🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6780
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَأْتِي بِالشَّارِبِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ إِلَيْهِ فَنَضْرِبُهُ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ صَدْرًا مِنْ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِيهَا أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا فِيهَا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں شرابی کو لاتے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر اس کو ہاتھوں، جوتوں اور کپڑوں سے مارتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے شروع میں شرابی کی حد چالیس کوڑے کر دی گئی، لیکن جب شرابیوں نے سرکشی کی اور انھوں نے فسق اختیار کر لیا تو شرابی کی سزا اسی کوڑے کر دی گئی۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6780]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15810»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6781
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوِ ابْنِ النُّعَيْمَانِ وَهُوَ سَكْرَانُ، قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: فَشَقَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةً شَدِيدَةً) وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، قَالَ عُقْبَةُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَضَرَبُوهُ بِالأَيْدِي وَالْجَرِيدِ، فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ
۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعیمان یا ابن نعمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، وہ نشے میں مست تھے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری، ایک روایت میں ہے: اس صورتحال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی مشقت ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں موجود افراد کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، سیدنا عقبہ کہتے ہیں؟ میں بھی اس کو مارنے والوں میں تھا، ہم نے اس کو ہاتھوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6781]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16255»
وضاحت: فوائد: … سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ اسلام کے اولین سپوتوں میں سے تھے، یہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر اور دیگر کئی معرکوں میں شریک ہوئے تھے، یہ خوش طبع انسان تھے، نبی کریم بھی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خوش طبعی سے مسکراتے تھے، ان جیسے عظیم لوگوں کو شراب سے دور رہنا چاہیے تھا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج و ملال زیادہ ہوا۔
اس جگہ اگرچہ شک کے ساتھ ہے کہ نعیمانیا ابن نعیمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ میں شک کے بغیر ہے کہ نعیمان کو لایا ہے۔ مزید وہاں یہ بھی ہے اس کو لانے والے حدیث کے راوی عقبہ بن حارث خود ہی تھے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6775
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6782
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ يَوْمِ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَهُمْ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ وَحَثَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التُّرابَ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا، جبکہ میں نوخیز جوان تھا،آپ لوگوں کے بیچوں بیچ سے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گھر کے متعلق دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایاگیا، آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی، انھوں نے اس کو اس سے مارنا شروع کر دیا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے مارا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر چلو بھر مٹی پھینکی۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6782]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16933»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6783
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِسَكْرَانٍ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ حنین والے دن لوگوں کے درمیان سے گزرتے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے گھر کے بارے میں دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک شرابی لایا گیا،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ والے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے، وہ اس کے ساتھ اس کو ماریں۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6783]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16932»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6784
عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ، قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالأَيْدِي، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا
۔ ابو وداک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس وقت سے نبیذ نہیں پی، جب سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے، اس نے کہا: میں نے تو کدو کے برتن میں منقّی اور کھجور ڈال کر پی ہے، بہرحال جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی اور ہاتھوں سے اس کو دھکے دئیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو والے برتن اور منقّی اور کھجور ملا کر پینے سے منع فرما دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6784]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 2176، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11317»
وضاحت: فوائد: … جب شراب حرام ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن برتنوں سے منع کیا تھا، ان میں سے ایک کدو کا برتن تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام برتنوں کے استعمال کو جائز قرار دیا تھا۔ منقّی اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ ان میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6785
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَكْرَانٍ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ، فَقَالَ: ( (مَا شَرَابُكَ؟) ) فَقَالَ: الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ، قَالَ: ( (يَكْفِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س ایک نشہ میں مست آدمی لایا گیا، آپ نے اس پر حد لگائی اور اس سے پوچھا: تیری شراب کس چیز سے تیار کی گئی ہے؟ اس نے کہا: منقّی اور کھجور سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک چیز دوسری سے کفایت کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6785]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة النجراني الذي روي عنه ابو اسحاق، أخرجه ابويعلي: 5783، والطيالسي: 1940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4786»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة النجراني الذي روي عنه ابو اسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6786
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي إِلَّا الْخَمْرَ، فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ
۔ علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں کسی آدمی پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوگا، ما سوائے شراب کی حد لگاتے ہوئے، اگر کوئی اس حد کے دوران مر جائے گا تو میں اس کی دیت ادا کروں گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی حدّ کو متعین نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6786]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6778، ومسلم: 1707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1024»
وضاحت: فوائد: … دوسری حدود کی طرح شراب کی حدّ کا تعین نہیں کیا گیا، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی اور احتیاط کا یہی تقاضا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شرابی کی حدّ مقرر نہیں تھی۔ چھڑی، جوتوں، کپڑوںسے سزا دے دی جاتی تھی، البتہ یہ بات درست ہے کہ ایک موقع پر زیادہ سے زیادہ چالیس ضربیں لگائی گئیں، اسی چیز کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کا قانون جاری رکھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کبار صحابہ کے مشورے سے اسی (۸۰) کوڑوں تک سزا زیادہ کر دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے بڑی دور اندیشی پر مشتمل تھی کہ شرابی تہمت اور بہتان والی باتیں کرتا ہے، اس لیے اس کو تہمت والی سزا دی جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6778
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الشَّارِبِ فِي الرَّابِعَةِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ
چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6787
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ) ) ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ائْتُونِي بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ فَلَكُمْ عَلَيَّ أَنْ أَقْتُلَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پیئے اسے کوڑے مارو، اگر وہ دوبارہ پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ سہ بارہ پیئے تو پھر کوڑے مارو اور اگر وہ چوتھی مرتبہ پیئے تو پھر تم اس کو قتل کر دو۔ وکیع نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبد اللہ نے کہا: میرے پاس اس آدمی کو لاؤ جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی ہو،مجھ پر یہ تمہارا ذمہ ہوگا کہ میں اسے قتل کر دوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6787]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6791»

الحكم على الحديث:
صحيح بشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6788
عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ) )
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پیئے اسے حد لگاؤ، اگر وہ پھر پیئے تو پھر حد لگاؤ، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگاؤ، لیکن اگر وہ چوتھی مرتبہ شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6788]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4482، والترمذي: 1444، وابن ماجه: 2573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:16847 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16972»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6789
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ) )
۔ صحابی رسول سیدنا شرحبیل بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر پی لے تو اسے حد لگاؤ، لیکن اگر وہ پھر بھی شراب نوشی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6789]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 620، 7212، والحاكم: 4/ 373، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18217»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں