الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْأَشْهَادِ عَلَيْهَا وَبِمَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ
رجوع کرتے وقت گواہ بنا نے اور اس چیز کا بیان کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کے لیے کیسے حلال ہو گی
حدیث نمبر: 7182
عَنْ عَطَاءِ الْخُرَاسَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَحْوَهُ وَزَادَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرِفَاعَةَ فَلَا يَتِمُّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: پھر وہ عورت دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ اس کا شوہر اس سے جماع کرچکاہے، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہلے شوہر کی طرف لوٹنے سے منع کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! اگراس عورت کا ارادہ یہی ہے کہ وہ رفاعہ کے لئے اسے حلال کرے تو اس کا دوبارہ نکاح پو را نہ ہو۔ بعدازاں وہ عورت سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں ان کے پا س (اسی غرض) سے آئی تو ان دونوں نے بھی اسے منع کردیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7182]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب اوھام كثيرة، ثم ھو لم يسمع من ابن عباس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3441»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7183
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا وَكَانَ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ يَقْرُبْهَا إِلَّا هَبَّةً وَاحِدَةً لَمْ يَصِلْ مِنْهَا إِلَى شَيْءٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَحِلُّ لِزَوْجِي الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلِّينَ لِزَوْجِكِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (تین) طلاقیں دیں، اس نے دوسرے خاوند سے شادی کر لی، وہ اس کے پاس آیا، لیکن اس کا عضو خاص کپڑے کی جھالر کی مانند تھا، وہ اس کے قریب صرف ایک مرتبہ ہی آیا تھا اور اس بار بھی جماع نہ ہو سکا، اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا اور کہا: کیا میں پہلے خاوند کے حق میں حلال ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ دوسرا خاوند تجھ سے لذت اندوز نہ ہو جائے اور تو اس سے لذت اندوز نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7183]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5265، ومسلم: 1433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26445»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ} … پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں، جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۰)
الحكم على الحديث: صحیح