🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الْحَبُّ عَلَى تَعَلُّمِ الْقُرْآنِ وَتَعْلِيمِهِ وَحِفْظِهِ وَفَضْلٍ ذَلِكَ
قرآن پاک کو سیکھنے سکھانے، اس کو حفظ کرنے پر رغبت دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8331
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پیٹ میں قرآن مجید کا کوئی حصہ نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8331]
تخریج الحدیث: «ضعيف، لضعف قابوس۔ أخرجه الترمذي: 2913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1947»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8332
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَلَمْ تَرَوْهُ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا بھلائی کے ساتھ ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے دیکھا نہیں کہ وہ قرآن سیکھتا ہے، (سو بہتر کیوں نہ ہو)۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8332]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)24374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24878»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8333
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَهْ فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا:پڑھتا جا اور چڑھتا جا، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا، وہاں تیری منزل ہو گی۔امام اعمش کو راویٔ حدیث کے نام میں شک ہوا۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8333]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 2915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10089»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی آیات کی تعداد جنت کے درجات کے برابر ہے، جس کو جتنی آیاتیاد ہوں گی، اس کو اتنے ہی درجے ملیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8334
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْقَ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن سے کہا جائے گا کہ تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس بیشک تیری منزل وہ ہو گی، جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8334]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1464، والترمذي: 2914، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6799»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8335
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت صاحبِ قرآن سے کہاجائے گا،جب وہ جنت میں داخل ہوگا،پڑھتاجا اور اوپر چڑھتا جا، وہ پڑھتا جائے گا اور ہر آیت پر درجہ بدرجہ چڑھتا جائے گا،یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8335]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11380»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8336
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَهُوَ حِبْرٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک سے پہلی سات سورتیں یاد کرے وہ ایک بڑا عالم ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8336]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 1/ 564، والبزار: 2327، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24947»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت الأُوَل کے بجائے الطِّوَال کے الفاظ ہیں، ان سے مراد درج ذیل سات سورتیں ہیں:
(۱)سورۂ بقرہ، (۲)سورۂ آل عمران، (۳)سورۂ نسائ، (۴)سورۂ مائدہ، (۵)سورۂ انعام، (۶)سورۂ اعراف، (۷)سورۂ انفال، سورۂ توبہ (بعض اہل علم سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کو ایک سورت تسلیم کرتے ہیں)۔
قرآن مجید کے بیشتر، مفصل، فقہی اور اہم مسائل کا بیان پہلی سات سورتوں میں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8337
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ فَقِيلَ مَنْ أَهْلُ اللَّهِ مِنْهُمْ قَالَ أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اہل اللہ بھی موجود ہیں۔ کسی نے کہا:اہل اللہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے اللہ کااہل اور اس کے بندگان خاص ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8337]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12304»
وضاحت: فوائد: … اہلِ قرآن سے مراد وہ لوگ ہیں، جو قرآن مجید کو یاد کرتے ہیں، رات کی گھڑیوں میں اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی تعلیم و تعلّم کا بند و بست کرتے ہیں۔ اہل اللہ سے مراد اللہ تعالی کے اولیاء اور اس کے خاص لوگ ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8338
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَتَعَاهَدُوا وَتَغَنَّوْا بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتاب اللہ کو سیکھو اور پھر اس کی نگہداشت کرو اور گا کر یعنی خوبصورت آواز میں اس کو پڑھو، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت (سینوں سے) جلدی نکل جانے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8338]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 500، والدارمي: 3348، والنسائي في الكبري: 8034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17450»
وضاحت: فوائد: … کتاب اللہ کی تعلیم حاصل کرنے کے تین انداز ہیں: (۱)ناظرہ (۲) حفظ (۳)ترجمہ و تفسیر۔
جو آدمی جس انداز میں اس کتاب کی تعلیم حاصل کر چکا ہے، اس کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ بار بار اس کو پڑھا جائے اور اس کے معانی و مفاہیم کا مطالعہ کیا جائے، عام لوگوں کا نظریہیہ ہے کہ اس قسم کی احادیث کا تعلق صرف حافظ ِ قرآن سے ہے، لیکنیہ نظریہ درست نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8339
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ فَيَأْخُذَهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ قَالَ قُلْنَا كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک دن صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم میں سے کون ہے، جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روزانہ صبح صبح وادیٔ بطحان یا وادیٔ عقیق میں جایا کرے اور کسی گناہ اور قطع رحمی کے بغیر وہاں سے خوبصورت اور بڑی کوہان والی دو اونٹنیاں لے آیا کرے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں ہر ایک یہ چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مسجد میں صبح جائے، کتاب اللہ سے دو آیتیں سیکھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین آیتیں، تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں، چار چار سے بہتر ہیں، غرضیکہ جتنی آیات، اتنی اونٹنیاں۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8339]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17543»
وضاحت: فوائد: … انسان ظاہری اور خاص طور پر مال و دولت کی نعمت کو زیادہ اور جلدی محسوس کرتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مثال دے کر صحابۂ کرام کاذہن روحانی خزانے کی طرف منتقل کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8340
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سے ملتی جلتی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8340]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10017»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں: ((أَ یُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَ ہْلِہِ یَجِدُ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ فَثَلَاثُ آیَاتٍیَقْرَأُ بِہِنَّ أَ حَدُکُمْ فِی صَلَاتِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ۔)) … کیا تم میں سے کوئییہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے تو اس کو وہاں تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیاں مل جائیں، بس تین آیات ہیں، اگر کوئی آدمی اپنینماز میں تین آیات کی تلاوت کر لیتا ہے تو یہ عمل اس کے لیے تین موٹی تازی اور بڑی کوہان والی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں