الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ بَعْضٍ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ وَلَعْنِ شَارِبِهَا وحرمانه مِنْ خَمْرٍ الْآخِرَةِ إِلَّا أَن يَتُوبَ
شراب کی حرمت، اس کو پینے والے پر لعنت کرنے اور اس کے آخرت میں شراب سے محروم ہو جانے کا بیانا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
حدیث نمبر: 6770
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور نرد (یا شطرنج یا آلۂ موسیقی) کو حرام قرار دیا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6770]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البيھقي: 10/ 221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2625»
وضاحت: فوائد: … ”کُوْبَۃ“اس لفظ کے تین معانی کیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی مراد ہو سکتا ہے۔
ارشاد ِربانی ہے: ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْس’‘ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ } (المائدہ:۹۰) ”اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب، جوا، تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر،یہ سب گندی چیزیں، شیطانی کام ہیں، ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔“
شراب کی حرمت قطعی اور ابدی ہے، قرآن و حدیث کے کئی دلائل موجود ہیں، شراب کی تعریف سمجھنے کے لیے درج ذیل بحث کا مطالعہ کریں:
عربی لغت اور عرف عام میں ہر نشہ آور چیز اور مشروب کو ”خَمْر“ کہتے ہیں، احادیث ِ صحیحہ میں بھی ہر نشہ آور اور چیز کو ”خَمْر“ کہا گیا ہے۔
حَرَامٌ۔)) (مسلم) … ”ہر نشہ آور چیز ”خَمْر“ ہے اور ہر ”خَمْر“ حرام ہے۔“ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔ (بخاری، مسلم) … ”خَمْر“ا س چیز کو کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلٰی الْیَمَنِ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ بِھَا أَشْرِبَۃً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ؟ قَالَ: ((وَمَا ھِیَ؟)) قُلْتُ: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ۔ قَالَ: ((وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ؟)) قَالَ: أَمَّاالْبِتْعُ، فَنَبِیْذُ الْعَسَلِ، وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِیْذُ الذُّرَۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((لَاتَشْرَبْ مُسْکِراً فَإِنِّی حَرَّمْتُ کُلَّ مُسْکِرٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں، میں ان میں سے کون سے پی سکتا ہوں اور کون سے ترک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کونسے (مشروبات) ہیں؟“ میں نے کہا: وہ”بتع“ اور ”مزر“ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بتع“ اور ”مزر“ کسے کہتے ہیں؟“ میں نے کہا: شہد کی نبیذ کو ”بتع“ اور مکئی کی نبیذ کو ”مزر“ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس، نشہ آور مشروب نہیں پینا، کیونکہ میں نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔“ (نسائی: ۲/ ۳۲۶، صحیحہ: ۲۴۲۴، وأخرج مسلم نحوہ)
احناف نے اس مسئلے میں ساری امت سے اختلاف کیا ہے اور ”خَمْر“ سے مراد صرف وہ شراب لی ہے، جو انگور سے تیار کی جائے، بلکہ مزید قیود بھی لگا دی ہیں کہ انگور کا نچوڑا ہوا پانی آگ پر گرم کیے بغیر دو ثلت سے کم خشک ہو جائے، اس میں جھاگ پیدا ہو جائے اور وہ نشہ دے تو اسے ”خَمْر“ کہا جائے گا۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا نشہ آور مشروب خمر نہیں کہلاتا، مثلا: انگور کے علاوہ کسی اور پھل کا نچوڑ ہو یا نچوڑ تو انگور کا ہو مگر اسے آگ پر گرم کر کے خشک کیا گیا ہو یا دو ثلث سے زائد خشک ہو جائے، خواہ آگ کے بغیر ہی ہو، ان تمام صورتوں میں ان کے نزدیک اسے ”خَمْر“ نہیں کہا جائے گا، خواہ وہ نشہ دیتا ہو، البتہ اسے مُسْکِر (نشہ دینے والا) کہا جائے گا۔احناف کے ہاں اس مخصوص ”خَمْر“ کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے، مگر عام مسکرات نشے کی حد سے کم پینا جائز ہیں، احناف کی اس توجیہ کا ثبوت شریعت تو کجا عقل سلیم بھی اس انکار کرتی ہے، کیونکہ شراب کی حرمت کی وجہ تو نشہ ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ شراب اور دیگر نشہ آور مشروبات کے حکم میں فرق کیا جائے؟
سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے باپ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((حَرَّمَ اللّٰہُ الْخَمْرَ، وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔)) … ”اللہ تعالیٰ نے شراب اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔“(نسائی: ۲/ ۳۳۳، صحیحہ: ۱۸۱۴، وروی مسلم: ۶/ ۱۰۰ وغیرہ نحوہ)
امام البانیk نے کہا: یہ حدیث ان قطعی دلائل میں سے ہے جو ہر نشہ دینے والی چیز کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ وہ انگور سے بنائی گئی ہو یا کھجور اور مکئی وغیرہ سے یا اس کی مقدار قلیل ہو یا کثیر۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مختلف چیزوں سے تیار کی جانے والی شراب اور اس کی معمولییا غیر معمولی مقدار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (صحیحہ: ۱۸۱۴)
امام البانیk نے (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ)میں اس ضعیف حدیث کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا: ((حرمت الخمر لعینِھا قلیلھا و کثیرھا، والسُّکر من کل شراب۔)) … ”شراب اپنی ذات کی بنا پر حرام ہے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ اور ہر مشروب سے نشہ حرام ہے۔“
احناف نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ انگوروں سے بنائی جانے والی نشہ آور چیز کو صرف شراب کہتے ہیں،جس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے اور کثیر بھی۔ جو نشہ آور مشروبات گندم، جو، شہد اور مکئی سے تیار کیے جاتے ہیں، وہ حلال ہیں۔ صرف ان کی اتنی مقدار پینا حرام ہے، جس سے نشہ پیدا ہو جائے۔ (معمولی مقدار پی لینے میں کوئی حرج نہیں)۔
لیکنیہ مذہب باطل ہے اور صحیح و صریح اور یقینی و قطعی احادیث کے مخالف ہے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَکُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ۔)) (مسلم) … ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔“
اس حدیث کے کثیر شواہد موجود ہیں، امام زیلعی وغیرہ نے ان کا ذکر کیا ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۸/۴۰۔۴۵) میں بعض کا ذکر کیا ہے۔ بلکہ شیخ علی قاری حنفی نے تو (شرح مسند الامام ابی حنیفۃ: صـ ۵۹) میں کہا: قریب ہے کہ یہ حدیث متواتر ثابت ہو جائے۔ آپ کو صاحب ِ ہدایہ کے اس قول سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے: (اس حدیث پر یحییٰ بن معین نے طعن کیا)۔ کیونکہیہ قول بے بنیاد ہے اور ابن معین سے اس کی کوئی اصل نہیں ہے، جیسا کہ امام زیلعی نے کہا اور ابن معین کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ اس حدیث کی صحت ان سے مخفی رہ جائے۔
نیز ارشادِ نبوی ہے: ((مَا اَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ۔)) … ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ دے، اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہو جاتی ہے۔“ یہ حدیث تقریبا آٹھ صحابہ سے مروی ہے، امام زیلعی نے (نصب الرایۃ: ۴/ ۳۰۱۔۳۰۶) تمام سندوں کا تذکرہ کیا ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۲۳۷۵، ۲۳۷۶) میں بعض کا ذکر کیا ہے اور امام نسائی نے اپنی سنن میں بعض روایات کا ذکر کیا اور پھر کہا: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نشہ کی کثیر مقدار بھی حرام ہے اور قلیل بھی۔ لیکن اپنے حق میں بعض دھوکہ بازوں نے کہا: جس شراب کی زیادہ مقدار سے نشہ پیدا ہوتا ہے، تو اس کی اتنی کم مقدار حلال ہوتی ہے، جس سے نشہ پیدا نہیں ہوتا۔
تنبیہ: … ہم نے شراب کے بارے میں احناف کا جو مسلک بیان کیا ہے، اس کو امام ابوحنیفہ اور صاحبین سے بیان کرنے والے امام طحاوی ہیں، امام محمد نے بھی (الآثار: صـ ۱۴۸) میںیہ مسلک بیان کیا اور اس کو برقرار رکھا۔ لیکن علامہ ابو الحسنات لکھنوی نے (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد) میں کہا کہ امام محمد ہر نشہ آور چیز کی قلیل اور کثیر مقدار کے حرام ہونے کے قائل ہیں، جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔ شاید اس مسئلہ میں امام محمد کے دو اقوال ہوں، جن میں سے دوسرا قول احادیث ِ صحیحہ کے موافق ہونے کی وجہ سے درست ہے۔
اس ضعیف حدیث سے احناف نے جو استدلال کر کے شراب کے بارے میں اپنا مسلک پیش کیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شراب انگوروں کے علاوہ کسی اور چیز سے تیار کی جائے، اس کی اتنی مقدار پینا جائز ہے جس سے نشہ پیدا نہیں ہوتا، نیز اگر ایسی شراب سے نشہ آ بھی جائے تو پینے والے کو حدّ نہیں لگائی جا سکتی۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کا یہی مسلک ہے، جیسا کہ (الھدایہ: ۸/ ۱۶۰) سے معلوم ہوتا ہے، لیکن صاحب ِ ہدایہ نے کہا: زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کو حدّ لگائی جائے گی، جیسا کہ امام محمد کا خیال ہے، جن کا دوسرا قول جمہور کے مسلک کے موافق ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۲۲۰)
ارشاد ِربانی ہے: ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْس’‘ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ } (المائدہ:۹۰) ”اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب، جوا، تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر،یہ سب گندی چیزیں، شیطانی کام ہیں، ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔“
شراب کی حرمت قطعی اور ابدی ہے، قرآن و حدیث کے کئی دلائل موجود ہیں، شراب کی تعریف سمجھنے کے لیے درج ذیل بحث کا مطالعہ کریں:
عربی لغت اور عرف عام میں ہر نشہ آور چیز اور مشروب کو ”خَمْر“ کہتے ہیں، احادیث ِ صحیحہ میں بھی ہر نشہ آور اور چیز کو ”خَمْر“ کہا گیا ہے۔
حَرَامٌ۔)) (مسلم) … ”ہر نشہ آور چیز ”خَمْر“ ہے اور ہر ”خَمْر“ حرام ہے۔“ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔ (بخاری، مسلم) … ”خَمْر“ا س چیز کو کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلٰی الْیَمَنِ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ بِھَا أَشْرِبَۃً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ؟ قَالَ: ((وَمَا ھِیَ؟)) قُلْتُ: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ۔ قَالَ: ((وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ؟)) قَالَ: أَمَّاالْبِتْعُ، فَنَبِیْذُ الْعَسَلِ، وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِیْذُ الذُّرَۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((لَاتَشْرَبْ مُسْکِراً فَإِنِّی حَرَّمْتُ کُلَّ مُسْکِرٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کچھ (مخصوص) مشروبات پائے جاتے ہیں، میں ان میں سے کون سے پی سکتا ہوں اور کون سے ترک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کونسے (مشروبات) ہیں؟“ میں نے کہا: وہ”بتع“ اور ”مزر“ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بتع“ اور ”مزر“ کسے کہتے ہیں؟“ میں نے کہا: شہد کی نبیذ کو ”بتع“ اور مکئی کی نبیذ کو ”مزر“ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس، نشہ آور مشروب نہیں پینا، کیونکہ میں نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔“ (نسائی: ۲/ ۳۲۶، صحیحہ: ۲۴۲۴، وأخرج مسلم نحوہ)
احناف نے اس مسئلے میں ساری امت سے اختلاف کیا ہے اور ”خَمْر“ سے مراد صرف وہ شراب لی ہے، جو انگور سے تیار کی جائے، بلکہ مزید قیود بھی لگا دی ہیں کہ انگور کا نچوڑا ہوا پانی آگ پر گرم کیے بغیر دو ثلت سے کم خشک ہو جائے، اس میں جھاگ پیدا ہو جائے اور وہ نشہ دے تو اسے ”خَمْر“ کہا جائے گا۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا نشہ آور مشروب خمر نہیں کہلاتا، مثلا: انگور کے علاوہ کسی اور پھل کا نچوڑ ہو یا نچوڑ تو انگور کا ہو مگر اسے آگ پر گرم کر کے خشک کیا گیا ہو یا دو ثلث سے زائد خشک ہو جائے، خواہ آگ کے بغیر ہی ہو، ان تمام صورتوں میں ان کے نزدیک اسے ”خَمْر“ نہیں کہا جائے گا، خواہ وہ نشہ دیتا ہو، البتہ اسے مُسْکِر (نشہ دینے والا) کہا جائے گا۔احناف کے ہاں اس مخصوص ”خَمْر“ کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے، مگر عام مسکرات نشے کی حد سے کم پینا جائز ہیں، احناف کی اس توجیہ کا ثبوت شریعت تو کجا عقل سلیم بھی اس انکار کرتی ہے، کیونکہ شراب کی حرمت کی وجہ تو نشہ ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ شراب اور دیگر نشہ آور مشروبات کے حکم میں فرق کیا جائے؟
سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے باپ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((حَرَّمَ اللّٰہُ الْخَمْرَ، وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔)) … ”اللہ تعالیٰ نے شراب اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔“(نسائی: ۲/ ۳۳۳، صحیحہ: ۱۸۱۴، وروی مسلم: ۶/ ۱۰۰ وغیرہ نحوہ)
امام البانیk نے کہا: یہ حدیث ان قطعی دلائل میں سے ہے جو ہر نشہ دینے والی چیز کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ وہ انگور سے بنائی گئی ہو یا کھجور اور مکئی وغیرہ سے یا اس کی مقدار قلیل ہو یا کثیر۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مختلف چیزوں سے تیار کی جانے والی شراب اور اس کی معمولییا غیر معمولی مقدار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (صحیحہ: ۱۸۱۴)
امام البانیk نے (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ)میں اس ضعیف حدیث کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا: ((حرمت الخمر لعینِھا قلیلھا و کثیرھا، والسُّکر من کل شراب۔)) … ”شراب اپنی ذات کی بنا پر حرام ہے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ اور ہر مشروب سے نشہ حرام ہے۔“
احناف نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ انگوروں سے بنائی جانے والی نشہ آور چیز کو صرف شراب کہتے ہیں،جس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے اور کثیر بھی۔ جو نشہ آور مشروبات گندم، جو، شہد اور مکئی سے تیار کیے جاتے ہیں، وہ حلال ہیں۔ صرف ان کی اتنی مقدار پینا حرام ہے، جس سے نشہ پیدا ہو جائے۔ (معمولی مقدار پی لینے میں کوئی حرج نہیں)۔
لیکنیہ مذہب باطل ہے اور صحیح و صریح اور یقینی و قطعی احادیث کے مخالف ہے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَکُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ۔)) (مسلم) … ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔“
اس حدیث کے کثیر شواہد موجود ہیں، امام زیلعی وغیرہ نے ان کا ذکر کیا ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۸/۴۰۔۴۵) میں بعض کا ذکر کیا ہے۔ بلکہ شیخ علی قاری حنفی نے تو (شرح مسند الامام ابی حنیفۃ: صـ ۵۹) میں کہا: قریب ہے کہ یہ حدیث متواتر ثابت ہو جائے۔ آپ کو صاحب ِ ہدایہ کے اس قول سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے: (اس حدیث پر یحییٰ بن معین نے طعن کیا)۔ کیونکہیہ قول بے بنیاد ہے اور ابن معین سے اس کی کوئی اصل نہیں ہے، جیسا کہ امام زیلعی نے کہا اور ابن معین کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ اس حدیث کی صحت ان سے مخفی رہ جائے۔
نیز ارشادِ نبوی ہے: ((مَا اَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ۔)) … ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ دے، اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہو جاتی ہے۔“ یہ حدیث تقریبا آٹھ صحابہ سے مروی ہے، امام زیلعی نے (نصب الرایۃ: ۴/ ۳۰۱۔۳۰۶) تمام سندوں کا تذکرہ کیا ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۲۳۷۵، ۲۳۷۶) میں بعض کا ذکر کیا ہے اور امام نسائی نے اپنی سنن میں بعض روایات کا ذکر کیا اور پھر کہا: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نشہ کی کثیر مقدار بھی حرام ہے اور قلیل بھی۔ لیکن اپنے حق میں بعض دھوکہ بازوں نے کہا: جس شراب کی زیادہ مقدار سے نشہ پیدا ہوتا ہے، تو اس کی اتنی کم مقدار حلال ہوتی ہے، جس سے نشہ پیدا نہیں ہوتا۔
تنبیہ: … ہم نے شراب کے بارے میں احناف کا جو مسلک بیان کیا ہے، اس کو امام ابوحنیفہ اور صاحبین سے بیان کرنے والے امام طحاوی ہیں، امام محمد نے بھی (الآثار: صـ ۱۴۸) میںیہ مسلک بیان کیا اور اس کو برقرار رکھا۔ لیکن علامہ ابو الحسنات لکھنوی نے (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد) میں کہا کہ امام محمد ہر نشہ آور چیز کی قلیل اور کثیر مقدار کے حرام ہونے کے قائل ہیں، جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔ شاید اس مسئلہ میں امام محمد کے دو اقوال ہوں، جن میں سے دوسرا قول احادیث ِ صحیحہ کے موافق ہونے کی وجہ سے درست ہے۔
اس ضعیف حدیث سے احناف نے جو استدلال کر کے شراب کے بارے میں اپنا مسلک پیش کیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شراب انگوروں کے علاوہ کسی اور چیز سے تیار کی جائے، اس کی اتنی مقدار پینا جائز ہے جس سے نشہ پیدا نہیں ہوتا، نیز اگر ایسی شراب سے نشہ آ بھی جائے تو پینے والے کو حدّ نہیں لگائی جا سکتی۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کا یہی مسلک ہے، جیسا کہ (الھدایہ: ۸/ ۱۶۰) سے معلوم ہوتا ہے، لیکن صاحب ِ ہدایہ نے کہا: زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کو حدّ لگائی جائے گی، جیسا کہ امام محمد کا خیال ہے، جن کا دوسرا قول جمہور کے مسلک کے موافق ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۲۲۰)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 6771
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيهَا وَمُسْتَقِيهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! بے شک اللہ تعالی نے شراب کے معاملے میں پر لعنت کی ہے: خود شراب پر، اس کو نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر،پینے والے پر،اٹھانے والے پر،جس کی طرف اٹھاکر لے جائی جائے اس پر، فروخت کرنے والے پر، خریدنے والے پر، پلانے والے پر اور پینے کا مطالبہ کرنے والے پر۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6771]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 5356، والحاكم: 4/ 145، والطبراني: 12976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2897»
وضاحت: فوائد: … شراب کے سلسلے میں اصل گنہگار تو شراب پینے والا ہے، اسی کے لیے شراب بنائی جاتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے مزید اُن افراد پر لعنت کی گئی ہے، جو متعلقہ آدمی تک شراب پہنچانے میں تعاون کرتے ہیں۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ شرّ اور برائی میں تعاون بھی گناہ کا کام ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ شرّ اور برائی میں تعاون بھی گناہ کا کام ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6772
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا أَنْ يَتُوبَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی، وہ اسے آخرت میں نہیں پیئے گا، الّا یہ کہ وہ توبہ کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6772]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4729»
وضاحت: فوائد: … جنت کی شراب، دنیا کی شراب سے یکسر مختلف ہے، لیکن اس حرام شراب کی وجہ سے جنت کی شراب سے محروم کیا جا رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2003
2. بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
حدیث نمبر: 6773
عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَزِيدُكُمْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ قَالَ وَفِيمَ أَنْتَ وَذَاكَ فَقَالَ عَلِيٌّ بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَاجْلِدْهُ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ أَمْسِكْ ثُمَّ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ وَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ
۔ حضین بن منذر سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا میں تم کو مزید نماز پڑھاؤں؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، انھوں نے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہااے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے مارو، انہوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عاجز آ گئے ہو اور کمزور پڑ گئے ہو، پھر انھوں نے کہا: اے عبد اللہ بن جعفر! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، پس سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شمار کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ چالیس تک پہنچ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ۔ پھر کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب پینے کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے شروع میں چالیس چالیس کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر نے شراب کی سزا اسی (۸۰) کوڑے پورے کر دیئے۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6773]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1230»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1707
حدیث نمبر: 6774
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرُوهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِيدِ أَيْ بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ فَكَلَّمَهُ عَلِيٌّ فِي ذَلِكَ فَقَالَ دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ فَقَالَ يَا حَسَنُ قُمْ فَاجْلِدْهُ قَالَ مَا أَنْتَ مِنْ هَذَا فِي شَيْءٍ وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ قَالَ بَلْ ضَعُفْتَ وَوَهَنْتَ الْحَدِيثُ بِنَحْوِ الطَّرِيقِ الْأُولَى
۔ (دوسری سند) اہل کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ولید کے بارے میں شراب پینے کی اطلاعات دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس موضوع پر بات کی، انھوں نے کہا: تم خود اپنے چچے کے بیٹے کو پکڑو اور اس پر حدّ قائم کرو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، انھوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، یہ معاملہ کسی اور کے سپرد کر دو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ تم کمزور پڑ گئے ہو اوربزدل ہو گئے ہو، …۔ پھر پہلی روایت کی طرح کی روایت بیان کی۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6774]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 624»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے چچا کا بیٹا اس لئے قرار دیا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ہاشم کی اولاد میں سے تھے اور ولید، عبد شمس کی اولاد میں سے تھے اس اعتبار سے یہ اوپر جا کر چچا کے بیٹے ثابت ہوئے ہیں، ہاشم اور عبد شمس دونوں عبد ِ مناف کے بیٹے تھے۔
سنن ابو داود (۴۴۸۹) کی ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف یہ خط لکھا: لوگ بہت زیادہ شراب پینے لگ گئے ہیں اور انھوں نے موجود حدّ اور سزا کو کم سمجھ لیا ہے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اوّلین مہاجرین سے مشورہ کیا اور اُن سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آدمی شراب پیتا ہے تو وہ بہتان تراشیاں کرتا ہے اور تہمتیں لگاتا ہے، لہذا میرا خیالیہ ہے کہ اس کو تہمت والی حدّ لگائی جائے۔ (ابوداود: ۴۴۸۹)
سنن ابو داود (۴۴۸۸) میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، پس انھوں نے جوتوں کے ساتھ اور جس کے ہاتھ میں جو چیز تھی، اس کے ساتھ اس کی پٹائی کی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب بس کر دو۔“ پس وہ رک گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک ایسے معاملہ چلتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ شراب کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابتدائے خلافت کے ایام میں چالیس اور پھر اسی (۸۰) کوڑے شروع کیے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے زمانۂ خلافت میں (۴۰ اور ۸۰) دونوں سزائیں جاری رکھیں اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی (۸) کی حدّ کو نافذ کر دیا۔
سنن ابو داود (۴۴۸۹) کی ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف یہ خط لکھا: لوگ بہت زیادہ شراب پینے لگ گئے ہیں اور انھوں نے موجود حدّ اور سزا کو کم سمجھ لیا ہے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اوّلین مہاجرین سے مشورہ کیا اور اُن سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آدمی شراب پیتا ہے تو وہ بہتان تراشیاں کرتا ہے اور تہمتیں لگاتا ہے، لہذا میرا خیالیہ ہے کہ اس کو تہمت والی حدّ لگائی جائے۔ (ابوداود: ۴۴۸۹)
سنن ابو داود (۴۴۸۸) میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنین میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، پس انھوں نے جوتوں کے ساتھ اور جس کے ہاتھ میں جو چیز تھی، اس کے ساتھ اس کی پٹائی کی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب بس کر دو۔“ پس وہ رک گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک ایسے معاملہ چلتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ شراب کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابتدائے خلافت کے ایام میں چالیس اور پھر اسی (۸۰) کوڑے شروع کیے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے زمانۂ خلافت میں (۴۰ اور ۸۰) دونوں سزائیں جاری رکھیں اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی (۸) کی حدّ کو نافذ کر دیا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 624
حدیث نمبر: 6775
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اضْرِبُوهُ قَالَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا رَحِمَكَ اللَّهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو۔ پھر ہم میں سے کسی نے اس کو اپنے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، بلکہ تم یہ کہو: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6775]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6777، 6781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7973»
وضاحت: فوائد: … جس آدمی کو حد لگائی جا رہی ہو، اس کے لیے بد دعا نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6777
حدیث نمبر: 6776
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَالَ مِسْعَرٌ أَظُنُّهُ فِي شَرَابٍ فَضَرَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ
۔ سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا،اس نے شراب پی ہوئی تھی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دو جوتوں سے مارتے ہوئے چالیس جوتے مارے۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6776]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11297»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6777
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جُلِدَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ كُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں دو جوتوں سے شراب کی حد لگاتے ہوئے چالیس جوتے مارے جاتے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانۂ خلافت تھا تو انھوں نے ہر جوتے کے عوض ایک کوڑا مارا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6777]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زيد العمي، والمسعودي قد اختلط، وسماع يزيد منه بعد الاختلاط، أخرجه ابن ابي شيبة: 9/ 547، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 3/157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11664»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زيد العمي
حدیث نمبر: 6778
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى قَالَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَرَوْنَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اجْعَلْهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے شراب کی حدلگائی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی حد لگائی،یحییٰ کی حدیث کے مطابق چالیس ضربیں لگائی جاتی تھیں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت شروع ہوئی تو لوگ فتوحات کی کثرت سے خوش حال ہوئے تو شراب نوشی میں اضافہ ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ سب سے ہلکی حد مقرر کر دیں، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شرابی کی حد اسی کوڑے مقرر کر دیئے۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6778]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6773، 6776، ومسلم: 1706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12163»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6773
حدیث نمبر: 6779
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ قَالَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس ضربیں لگائیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی سنت جاری رکھی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں سے مشورہ کیا،سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ سب سے ہلکی حد اسی (۸۰) کوڑے ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شرابی کو اسی کوڑے لگانے کا حکم دے دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6779]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12836»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں سب سے ہلکی حدّ تہمت لگانے والے کی ہے، یعنی اسی (۸۰) کوڑے، باقی تمام حدود اس سے زیادہ سنگین ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12836