الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْحَبُّ عَلَى تَعَلُّمِ الْقُرْآنِ وَتَعْلِيمِهِ وَحِفْظِهِ وَفَضْلٍ ذَلِكَ
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8341
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8341]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 1/ 567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19773»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے یمن کی طرف ان دو صحابہ کو بھیجا تھا اور ان کو روانہ کرنے کا ایک مقصد قرآن مجید کی تعلیم بھی تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 567
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي قِرَائَةِ الْقُرْآنِ بِأَجْرٍ أَوْ تَعْلِيمِهِ بِأَجْرِ
قرآن پاک کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان
حدیث نمبر: 8342
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيكُمْ كِتَابُ اللَّهِ يَتَعَلَّمُهُ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ تَعَلَّمُوهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُهُ نَاسٌ وَلَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَيُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ فَيَتَعَجَّلُونَ أَجْرَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے، سیاہ، سفید اور سرخ رنگ والا، ہر کوئی اس کو سیکھتا ہے،اس کو اس وقت سے پہلے پہلے سیکھ لو، جب لوگ اسے سیکھیں گے، لیکن یہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا اور اس کے الفاظ اس طرح سیدھے کریں گے، جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ دنیا میں ہی اس کی اجرت طلب کریں گے، آخرت تک تاخیر نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8342]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23253»
وضاحت: فوائد: … ایسے لوگ تکلف کر کے قرآن مجید کے الفاظ میں حسن بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ لوگ ان کی طرف راغب ہوں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی کی، اب ایسے ہی واقع ہو چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 831
حدیث نمبر: 8343
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشْغَلُ فَإِذَا قَدِمَ رَجُلٌ مُهَاجِرٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَّا يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ فَدَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَكَانَ مَعِي فِي الْبَيْتِ أُعَشِّيهِ عَشَاءَ أَهْلِ الْبَيْتِ فَكُنْتُ أُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَانْصَرَفَ انْصِرَافَةً إِلَى أَهْلِهِ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ حَقًّا فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا لَمْ أَرَ أَجْوَدَ مِنْهَا عُودًا وَلَا أَحْسَنَ مِنْهَا عِطْفًا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيهَا قَالَ جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسلمانوں کی مصلحتوں میں) مصروف رہتے تھے، جب بھی کوئی ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ہم میں سے کسی آدمی کے ساتھ ملا دیتے تاکہ وہ اسے قرآن پاک کی تعلیم دے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی میرے حوالے کیا،وہ میرے گھر میں ہی رہتا تھا، میں اسے وہی کھانا دیتا، جو میرے گھر والے کھاتے تھے، میں اسے قرآن پاک پڑھاتا تھا،جب وہ اپنے گھرچلا گیا اور اس نے خیال کیا کہ میرا اس پر حق ہے تو اس نے مجھے کمان بطورِ تحفہ دی، میں نے اس جیسی بہترین لکڑی اور اس جیسی بنی ہوئی کمان نہیں دیکھی تھی، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے کندھوں کے درمیان آگ کا انگارا ہے، جو تو نے لٹکا لیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8343]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3416، 3417، وابن ماجه: 2157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23146»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَ ہْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ، فَأَ ہْدَی إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا لَیْسَتْ لِی بِمَالٍ وَأَ رْمِی عَنْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی، فَسَأَ لْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((إِنْ سَرَّکَ أَ نْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔)) … میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو کتابت اور قرآن مجید کی تعلیم دی،ان میں سے ایک آدمی نے مجھے ایک کمان تحفہ دی، میں نے کہا: یہ میرے لیے کوئی مال تو نہیں ہے، (یہ تو جہاد میں کام آنے والا ہتھیار ہے) میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر پھینکوں گا، (اس لیے لے لیتا ہوں)، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اس کی وجہ سے تجھے آگ سے طوق پہنا دیا جائے تو قبول کر لے۔ (مسند احمد: ۲۲۶۸۹)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3416
حدیث نمبر: 8344
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ قَالُوا فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ
۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: جن صحابہ نے ہمیں قرآن مجید پڑھایا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دس آیات پڑھ لیتے تھے تو اگلی دس آیات اس وقت تک نہ پڑھتے تھے، جب تک وہ ان آیات پر عمل نہیں کر لیتے تھے، انھوں نے کہا: ہم نے علم اور عمل دونوں چیزوں کی تعلیم ایک ساتھ حاصل کی۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8344]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 460، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23878»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت لینا کیسا ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)کا باب اور اس کی شرح۔
قارئین کرام! اس بحث کا مطالعہ کریں، قرآن کریم کی تعلیم سے متعلقہ افراد کا معاملہ بڑا حساس ہے، ان کو سنجیدگی سے غور کر کے اپنے ارادے کاجائزہ لینا چاہیے۔
قارئین کرام! اس بحث کا مطالعہ کریں، قرآن کریم کی تعلیم سے متعلقہ افراد کا معاملہ بڑا حساس ہے، ان کو سنجیدگی سے غور کر کے اپنے ارادے کاجائزہ لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 460