الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَنْ قُتِلَ وَالِدُهُ خَطَأَ فَتَصَدَّقَ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت¤کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
حدیث نمبر: 6610
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَا يَعْرِفُونَهُ فَقَتَلُوهُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدِيَهُ فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ
۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کی تلواریں سیدنایمان رضی اللہ عنہ پر چل گئیں، جبکہ وہ ان کو جانتے نہیں تھے، سوانھوں نے ان کو قتل کر دیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دیت دینا چاہی لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر خیرات کر دی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6610]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 3/ 202، والبيھقي: 8/ 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24039»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والدسیدنایمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا ثابت بن وقش رضی اللہ عنہ کو عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑا تھا، یہ دونوں بہت بوڑھے تھے، لیکن ان دونوں نے آپس میںمشورہ کیا اور شوقِ شہادت میں میدانِ جنگ میں پہنچ گئے، لیکنیہ اس وقت کی بات ہے، جب مسلمانوں کو شکست ہو رہی تھی، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کوتو مشرکوں نے قتل کر دیا اور سیدنا سیدنایمان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی زد میں آگئے اور شہید ہوگئے، دراصل مسلمان ان کو پہنچان نہ سکے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 3/ 202
8. بَابُ وُجُوبِ الدِّيَةِ بِالسَّبَبِ وَقِصَّةِ أَصَحَابِ الزُّبيَةِ
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
حدیث نمبر: 6611
عَنْ حَنْشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ إِذَا سَقَطَ رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ثُمَّ تَعَلَّقَ رَجُلٌ بِآخَرَ حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ فَقَامَ أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآخَرِ فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتَتِلُوا فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ فَقَالَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ وَإِلَّا حَجَزَ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ حَتَّى تَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَكُونَ هُوَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا حَقَّ لَهُ اجْمَعُوا مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَضَرُوا الْبِئْرَ رُبُعَ الدِّيَةِ وَثُلُثَ الدِّيَةِ وَنِصْفَ الدِّيَةِ وَالدِّيَةَ كَامِلَةً فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ لِأَنَّهُ هَلَكَ مَنْ فَوْقَهُ وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَصُّوا فَقَالَ أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ وَاحْتَبَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، میں ان لوگوں کے پاس پہنچا جنہوں نے شیر کے لئے ایک گڑھا کھود رکھا تھا، اسی دوران وہاں بھیڑ ہو گئی اورلوگ ایک دوسرے کے ذریعے بچنے لگے، ایک آدمی گڑھے میں گرا تو وہ دوسرے سے چمٹ گیا، دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا،یہاں تک کہ چار آدمی گڑھے میں جاگر ے، شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ مار کر شیر کو مار دیا، لیکن وہ چاروں افراد زخموں کی تاب نہ لاسکے اور وفات پاگئے، اب ان مقتولین کے ورثاء مسلح ہو کر لڑنے مرنے کے لئے تیار ہوگئے، جب وہ لڑائی کی تیاری کر رہے تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسی وقت ان کے پاس تشریف لائے اور کہا: تم لڑائی پہ کمر بستہ ہورہے ہو، جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تمہارے درمیان بقید حیات ہیں، میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر وہ تمہیں پسند آ جائے تو ٹھیک، بصورت دیگر تم ایک دوسرے سے باز رہنا اور اس وقت تک کوئی قدم نہ اٹھانا، جب تک کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ نہ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ما بین فیصلہ کر دیں گے اور جو اس فیصلے کے بعد زیادتی کرے گا، اس کا کوئی حق باقی نہ رہے گا، اب سنو! میرا فیصلہ یہ ہے کہ جو قبائل کنویں کے پاس ہجوم کیے ہوئے تھے، ان سب سے ایک چوتھائی دیت، ایک تہائی دیت، نصف دیت اور مکمل دیت جمع کرو، جو سب سے پہلا گڑھے میں گرا تھا، اس کو دیت کا چوتھا حصہ دیا جائے، کیونکہ وہ اپنے سے اوپر والوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہے،گرنے والے دوسرے آدمی کو دیت کا تیسرا حصہ دیا جائے اور گرنے والے تیسرے آدمی کو نصف دیت دی جائے اور چوتھے کو پوری دیت دی جائے، لیکن لوگوں نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ اس وقت مقام ابراہیم کے قریب تشریف فرما تھے، انہوں نے یہ واقعہ آپ کے سامنے بیان کیا، آپ نے فرمایا: میں ابھی تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گوٹھ مار کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک آدمی نے کہا: بیشک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان فیصلہ کیا تھا، پھر انھوں نے سارا واقعہ بیان کیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی فیصلے کو نافذ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6611]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حنش بن المعتمر يتكلمون في حديثه۔ أخرجه البيھقي: 8/ 111، وابن ابي شيبة: 9/ 400، والطيالسي: 114، والبزار: 732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 573»
وضاحت: فوائد: … اس واقعہ سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی دوسرے کی ہلاکت کا سبب بنا ہے تو اس پر بھی دیت واجب ہے، اس لئے جو بھی جتنا سبب بنا تھا، اسی حساب سے دیت میں کمی بیشی کر دی گئی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
9. بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَاقِلَةِ وَمَا تَحْمِلُهُ
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 6612
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ ثُمَّ إِنَّهُ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَالَى وَقَالَ رَوْحٌ يَتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تحریر کروایا کہ قبیلہ کی ہر شاخ پر دیت ادا کرنا واجب ہے، نیز آپ نے یہ بھی لکھوایا کہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت کے کسی کا سر پرست بنے، روح راوی کے الفاظ یہ ہیں: یہ حلال نہیں ہے کہ ایک مسلمان آدمی کا (آزاد کردہ) غلام اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو سرپرست بنا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6612]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14499»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۵۹۳) کے فوائد میںیہ وضاحت کی جا چکی ہے قتل خطا اور قتل شبہ عمد میں دیت کون ادا کرے گا اور کیوں۔ آزاد شدہ غلام اپنی آزادی کی نسبت اپنے آزاد کنندہ کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کر سکتا، اس حدیث میں ”اجازت کے بغیر“ کی قید ڈانٹ کے طور پر ہے، ورنہ اجازت لے کر بھی کسی دوسرے کی طرف منسوب نہیں ہوا جا سکتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1507
حدیث نمبر: 6613
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ يَعْقِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عورت کی طرف سے اس کے عصبہ دیت ادا کریں گے، وہ جو بھی ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6613]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4564، وابن ماجه: 2647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7092»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4564
حدیث نمبر: 6614
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَتْ بَطْنَهَا فَقَتَلَتْهَا وَأَلْقَتْ جَنِينًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدِيَتِهِمَا عَلَى الْعَاقِلَةِ وَفِي جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ فَقَالَ قَائِلٌ كَيْفَ يُعْقَلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا زَعَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا، وہ اس کے پیٹ پر لگا اور وہ خاتون بھی قتل ہو گئی اور اس نے اپنا جنین بھی گرا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا اس کی دیت اس کے عاقلہ نے ادا کرنا ہو گی اور جنین کی دیت ایک غلام یا ایک لونڈی ہو گی، ایک آدمی نے کہا: جس بچے نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ چیخا، اس طرح قتل باطل اور رائیگاں ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں اور نجومیوں کا بھائی لگتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6614]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5758، ومسلم:1681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7689»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5758
حدیث نمبر: 6615
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ضَرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعَ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ وَلِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاتلہ کے خاندان کو دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا: اور جو مقتولہ کے پیٹ کا بچہ فوت ہوا تھا اس کے عوض لونڈی یا غلام کا فیصلہ دیا۔ ایک دیہاتی نے کہا: کیا آپ مجھے اس بچے کی چٹی ڈال رہے ہیں جس نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ آواز نکالی اور نہ ہی چیخا۔ اس طرح کا بچہ تو بغیر کسی تاوان ہونا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بدؤوں کی طرح یہ قافیہ بندی کی جا رہی ہے، (کوئی جو مرضی کہے مگر) اس عورت کے پیٹ میں قتل ہونے والے بچے کی دیت لونڈی یا غلام دینا پڑے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6615]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم: 1682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18177 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18361»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں قتل کرنے والی عورت ہے، مسئلہ کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔ ماں کے پیٹ کا بچہ بھی ایک نفس ہے، لیکن شریعت نے اس کی دیت میں نرمی رکھی ہے، بدّو کی سجع کلامی میں محض قافیہ بندی ہے، اس سے شرعی احکام متاثر نہیں ہوتے۔ یہ لونڈییا غلام پیٹ کے بچے کی دیت ہے، اس کے حقدار بچے کے ورثاء ہوں گے جیسے کسی بھی مقتول کی دیت کے حقدار اس کے وارث بننے والے لوگ ہوتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم: 1682
حدیث نمبر: 6616
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا نَاسٌ فُقَرَاءُ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فقیر لوگوں کے غلام نے مالدار لوگوں کے غلام کا کان کاٹ دیا، اس کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور شکایت کی، لیکن کان کاٹنے والے غلام کے مالکوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں، پس آپ نے ان پر کوئی دیت نہ ڈالی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6616]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 4590، والنسائي: 8/25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20173»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 4590
10. بَابُ لَا يُؤْخَذُ الْمَرْءُ بِجِنَايَةِ غَيْرِهِ وَلَوْ مِنْ أَقْرَبِ النَّاسِ اليه
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے¤قریبی رشتہ دار ہو
حدیث نمبر: 6617
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ قَالَ فَدَخَلَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ الْيَرْبُوعِيُّونَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہوتا ہے۔ اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی اور زیادہ سے زیادہ نزدیکی رشتہ داروں پر صرف کرو۔ اتنی دیر میں بنو ثعلبہ بن یربوع کے کچھ افراد آگئے، انصار میں سے ایک آدمی نے ان کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع کے افراد آگئے ہیں، انہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کوئی جان دوسرے کے جرم کی ذمہ دار نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو بار ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6617]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17634»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 725
حدیث نمبر: 6618
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي ثُمَّ جَلَسْنَا فَتَحَدَّثَنَا سَاعَةً ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ابْنُكَ هَذَا قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ لَأَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ضَاحِكًا فِي تَثْبِيتِ شَبَهِي بِأَبِي وَمِنْ حَلْفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الإسراء 15] الْحَدِيثَ
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ابو جان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے ابا جان نے کہا: ابو رمثہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: یہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میرا خیال تھا کہ آپ کی ذات گرامی کی عام انسانوں سے الگ تھلگ حیثیت ہوگی، مگر آپ ایک انسان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں تک آ رہے تھے، بالوں پر مہندی کے نشان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں پہن رکھی تھیں، میرے ابونے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے، آپ نے کچھ دیر تک ہم سے باتیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے ابا جان نے کہا: جی ہاں،کعبہ کے رب کی قسم! یہی بات درست ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھل کر مسکرا پڑے، کیونکہ میری اپنے باپ کے ساتھ مشابہت بالکل واضح تھی، لیکن اس کے باوجود وہ قسم اٹھا رہے تھے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ … الحدیث۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6618]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4206، 4495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7116»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سید الانبیاء ہونے کے باجودہ سادہ زندگی بسر کرنے اور اپنے آپ کو ظاہری امتیازات اور خصوصیات سے دور رکھنے والے تھے۔ معلوم ہوا کہ سبز لباس جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4206
حدیث نمبر: 6619
عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ ابْنٌ لِي قَالَ فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ
۔ سیدنا خشخاس عنبری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ نے فرمایا: کیایہ تیرا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، یہ میرا بیٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا (بلکہ ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔ [الفتح الربانی/أبواب الدية/حدیث: 6619]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19240»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2671