الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الْإِجَارَةِ
اجارہ کی مشروعیت کا بیان
حدیث نمبر: 6132
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ لَهُ أَجْرُهُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدوری کا تعین کرنے سے پہلے مزدور کو کام پر لگانے سے، بیع نجش سے، بیع لمس سے اور پتھر پھینکنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6132]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله ’’نھي عن استئجار الأجير حتييبين له اجره‘‘ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من ابي سعيد۔ أخرجه النسائي موقوفا: 7/31، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11586»
وضاحت: فوائد: … بیع نجش اور بیع لمس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے، پتھر پھینکنے سے مراد کنکریوں کی بیع ہے، اس کی وضاحت بھی پہلے ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6133
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ فَمَرُّوا عَلَى قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوا جَزُورًا فَقُلْتُ أُعَالِجُهَا لَكُمْ عَلَى أَنْ تُطْعِمُونِي مِنْهَا شَيْئًا فَعَالَجْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِي أَعْطَوْنِي فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ثُمَّ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُورِ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ایک غزوہ کیا، اس میں ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے، ہوا یوں کہ ہم سخت بھوک میں مبتلا ہوگئے، ہم ایک قوم کے پاس سے گزرے، انھوں نے اونٹ ذبح کئے ہوئے تھے۔ میں (عوف) نے ان سے کہا: اگر تم مجھے بھی ان میں سے کھلاؤ تو میں تمہیں ان کا گوشت وغیرہ بنا کر دے سکتا ہوں؟انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ میں نے ان کاکام کیا اورانہوں نے مجھے کھانے کے لیے کچھ دیا، میں وہ لے کر سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، لیکن انہوں نے تو کھانے سے انکار کردیا، پھر میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، لیکن انہوں نے بھی کھانے سے انکارکردیا، پھر جب فتح مکہ کے موقع پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ اونٹوں والے تم ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! اس سے زائد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6133]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد۔ أخرجه الطبراني: 18/ 131، والبيھقي في ’’الدلائل‘‘: 6/ 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24478»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابو عیبدہdکے نہ کھانے کی وجہ یہ ہو کہ سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے بھوک برداشت کرنے پر صبر نہیں کیا، ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ساری تفصیل بتائی تو انھوں نے کہا: اسمعک قد تعجلت اجرتک۔ … ”میں تیرے بارے میں سن رہا ہوں کہ تو نے جلدی جلدی اپنا اجر لے لیا ہے۔ پھر جب سیدنا عوف رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور کامیابی کی خوشخبری دینے کے لیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کیے پر انکار نہیں کیا، بہرحال سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے جائز کام کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6134
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ فَأَتَيْتُهَا فَقَاطَعْتُهَا كُلَّ ذَنُوبٍ عَلَى تَمْرَةٍ فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ بِكَفَّيَّ هَكَذَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ أَحَدَ الرُّوَاةِ يَدَيْهِ وَجَمَعَهُمَا فَعَدَّتْ لِي سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ جب میں مدینہ میں تھا، مجھے بہت سخت بھوک لگی، پس میں کسی کام کی تلاش میں مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی جانب نکلا، اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ مٹی جمع کر چکی تھی اور اب اس کو گارا بنانا چاہتی تھی، میں اس کے پاس آیا اور اس سے ایک ایک ڈول کے بدلے ایک ایک کھجور لینے کا طے کیا، پس میں نے کنوئیں سے پانی کے سولہ ڈول کھینچے، ان کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے، پھر میں نے وہ پانی لا کر مٹی پر ڈالا اور پھر اس خاتون کے پاس آیا مزدوری لینے کے لیے اس کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلادیں، اسماعیل راوی نے کیفیت بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور جمع کیا، پس اس عورت نے گن کر سولہ کھجوریں مجھے دیں، پس میں وہ کھجوریں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ وہ کھجوریں کھائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6134]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، مجاھد بن جبر لم يسمع عليا۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1135»
الحكم على الحديث: ضعیف
2. بَابُ مَتٰی يَسْتَحِقُّ الأجيرُ أَجْرَهُ، وَوَعِيدِ مَنْ لَمْ يُوَفِ حَقَّهُ
مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6135
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوَفِّهِ أَجْرَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: روزِ قیامت تین آدمیوں کا مقابل میں ہوں گا اور جس کا مقابل میں ہوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: (۱) وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد کیا، لیکن پھر اسے توڑ ڈالا، (۲) وہ آدمی جو آزاد آدمی کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھاگیا، اور(۳) وہ آدمی جس نے مزدور رکھا اور اس سے کام پورالیا، مگر اس کی مزدوری پوری طرح ادانہ کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6135]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2227، 2270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8677»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6136
وَعَنْهُ أَيْضًا فِي حَدِيثٍ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُغْفَرُ لِأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کی آخری رات میں میری امت کے لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب قدر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بات یہ ہے کہ جب عامل کام پورا کرتا ہے تو اس کو پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6136]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، هشام بن ابي هشام القرشي متفق علي ضعفه، ومحمد بن محمد بن الاسود مجھول الحال۔ أخرجه البزار: 963، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3602، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7904»
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُجْرَةِ الْحَجَامِ
سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 6137
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ حَجَمَهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَكَانَ أَجْرُهُ مُدًّا وَنِصْفًا فَكَلَّمَ أَهْلَهُ حَتَّى وَضَعُوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا وَفِي لَفْظٍ سُحْتًا مَا أَعْطَاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی دو رگوں میں اور دوکندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی تھی، اس کی اجرت ڈیڑھ مد تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالکوں سے رعایت کی بات کی تو انھوں نے نصف مد کم کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غلام کو سینگی لگانے کی اجرت دی تھی، اگریہ حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نہیں دینی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6137]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطبراني: 12586، وأخرجه مختصرا ابو يعلي: 2362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3078م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3078»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6138
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ كَمْ خَرَاجُكَ قَالَ صَاعَانِ فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر جب سینگی لگانے والا فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیری مزدوری کتنی ہے؟ اس نے کہا: جی دو صاع ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک صاع کی رعایت کروا کر مجھے ادائیگی کے لیے حکم دیا، پس میں نے اس کو
ایک صاع دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6138]
ایک صاع دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6138]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1136»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6139
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَخَفَّفُوا عَنْهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اناج کا ایک صاع دیا اور اس کے مالک سے اس پر آسانی کرنے کی سفارش کی، پس انھوں نے اس سے تخفیف کر دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6139]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5696، ومسلم: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11988»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6140
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ کسی کاحق نہیں مارتے تھے، (یعنی اس کو اس کی اجرت دی)۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6140]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2280، ومسلم: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12230»
وضاحت: فوائد: … ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ سینگی لگانے والے کو اجرت دینا درست ہے، لیکن مکروہ ہے، جن روایات میں اس کی کمائی کو خبیث کہا گیا ہے، اس سے مراد حرام نہیں ہے، مکروہ ہے، کیونکہیہ اچھا پیشہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بابُ مَا جَاءَ فِي الْأُجْرَةِ عَلَى الْقُرَبِ
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 6141
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6141]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2595،و البزار: 2320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15620»
وضاحت: فوائد: … آخری دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے سلسلے میں اعتدال اختیار کیا جائے اور افراط و تفریط سے بچا جائے، نہ اس طرح ہونے پائے کہ آدمی اس کی تلاوت سے دور ہو جائے اور نہ یہ صورت صحیح ہے کہ آدمی غلوّ کرتے ہوئے اس کی حدود سے تجاوز شروع کر دے۔
الحكم على الحديث: صحیح