🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب: «وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ»
{وَمَا مَنَعَنَا اَنْ نُرْسِلَ بِالْآیَاتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8653
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا فَقِيلَ لَهُ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ قَالَ لَا بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً} [الإسراء: 59]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے صفا پہاڑی کو سونے کی بنا دیں اور پہاڑوں کو ان سے دور کر دیں، تا کہ (جگہ ہموار ہو جائے اور) وہ کھیتی باڑ ی کر سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کو مہلت دے دیں اورچاہتے ہیں تو ان کے لیے ان کا مطالبہ پورا کر دیں، لیکن اگر مطالبہ پورا ہو جانے کے بعد بھی انہوں نے کفر کیا تو میں انہیں اس طرح ہلاک کر دوں گا، جس طرح ان سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں انہیں مہلت دیتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّآ اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاَوَّلُوْنَ وَاٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِہَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا۔} … اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلادیا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی واضح نشانی کے طور پر دی تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8653]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11290، والحاكم: 2/ 362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2333»
وضاحت: فوائد: … یہ کوئی شرعی قانون نہیں ہے کہ دشمنوں کا ہر مطالبہ پورا کیا جائے، اللہ تعالی اپنی حکمت کی روشنی میں اور اتمام حجت کے لیے مختلف نشانیوں کا اظہار تو کرتا ہی رہتا ہے، وگرنہ گزر جانے والی امتوں نے نشانی کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد نہ صرف ایمان قبول نہیںکیا، بلکہ وہ ظلم میں اور آگے بڑھ گئے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی بَلْ لِّلّٰہِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا اَفَلَمْ یَایْئَـسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْیَشَاء ُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیْعًا وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُہُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِہِمْ حَتّٰییَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔} (سورۂ رعد: ۳۱)
اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی،یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دِکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا اہل ایمان ابھی تک کفّار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر مایوس نہیں ہو گئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کا رویّہ اختیار کر رکھا ہے ان پر ان کے کر تو توں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقیناً اللہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 11290
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: «وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةٌ للنَّاسِ»
{وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8654
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ اس آیت {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} … اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش۔ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس منظر سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات کو دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8654]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3888، 4716، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1916»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3888
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8654M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ رَآهُ بِعَيْنَيْهِ حِينَ ذَهَبَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ اس آیت {وَمَا جَعَلَنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِلنَّاسِ} … اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش۔ کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ اس سے مراد وہ چیز ہے، جو حالت بیداری میں تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آنکھ کے ساتھ دیکھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی جانب لے جایا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8654M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3500»
وضاحت: فوائد: … اسراء و معراج کا سفر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھلا معجزہ ہے، اس سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتاہے، لیکنیہ واقعہ ساتھ ساتھ لوگوں کی آزمائش اور امتحان بھی ہے، حدیث نمبر (۱۰۵۶۴) اور اس کے بعد والی احادیث میں اسراء و معراج کی تفصیل موجود ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: «وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا»
{وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8655
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78] قَالَ تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا} … اور فجر کا قرآن (پڑھ)، بے شک فجر کا قرآن ہمیشہ سے حاضر ہونے کا وقت رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے اس نماز میں حاضر ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8655]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 670، والترمذي: 3135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10137»
وضاحت: فوائد: … اس آیت میں قُرْآن سے مراد قراء ت ہے، دراصل نمازِ فجر کی قراء ت کا ذکر کر کے اس نماز کا حکم دیا جا رہا ہے، نیکیاں اور برائیاں نوٹ کرنے والے فرشتوں کی ڈیوٹیاں فجر اور عصر کی نمازوں میں تبدیل ہوتی ہیں، آنے والے اور جانے والے دونوں ان نمازوں میں شریک ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 670
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: «عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا»
{عَسٰی اَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8656
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] قَالَ هُوَ الْمَقَامُ الَّذِي أَشْفَعُ لِأُمَّتِي فِيهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {عَسٰی اَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا} … (قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔) کے بارے میں فرمایا: یہ وہ مقام ہے، جہاں میں اپنی امت کے لیے سفارش کروں گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8656]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9682»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: «وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ» ‏‏‏‏
{وَقُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8657
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ حکم نازل فرمایا: {وَقُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا} … اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8657]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف قابوس۔ أخرجه الترمذي: 3139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1948»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کے بارے میں درج ذیل تین اقوال ہیں:
(۱) یہ آیت ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینے میں داخل ہونے اور مکے سے نکلنے کا مسئلہ درپیش تھا۔
(۲) اس میں یہ دعا کی جا رہی ہے کہ سچائی کے ساتھ موت ملے اور سچائی کے ساتھ قیامت والے دن اٹھایا جائے۔
(۳) یہ دعا کی جا رہی ہے کہ قبر میں سچا داخل کیا جائے اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھایا جائے تو سچائی کے ساتھ نکالا جائے۔
امام شوکانی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ دعا ہے، اس لیے اس کے عموم میں یہ سب باتیں آ جاتی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف قابوس ۔ أخرجه الترمذي: 3139
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي»
{وَیَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8658
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالُوا سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَسَأَلُوهُ فَنَزَلَتْ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا} [الإسراء: 85] قَالُوا أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا أُوتِينَا التَّوْرَاةَ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ} [الكهف: 109]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے یہودیوں سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتاؤ، جس کے بارے میں ہم اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے سوال کریں (اور اس کو لا جواب کر دیں)، انہوں نے کہا: اس سے روح کے بارے میں سوال کرو، پس جب انہوں نے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَیَسْأَ لُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} … یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کا حکم ہے، تمہیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم دیا گیا ہے، ہمیں تورات دی گئی اور جس کو تورات دے دی جائے، اس کو بہت زیادہ بھلائی دے دی جاتی ہے، ان کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا} … کہہ دےاگرسمندرمیرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8658]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 3140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2309»
وضاحت: فوائد: … یہودی ایک ہٹ دھرم، حجتی اور حق سے منحرف قوم تھی، وہ حق کو کسی صورت قبول کرنے والے نہیں تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 3140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8659
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ قَالَ فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ مَا الرُّوحُ فَقَامَ فَتَوَكَّأَ عَلَى الْعَسِيبِ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا} [الإسراء: 85] قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لَا تَسْأَلُوهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹہنی پر ٹیک لگارہے تھے،اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا، انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس سے روح کے بارے میں سوال کرو، بعض نے کہا کہ اس سے کوئی بات مت پوچھو، لیکن پھر انہوں نے پوچھ لیا اورکہا: اے محمد! روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹہنی پر ٹیک لگا کرکھڑے ہو گئے، میں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَیَسْأَ لُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} … یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کا حکم ہے، تمہیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ پھر ان میں سے بعض افراد دوسروں سے کہنے لگے: ہم نے تم کو کہا تو تھا کہ ان سے سوال نہ کرو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8659]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 125، 4721، 7456، ومسلم: 2794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3688»
وضاحت: فوائد: … روح ایک لطیف چیز ہے، جو کسی کو نظر نہیں آتی، لیکن ہر جاندار کی قوت و توانائی اسی روح کے اندر مضمر ہے، اگر وہ نہ ہو تو وجود، مردہ پن کے علاوہ کچھ نہیں ہے، لیکن اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے؟ یہ کوئی نہیں جانتا، بس اس کے بارے میں اتنا جان لینا کافی ہے کہیہ اللہ تعالی کا حکم ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 125
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: «‏‏‏‏وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ»
{وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8660
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَزِيدُ الْمُرَادِيُّ قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ اذْهَبْ بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَزِيدُ إِلَى هَذَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ} [الإسراء: 101] فَقَالَ لَا تَقُلْ لَهُ نَبِيٌّ فَإِنَّهُ إِنْ سَمِعَكَ لَصَارَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَسْحَرُوا وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلَا تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً أَوْ قَالَ تَفِرُّوا مِنْ الزَّحْفِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ وَأَنْتُمْ يَا يَهُودُ عَلَيْكُمْ خَاصَّةً أَنْ لَا تَعْتَدُوا قَالَ يَزِيدُ تَعْدُوا فِي السَّبْتِ فَقَبَّلَا يَدَهُ وَرِجْلَهُ وَقَالَ يَزِيدُ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ وَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تَتَّبِعَانِي قَالَا إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخْشَى قَالَ يَزِيدُ إِنْ أَسْلَمْنَا أَنْ تَقْتُلَنَا يَهُودُ
۔ سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ ہم اس نبی کے پاس چلیں اور اس سے اس آیت کے بارے میں پوچھیں {وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسٰی تِسْعَ آیَاتٍ} … (اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو نو (۹) نشانیاں دیں تھیں)۔ دوسرے یہودی نے کہا: اسے نبی مت کہہ، اگر اس نے یہ سن لیا تو اس کو چار آنکھیں لگ جائیں گی، (یعنی وہ بہت خوش ہوگا کہ یہودی بھی اس کو نبی کہتے ہیں)۔ پس وہ آئے اور سوال کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، جس جان کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اسے قتل نہ کرو، مگر حق کے ساتھ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، بری اور بے گناہ آدمی کو بادشاہ کے پاس اس لئے نہ لے جاؤ کہ اسے قتل کر وا دو، پاکدامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، یا فرمایا جنگ کے دن میدان سے نہ بھاگو، اوراے یہودیو! تم خصوصاً خیال رکھنا کہ ہفتہ کے دن حد سے نہ بڑھو۔ ان یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پاؤں چوما اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ واقعی آپ نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میری پیروی کرنے میں کون سی چیز مانع اور رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ ان کی نسل سے ہمیشہ نبی آتا رہے، اس لیے اگر ہم نے اسلام قبول کر لیا تو ہمیں ڈر ہے کہ یہودی ہمیں قتل کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8660]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبدا لله بن سلمة المرادي۔ أخرجه الترمذي: 2733، والنسائي: 7/111، وابن ماجه: 3705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18262»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسٰی تِسْعَ آیَاتٍ} … اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو نو (۹) نشانیاں دیں تھیں۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۱۰۱)
ان نو نشانیوں سے مراد درج ذیل نو معجزے ہیں:
ہاتھ، لاٹھی، قحط سالی، پھلوں کی کمی، طوفان، جراد (ٹڈی دل)، قمل (کھٹمل، جوئیں)، مینڈک اور خون۔
لیکن حس بصری نے کہا: قحط سالی اور پھلوں کی کمی ایک ہی چیز ہے، اور نواں معجزہ لاٹھی کا جادو گروں کی شعبدہ بازی کو نگل جانا ہے۔
موسی علیہ السلام کو ان کے علاوہ بھی معجزات دیئے گئے تھے، مثلا: لاٹھی کا پتھر پر مارنا، جس سے بارہ چشمے ظاہر ہو گئے تھے، بادلوں کا سایہ کرنا اور من و سلوی وغیر، لیکن اس مقام پر نو نشانیوں سے مراد صرف وہ نو معجزات ہیں، جن کا مشاہدہ فرعون اور اس کی قوم نے کیا ہے، اس لیے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سمندر کے پھٹنے کو ان نو معجزات میں شمار کیا ہے اور حسن بصری کی طرح قحط سالی اور نقص ثمرات کو ایک معجزہ شمار کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبدا لله بن سلمة المرادي ۔ أخرجه الترمذي: 2733
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: «وَلا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا»
{وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8661
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: 110]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری: {وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا} … اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھ اور نہ اسے پست کر اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کر۔ تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں چھپ کر رہتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو بآواز بلند قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ جب مشرک قرآن سنتے تو وہ قرآن مجید کو، اس کو نازل کرنے والے اور اس کو لانے والے فرشتے کو برا بھلا کہتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: {وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ} یعنی اپنی قراء ت کو اتنا بلند نہ کرو کہ مشرک سن لیں اور پھر وہ قرآن کو گالی دیں، {وَلَا تُخَافِتْ بِہَا} اور اس کو اپنے صحابہ سے پست نہ کرو کہ وہ بھی نہ سنیں، تاکہ وہ سن کر اس کو سیکھ سکیں، {وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیلًا}اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کرو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8661]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4722، 7490، ومسلم: 446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1853»
وضاحت: فوائد: … کسی مفسدت کی خاطر کوئی مصلحت اختیار کی جا سکتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَیَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ} (سورۂ انعام: ۱۰۸)
اور انھیں گالی نہ دو جنھیںیہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کو مشرکین کے معبودوں کو گالیاں دینے سے منع فرماتا ہے، اگرچہ اس میں مصلحت بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس میں پائی جانے والے مفسدت بڑی ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے کہ ایسا مشرک اپنی نادانی کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4722
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں