدار ہوگا۔ اگر خریدار نے مال میں کوئی تصرف کرلیا ہو، اس کی حالت میں کوئی تبدیلی وغیرہ کرلی ہو، اس میں کچھ استعمال کرلیا ہو تو اصل مالک زیادہ حقدار نہیں ہوگا۔ بلکہ عام قرض خواہوں کی طرح حصہ کے مطابق حقدار ہوگا۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْحَجْرِ عَلَى السُّفَهَاءِ وَذِكْرِ مَنْ يُحْجَرُ عَلَيْهِ
بیوقوفوں پر پابندی لگانے کا اور ان لوگوں کابیان، جن پر پابندی لگائی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6076
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي عَقْلِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكِ الْبَيْعِ فَقُلْ هُوَ هَاءَ وَهَاءَ وَلَا خِلَابَةَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی تجارت کیا کرتا تھا، اس کی عقل میں کچھ کمزوری تھی، اس لیے اس کے گھروالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے رسول! آپ اس آدمی پر پابندی لگا دیں، کیونکہ وہ سودے کرتا ہے اور اس کے عقل میں کمزوری ہے (اس طرح نقصان اٹھا بیٹھتا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور تجارت کرنے سے منع کر دیا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تجارت کے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اِس لین دین کو نہیں چھوڑ سکتا تو سودا کرتے وقت کہا کر: لیجئے جناب اور دیجئے، لیکن دھوکہ نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6076]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3501، وابن ماجه: 2354، والترمذي: 1250، والنسائي: 7/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13309»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی عذر کی بنا پر کسی شخص پر اس کے بعض معاملات کے سلسلے میں پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو سودا کرنے کا جو طریقہ سکھایا ہے، اس کی وضاحت حدیث نمبر (۵۹۱۶)میں گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ إِثْبَاتِ الرُّشْدِ وَعَلَامَاتِ الْبُلُوغ
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6077
عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ فَأَجَابَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ يُتْمِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي وَلَعَمْرِي أَنَّ الرَّجُلَ تُنْبِتُ لِحْيَتُهُ وَهُوَ ضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ فَإِذَا كَانَ يَأْخُذُ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ الْيُتْمُ الْحَدِيثَ
۔ یزید بن ہرمز کہتے ہیں: نجدہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پانچ باتیں پوچھنے کے لیے ایک خط لکھا، … … ان میں ایک بات یہ تھی کہ یتیم کی یتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں لکھا: تونے مجھ سے سوال کیاہے کہ یتیم کی یتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، مجھے میری عمر کی قسم ہے کہ آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے معاملہ میں کمزور گر فت والا رہتاہے، جب وہ لوگوں کے معاملات میں سے اپنے لیے اچھی چیز کا انتخاب کر سکتا ہو تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6077]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2811»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6078
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ قَالَ إِذَا احْتَلَمَ وَأُونِسَ مِنْهُ خَيْرٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور یتیم کے بارے میں سوال کیا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ انھوں نے کہا: جب وہ بالغ ہو جائے اور اس سے بھلائی محسوس کی جانے لگے۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6078]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2685»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ معاشرے کے سمجھ دار لوگ آسانی کے ساتھ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ فلاں بچہ بالغ ہو جانے کے بعد مال و دولت سنبھالنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، دیکھا گیا ہے کہ بعض بچے بالغ ہونے سے پہلے بلا کے سمجھ داراور معاملات میں مضبوط گرفت والے ہوتے ہیں، جبکہ بعض بالغ ہونے کے بعد بھی نا سمجھ اور نا عاقبت اندیش رہتے ہیں، بہرحال یہ معاملہ قابل فہم ہے اور آسانی سے اس کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6079
عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَرْجُمَ مَجْنُونَةً فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لَكَ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَعْقِلَ فَأَدْرَأَ عَنْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو اس طرح کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے آدمی سے، یہاں تک کہ وہ بیدارہوجائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے اور پاگل سے، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے حد کو ہٹا دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6079]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4403، وابن ماجه: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1183»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6080
عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيَّ هَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَخَلَّى عَنِّي وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ
۔ سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے قریظہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، جب لوگوں کو میرے بالغ یا نابالغ ہونے میں شک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیاکہ دیکھا جائے کہ آیا میرے زیر ناف بال اگے ہوئے ہیں یا نہیں، پس جب انھوں نے دیکھا کہ میرےیہ بال اگے ہوئے نہیں ہیں تو مجھے چھوڑ دیا اور قیدیوں میں شامل کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب التفليس والحجر/حدیث: 6080]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4404، والنسائي: 6/ 155، وابن ماجه: 2542، والترمذي: 1584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23036»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ خندق کے موقع پر یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ نے عہد شکنی کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گئے، انھوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے، اب جس بچے کے بارے میں بالغ ہونے یا نہ ہونے کا شک گزرتا تو اس کے زیر ناف بال دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا، اگر وہ اگ چکے ہوتے تو اس کو بالغ مرد سمجھ کر قتل کر دیا جاتا اور بصورتِ دیگر اس کو بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ زیر ناف بال بلوغت اور عدم بلوغت کے مابین حد فاصل ہیں، لیکن کیایہ عام قانون ہے؟ اس باب کی آخری حدیث کے فوائد دیکھیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»