الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ
اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9162
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِيكُمْ أَخْلَاقًا الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور روزِ قیامت میرے سب سے زیادہ قریبی وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سے اخلاق کے لحاظ سے بہت عمدہ ہوں اور تم میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ نفرت والے اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو برے اخلاق والے، فضول بولنے والے، تکبر کرنے والے اور گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9162]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 515، وابن حبان: 482، والطبراني في الكبير: 22/ 588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17884»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں حسنِ اخلاق کی ترغیب دی گئی ہے اور غیر ضروری، غیر محتاط اور تصنع و بناوٹ سے گفتگو کرنے اور اس کے ذریعے سے دوسروں پر رعب و برتری جتانے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ گویا کم بولنا اور سادگی سے گفتگو کرناپسندیدہ ہے اور اس کے برعکس زیادہ بولنا اور وہ بھی دوسروں پر ہیکٹر جمانے کے لیے گفتگو میں تیزی و طراری اور تصنع اختیار کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9163
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا
۔ سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9163]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18647»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9164
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَبِي سَمُرَةُ جَالِسٌ أَمَامِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ لَيْسَا مِنَ الْإِسْلَامِ وَإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ إِسْلَامًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے اور میرے باپ سمرہ رضی اللہ عنہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بدگوئی اور بدزبانی، اسلام سے نہیں ہے اور اسلام کے لحاظ سے سب سے اچھے لوگ وہ ہیں، جن کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9164]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 514، وابويعلي: 7468، والطبراني: 2072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21120»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9165
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ اتْبِعِ السَّيِّئَةَ بِالْحَسَنَةِ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! برائی کے بعد نیکی کیا کرو، تاکہ وہ اس کو مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9165]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22337»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 9166
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ( (اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ) ) قَالَ وَكِيعٌ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ مُعَاذٍ فَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بدی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ اس کو مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ معاذ راوی نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں عَنْ اَبِی ذَرٍّ کے الفاظ پائے اور یہی پہلا سماع تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9166]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21681»
وضاحت: فوائد: … برائی کے بعد نیکی کرنے سے برائی کا اثر زائل ہو جاتا ہے اور اس سوچ اور فکر سے آہستہ آہستہ اور بالآخر مزاج میں اتنی ترقی پیدا ہو جاتی ہے کہ بندہ برائیوں سے باز آ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 9167
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ أَفْضَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ) )
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن ترازو میں سب سے زیادہ فضیلت والی اور ایک روایت کے مطابق سب سے زیادہ وزن والی چیز حسن اخلاق ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9167]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2002، 2013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28044»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9168
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ ( (مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ وَلَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنَ الْخُلُقِ الْحَسَنِ) )
۔ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو نرمی کا فراخی کے ساتھ حصہ دیا گیا، اس کو اس کا خیر کا حصہ دے دیا گیا اور کوئی عمل ایسا نہیں ہے، جو ترازو میں حسن اخلاق کی بہ نسبت زیادہ وزنی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9168]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28104»
وضاحت: فوائد: … حسن اخلاق تعلیمات ِ اسلامیہ کے سلسلے کا ایک اہم باب ہے، اس کو اپنانے کے لیے تعلیم، مصلحت اور حکمت کی ضرورت ہے، تمام احادیث کو غور سے پڑھنے کے بعد حسن اخلاق کو سمجھنے اور اس کو اپنانے کی کوشش کریں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28104
2. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي عَظْمِ الْغَيْظِ وَعَدْمِ الْغَضَبِ
غصے کو پی جانے اور غصے نہ ہونے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9169
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی گھونٹ ایسا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں غصے کے اس گھونٹ سے زیادہ پسندیدہ ہو، جس کو بندہ پی جاتا ہے، جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے گھونٹ کو پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9169]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2726، والطبراني: 12217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3017»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے پرہیز گار لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {الَّذِیْنَیُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّاء ِ وَالضَّرَّاء ِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جانے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۳۴)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9170
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا تَجَرَّعَ عَبْدٌ جَرْعَةً أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا گھونٹ نہیں پیا، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ فضیلت والا ہو غصے کے اس گھونٹ سے، جس کو وہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے پی جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9170]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2726، والطبراني: 12217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6114»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9171
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَالَ ( (مَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَنْتَصِرَ دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُورِ الْعِينِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ وَمَنْ تَرَكَ أَنْ يَلْبَسَ صَالِحَ الثِّيَابِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ) )
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غصے کو پی جائے، حالانکہ وہ بدلہ لینے پرقادر بھی ہو، اللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ جس حورِ عین کو پسند کرتا ہے، اس کو لے لے۔اور جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرتے ہوئے اچھا لباس نہیں پہنا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی جو پوشاک پسند کرتا ہے، وہ پہن لے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9171]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 415، والبيھقي في الشعب: 6149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15704»
الحكم على الحديث:
حديث حسن