الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرِّفْقِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ
نرمی کی ترغیب دلانے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9192
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9192]
تخریج الحدیث: «حديث حسن في الشواھد، أخرجه البزار: 756، والبيقھي في الشعب: 8415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 902 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 902»
الحكم على الحديث: حديث حسن في الشواھد
حدیث نمبر: 9193
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نرمی سے محروم رہا، وہ خیر سے محروم رہا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9193]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19465»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2592
حدیث نمبر: 9194
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ فَأَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَى نَعَمٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَانِي مِنْهَا نَاقَةً مُحَرَّمَةً ثُمَّ قَالَ لِي يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
۔ مقدام بن شریح اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرائی زندگی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، ایک دفعہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحرائی زندگی کا ارادہ کیا تومیری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی، جس پر ابھی تک سواری نہیں کی گئی تھی، بھیجی اور فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جائے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9194]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2478، 4808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24811»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ٹیلوں کی طرف نکل جانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات ایسا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصدخلوت میں جا کر ذکر کرنا ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 9195
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ بَيْتٍ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمِ الرِّفْقَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی گھر والوں سے خیر و بھلائی کر ارادہ کرتا ہے تو ان کو نرمی کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9195]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البيھقي في الشعب: 6559، والبخاري في التاريخ الكبير: 1/ 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24931»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 9196
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي فَارْفُقْ بِهِ وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَشُقَّ عَلَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جس نے میری امت کے ساتھ نرمی والا معاملہ کیا، تو اس پر نرمی کر اور جس نے میری امت پر سختی کی، تو بھی اس پر سختی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9196]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط: 362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24841»
وضاحت: فوائد: … نرمی ایسا زیور ہے کہ اس سے متصف شخص لوگوں میں بھی ہر دلعزیز اور مقبول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی محبوب ہو جاتا ہے، نرمی جیسی صفت صبر وحلم، تحمل و برداشت اور عفوو درگزر کو جنم دیتی ہے کہ جن کی بنا پر دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، نرمی حکیم اور دانا لوگوں کی صفت ہے، وہ اس کی روشنی میں ہر انسان سے پیش آتے ہیں۔ جبکہ نرمی سے محروم آدمی لوگوں کی نگاہوں میں بھی معیوب چیز کی طرح حقیر ہو جاتا ہے اور عند اللہ بھی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
6. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرِّفْقِ بِالْحَيَوَانِ
حیوان کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9197
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابَّ وَرَوَاحِلَ فَقَالَ لَهُمْ ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو ایک جگہ پر کھڑے چوپائیوں اور سواریوں پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان جانوروں پر سوار ہو، اس حال میں کہ یہ صحت مند ہوں اور ان کو صحت و سا لمیت کی حالت میں ہی چھوڑا کرو اور راستوں اور بازاروں میں باتیں کرنے کے لیے ان کو کرسیاں نہ بنا لو (یعنی خواہ مخواہ ان پر نہ بیٹھے رہو)، پس کتنی ہی سواریاں ہیں، جو اپنے سواروں سے بہتر اور ان کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9197]
تخریج الحدیث: «حديث حسن الي قوله: ولا تتخذوھا كراسي۔ وھذا اسناده ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15714»
وضاحت: فوائد: … یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بنی آدم پر احسان ہے کہ اس نے جانوروں کو قوت ِ گویائی عطا نہیں کی، وگرنہ اس سے لوگوں کو کافی ساری پریشانی ہو سکتی تھی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان من مانی پر اتر آئے اور بے زبان مخلوق کا کوئی لحاظ نہ کرے، اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کی خاطر جانوروں میں بھوک، پیاس اور مشقت کا اظہار کرنے کے لیے ان کو بولنے کی قوت نہیں دی تو انسان کو یہ وصیت کر دی کہ وہ نہ صرف اس چیز کا احساس کرے، بلکہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنا خوف ِ خدا کا تقاضاہے۔
الحكم على الحديث: حديث حسن الي قوله: ولا تتخذوھا كراسي۔ وھذا اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 9198
عَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لَهُ بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غَذَاءَ رِبَاعِهِمْ وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ وَلَا يَعْبِطُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا
۔ سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے کچھ اونٹنیوں کا حکم دیا اور مجھے فرمایا: جب تو اپنے گھر پہنچے تو انھیں کہنا کہ موسم بہار میں پیدا ہونے والے ان کے بچوں کو اچھی غذادیں، نیز انھیں کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراش لیں تاکہ دودھ دوہتے وقت مویشیوں کے تھنوں کو خون آلود نہ کر دیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9198]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 6482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16057»
وضاحت: فوائد: … دودھ دوہتے وقت نرم انداز اختیار کیا جائے اور دوہنے کے وقت ناخن کٹے ہوئے ہوں، تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 9199
عَنْ ضَرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ لِقْحَةً (وَفِي رَوَايَةٍ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلُقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا) قَالَ فَحَلَبْتُهَا قَالَ فَلَمَّا أَخَذْتُ لِأُجْهِدَهَا قَالَ لَا تَفْعَلْ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
۔ سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دودھ والی اونٹنی بطورِ تحفہ دی، ایک روایت میں ہے: میرے بعض اہل خانہ نے مجھے دودھ والی اونٹنیاں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو دوہوں، پس میں نے ان کو دوہا اور جب میں نے مشقت کے ساتھ سارا دودھ نکالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر، بلکہ(مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) چھوڑ دیا کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9199]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19190»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے آخری الفاظ کا یہ معنی بیان کیا: دوہنے والے کو چاہیے کہ وہ دودھ کی کچھ مقدار تھنوں میں باقی رہنے دے اور ان کو مکمل نہ نچوڑ لے، کیونکہ دوہنے کے بعد تھنوں میں باقی رہنے والا دودھ مزید دودھ کے اترنے کا سبب بنے گا اور تھنوں کو مکمل نچوڑ لینے کی صورت میں پچھلا دودھ کافی دیر کے بعد اترے گا۔ (صحیحہ: ۱۸۶۰)
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9200
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلُبُ فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ دودھ دوہ رہا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) رہنے دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9200]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18999»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18999
حدیث نمبر: 9201
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا غَيْرِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَمَ صَعْبًا لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي بِهِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ صدقہ کے اونٹوں کی طرف جنگل میں گئے اور میرے علاوہ اپنی تمام بیویوں کو اونٹ دیے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے علاوہ سب کو ایک ایک اونٹ دیا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سخت اونٹ دیا، اس پر ابھی تک سوار نہیں ہوا گیا تھا، پس میں اس کو مارنے لگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی جدا ہوتی ہے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9201]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2478، 4808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25319»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم