الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: «يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلاتِ ...»
{وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8763
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ فِينَا نَزَلَتْ فِي بَنِي سَلِمَةَ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ [الحجرات: 11] قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ فَكَانَ إِذَا دُعِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِاسْمٍ مِنْ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ [الحجرات: 11]
۔ سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں:یہ آیت ہم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی: {وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَ لْقَابِ} … برے القاب کے ساتھ ایک دوسرے کو مت پکارو۔ تفصیلیہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر آدمی کے دو تین نام تھے، جب اس کو کسی ایک نام سے پکارا جاتا تو لوگ کہتے: اے اللہ کے رسول! اس کواس نام سے غصہ آتا ہے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَ لْقَابِ} … برے القاب کے ساتھ ایک دوسرے کو مت پکارو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8763]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 4962، والترمذي: 3268، وابن ماجه: 3741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18477»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8763M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ [الحجرات: 11]
۔ (دوسری سند)ابوجبیرہ اپنے چچائوں سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے ایک دو دو لقب تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی آدمی کو اس کے لقب کے ساتھ آواز دیتے تو آگے سے لوگ بتلاتے کے اے اللہ کے رسول! اسے یہ لقب پسند نہیں ہے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَ لْقَابِ} … برے القاب کے ساتھ ایک دوسرے کو مت پکارو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8763M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13325»
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ: «وَهُوَ بِالْأُفُقِ الأعلى۔۔۔۔۔إلى قَوْلِهِ۔۔۔۔۔۔۔۔لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى»
سورۂ ق {یَوْمَ نَقُوْ لُ لِجَہَنَّمَ ھَلِ امْتَلَاْتِ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8764
عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ شَيْئًا مِنَ التَّفْسِيرِ قَالَ قَوْلُهُ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ [ق: 30] قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ
۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ اس آیت {یَوْمَ نَقُولُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَأْتِ} … جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تم بھر گئی ہے۔ کی تفسیر کے متعلق روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخ یہی مطالبہ کرتی رہے گی کہ کیا مزید لوگ ہیں،یہاں تک کہ عزت والا ربّ اپنا قدم مبارک اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی: بس بس، تیری عزت کی قسم! پھردوزخ کا ایک حصہ دوسرے کی طرف سکڑ جائے گا (اور وہ بھر جائے گی)۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8764]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6661، ومسلم: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13435»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی نے جہنم سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ اس کو بھر دے گا، لیکن وہ اس قدر گہری اور وسیع ہے کہ جب اس کے مستحق افراد کو اس میں ڈالا جائے گا تو ابھی تک اس کا بڑا حصہ خالی پڑا ہو گا، اللہ تعالی اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے اپنا قدم مبارک اس میں رکھیں گے اور اس کے کنارے آپس میں بھر جائیں گے۔ اللہ تعالی ہمیں اس عذاب گاہ سے محفوظ رکھے۔ آمین
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَاب قَوْلِهِ: «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ»
سورۂ نجم {وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی … اِلٰی قَوْلِہٖ … لَقَدْرَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8765
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ أَمَّا مَرَّةٌ فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ وَقَوْلُهُ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى [النجم: 7-10] قَالَ فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ عَادَ فِي صُورَتِهِ وَسَجَدَ فَقَوْلُهُ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى [النجم: 13-18] قَالَ خَلْقَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود جبریل سے مطالبہ کیا تو انھوں نے اپنی اصلی صورت دکھائی، جس سے افق بھر گیا اور دوسری بار جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اسراء و معراج کے موقع پر)ان کے ساتھ چڑھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَ عْلٰی ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَ وْ أَدْنٰی فَأَ وْحٰی إِلٰی عَبْدِہِ مَا أَ وْحٰی} … جبکہ وہ بالائی افق پر تھا۔ پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کی طرف وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ جب جبریل علیہ السلام نے اپنے ربّ کو محسوس کیا تو انھوں نے اپنی اصلی صورت اختیار کر لی اور سجدے میں گر پڑے، اسی کے بارے میں ارشادِ باری تعالی ہے:{وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَأْوٰی إِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی لَقَدْ رَأٰ ی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} … جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃا المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا۔ جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔ اس وقت سدرہ (بیری کے درخت) پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا۔نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی۔ اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ انھوں نے کہا: اس سے مراد جبریل علیہ السلام کا وجود ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8765]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال اسحاق بن ابي الكھتلة، وللشك في وصله عن ابن مسعود۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 10547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3864»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۰۵۸۶)کا باب ملاحظہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اللہ تعالی کو یا جبریل کو دیکھنا، اس باب میں اس مسئلہ پر بحث کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8766
عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ قَالَ سَأَلْتُ عَاصِمًا عَنِ الْأَجْنِحَةِ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَنِي قَالَ فَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَنَّ الْجَنَاحَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عاصم سے پروں کے بارے میں پوچھا، لیکن انھوں نے بتانے سے انکار کر دیا، پھر ان کے بعض شاگردوں نے مجھے بتایا کہ ایک پر مشرق سے مغرب تک تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8766]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 10423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3862»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8767
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى [النجم: 11] قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی} … نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملا یا۔ کے بارے میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل کو خوش نما پوشاک میں دیکھا، انھوں نے آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8767]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 3283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3971»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8768
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ [التكوير: 23] وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى [النجم: 13] قَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
۔ مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، میں نے کہا:اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَقَدْ رَآہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِینِ} … تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واضح افق پر دیکھا۔ نیز فرمایا: {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔} … جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃا المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا۔ سیدہ نے جواباً کہا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان دو آیات کے بارے میں سوال کیا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: وہ تو جبریل علیہ السلام ہیں۔ جس صورت پر جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس صورت پر صرف دو بار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہوئے دیکھا، ان کے بڑے وجود نے آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8768]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26568»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8769
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى [النجم: 11] قَالَ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَلْبِهِ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے اس آیت {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی} … نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملا یا۔ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو اپنے دل سے دو بار دیکھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8769]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1956»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۰۵۸۶)کا باب ملاحظہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اللہ تعالی کو یا جبریل کو دیکھنا، اس باب میں اس مسئلہ پر بحث کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ: «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ»
سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8770
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [القمر: 1] قَالَ قَدِ انْشَقَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ أَوْ فِلْقَتَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَكَانَ فِلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ عَلَى الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} … قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا، ایک ٹکڑا (حرا) پہاڑ کے پیچھے نظر آ رہا تھا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر، یہ معجزہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8770]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3869، 3871، ومسلم: 2800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4270»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8771
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ [القمر: 1-2]
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو مکہ میں چاند دو ٹکڑے ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} … قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8771]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12718»
وضاحت: فوائد: … اہل مکہ کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھایا گیا، علما کے درمیانیہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح احادیث ِ متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں، لیکن قریش نے ایمان لانے کی بجائے اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔
الحكم على الحديث: صحیح