الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ دِيَةٍ أَهْلِ الذَّمَّةِ وَالْمُكَاتَبِ
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 6600
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو لوگوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کرنے کیلئے کھڑے ہوئے، … یہ ایک طویل حدیث ہے …، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6600]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1585، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6692»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1585
حدیث نمبر: 6601
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ يُؤَدَّى لِمَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکاتَب کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اگر اس کو قتل کر دیا جائے تو وہ اپنی مکاتَبت میں سے جتنا حصہ ادا کر چکا تھا، اس کی اتنی دیت آزاد آدمی کی ادا کی جائے گی، اور جتنا حصہ باقی تھا، اتنی دیت غلام کی ہو گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6601]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابوداود: 4581، والنسائي: 8/ 46، والترمذي: 1259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3423»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مکاتَب قتل ہو جائے تو اس کے قاتل کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکاتَب کتابت کا جتنا حصہ ادا کر چکا تھا، اس کے مطابق اس کے وارثوں کو آزاد کی دیت ادا کرے اور اس کا جتنا حصہ ابھی تک غلام تھا، اس کے مطابق اس کے مالک کو غلام کی دیت ادا کرے۔ مثلا جو غلام نصف رقم ادا کر چکا ہو، وہ نصف آزاد ہو گا اور نصف غلام، اس حالت میں اگر وہ قتل ہو جائے تو نصف آزاد حصے کی دیت پچاس اونٹ ہو گی اور باقی نصف غلام کی دیت دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ غلام کی دیت کیسے دی جائے گی؟ تو گزارش ہے کہ اس مسئلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مرفوع روایت نہیں ملتی، لیکنیہ مسئلہ اہل علم کے درمیان اس طرح مشہور ہے کہ غلام کی دیت میں اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی، آگے اختلاف کی ایک اور صورت بھی ہے کہ اگر غلام کی قیمت آزاد آدمی کی دیت سے بھی زیادہ ہو جائے تو کیا اس کی قیمت کیادائیگی لازم ہو گییا نہیں؟ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ قیمت لازم ہو گی۔ واللہ اعلم۔
مکاتب: … اس غلام کو کہا جاتا ہے جو اپنا معاوضہ ادا کرنے کا معاہدہ اپنے مالک سے کر لے، ایسا غلام جب تک معاوضہ ادا نہ کر دے، وہ اس مالک کا غلام ہی رہتا ہے۔
مکاتب: … اس غلام کو کہا جاتا ہے جو اپنا معاوضہ ادا کرنے کا معاہدہ اپنے مالک سے کر لے، ایسا غلام جب تک معاوضہ ادا نہ کر دے، وہ اس مالک کا غلام ہی رہتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابوداود: 4581
حدیث نمبر: 6602
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤَدَّى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتب جتنی ادائیگی کر چکا ہو، اس کی اتنی آزاد کی دیت ادا کی جائے گی اور جتنی قسطیں باقی ہوں، اتنی غلام کی دیت دی جائے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6602]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3489»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3489
حدیث نمبر: 6603
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤَدَّى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ دِيَةَ الْعَبْدِ
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتَب کی ادائیگی کے مطابق آزاد کی دیت ادا کی جائے گی اور جتنا حصہ وہ غلام ہو گا، اتنے حصے کی غلام کی دیت ادا کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6603]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2356»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2356
حدیث نمبر: 6604
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤَدَّى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکاتب کو اس کی ادائیگی کی مقدار کے مطابق دیت ادا کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6604]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البيھقي: 10/ 325، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 723»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه البيھقي: 10/ 325
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْجَنِينِ
جنین کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 6605
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَلْقَتْ جَنِينًا فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اس کا جنین گرا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جنین کی دیت کے طور پر ایک لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6605]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5759، 6904، ومسلم: 1681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7216»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5759
حدیث نمبر: 6606
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ أَيُعْقَلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الْقَوْلَ لَقَوْلُ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنین کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا، جس پر یہ فیصلہ کیا گیا، اس نے کہا: کیا اس کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا، اس قسم کا نفس تو رائیگاں ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ باتیں تو شاعروں والی ہیں، میں کہہ رہا ہوں کہ جنین میں ایک غلام یا ایک لونڈی دیت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6606]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10472»
وضاحت: فوائد: … جنین: رحم مادر میںرہنے والے بچے کو جنین کہتے ہیں، وہ بھی ایک نفس ہوتا ہے، لیکن اس کی دیت دوسری جانوں سے کم ہوتی ہے، ایک غلام یا لونڈی اس بچے کی دیت ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10472
حدیث نمبر: 6607
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى لِحَمْلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ بِمِيرَاثِهِ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى وَقَضَى فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا قَالَ وَكَانَ لَهُ مِنْ امْرَأَتَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَلَدٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمُقْضَى عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی کے لئے ان کی اس بیوی سے وراثت حاصل کرنے کا فیصلہ دیا تھا، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایاتھا کہ قتل ہونے والے جنین کی دیت ایک لونڈی یا ایک غلام ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس مقتولہ عورت کے بیٹے اور خاوند اس کے وارث بنیں گے۔ حمل بن مالک کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قاتلہ کے باپ، جس نے ایک غلام یا ایک لونڈی دینی تھی، نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کس طرح بھروں، جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، اس قسم کے نفس تو رائیگاں ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو نجومیوں میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6607]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،الفضيل بن سليمان النميري لين الحديث، واسحاق بن يحيي بن الوليد مجھول الحال، ثم روايته عن جده عبادة مرسلة، لكن قصة حمل بن مالك ھذه صحيحة بالشواھد۔ أخرجه ابن ماجه: 2643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6608
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عَقْلِ الْجَنِينِ إِذَا كَانَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَقَضَى بِذَلِكَ فِي امْرَأَةِ حَمْلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيِّ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنین کی دیت کے بارے میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کی بیوی کے بارے میں یہی فیصلہ دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6608]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7026»
وضاحت: فوائد: … شغارکی تفصیل نکاح والے ابواب میں دیکھیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6609
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَأْتِ بِأَحَدٍ يَعْلَمُ ذَلِكَ فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مشورہ کیا کہ جب عورت (کسی کے چوٹ وغیرہ مارنے سے) قبل از وقت بچہ گرادے، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک لونڈی یا غلام دینا ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو ایسا گواہ پیش کرو جو اس معاملے کو جانتا ہو، پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6609]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6908، ومسلم: 1683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18316»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6908