الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الرَّيَاءِ وَهُوَ الشَّرْكُ الْخَفِيُّ نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْهُ
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 9710
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ رَاءَ رَاءَ اللَّهُ بِهِ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مشہور کر دے گا اور جس نے (خلافِ حقیقت) نیکی کا اظہار کرنا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار کروا دے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9710]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20730»
وضاحت: فوائد: … طلبی، ریاکاری، نمودو نمائش اور دکھلاوے جیسی چیزوں کا طلبگار ہونا انتہائی کمینگی اور گھٹیا پن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیا میں ان کی خواہش کے مطابق مشہور کر دیتے ہیں، پھر ان کی باتیں بھی سنی جاتی ہیں اور عزت تو عزت، ان کی چاپلوسی اور خوشامد تک کی جاتی ہے، لیکن میدانِ حشر میں ذلیل ہو جائیں گے، شہرت سے مراد روزِ قیامت کی ذلت بھی ہو سکتی ہے، یعنی قیامت کے روز ان کو لوگوں کے سامنے ذلیل کیا جائے گا، اس طرح سے ان کی شہرت ہو جائے گی اور ہر ایک پر ان کا معاملہ واضح ہو جائے گا۔
مومن کو چاہئے کہ اپنے عمل میں خلوص پیدا کرے اور اس معاملے میں اچھی خاصی فکر پیدا کرے، امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
یہ اتنے بڑے امام کی فکر اور رائے ہے، ہم کیسے فرق کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو، آمین۔ مزید ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۴)
مومن کو چاہئے کہ اپنے عمل میں خلوص پیدا کرے اور اس معاملے میں اچھی خاصی فکر پیدا کرے، امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
یہ اتنے بڑے امام کی فکر اور رائے ہے، ہم کیسے فرق کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو، آمین۔ مزید ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۴)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9711
عَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ) )
۔ سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ریاکای اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا اظہار کروا دے گا اور اس کو مشہور کر دے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9711]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2748، والبزار: 2026، والطبراني في الكبير: 22/ 803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22678»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9712
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ الْكِنَانِيِّ وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الرَّمْلَةِ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِبَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ يَوْمَ قُتِلَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ يَا أَبَا الْيَمَانِ قَدِ احْتَجْتُ الْيَوْمَ إِلَى كَلَامِكَ فَقُمْ فَتَكَلَّمْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ قَامَ بِخُطْبَةٍ لَا يَلْتَمِسُ بِهَا إِلَّا رِيَاءً وَسُمْعَةً أَوْقَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقِفَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ) )
۔ عبد اللہ بن عوف کنانی، جو کہ عمر بن عبد العزیزi کی طرف سے رملہ پر عامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبد الملک بن مروان کے پاس موجود تھا، اس نے عمرو بن سعید بن عاص کے قتل والے دن بشیر بن عقربہ جہنی سے کہا: اے ابو الیمان! آج مجھے تیرے کلام کی ضرورت پڑ گئی ہے، لہٰذا اٹھو اور کوئی بات کرو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہوا، جبکہ کا اس کا مقصد صرف ریاکاری اور شہرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاکاری اور شہرت والے مقام پر کھڑا کرے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9712]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 1227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16170»
وضاحت: فوائد: … ریاکاری اور شہرت والے مقام سے مراد وہ مقام ہے، جہاں اس کو ریاکاری کا بدلہ دیا جائے گا اور اس میں اس کی اس برائی کو ظاہر کر دیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 9713
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ وَصَغَّرَهُ وَحَقَّرَهُ) ) قَالَ فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے سامنے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کے سامنے مشہور کر دے گا، لیکن پھر اس کو گھٹیا اور حقیر کر دے گا۔ پھر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9713]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6509»
وضاحت: فوائد: … ریا کار آدمی دنیا میں بھی سلیم الفطرت اور متقی مومنوں کے نزدیک گھٹیا سمجھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی مومنوں کے دلوں میں اس کی حقیقی محبت پیدا نہیں ہونے دیتے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 9714
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ وَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى قُتِلْتُ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ لِيُعَرِّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ مِنْكَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ فَقَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ لِيُقَالَ هُوَ عَالِمٌ فَقَدْ قِيلَ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ ذَلِكَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَّادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ) )
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: جب لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ارد گرد سے بکھر گئے تو اہل شام کے ایک ناتل نامی آدمی نے کہا: محترم! ہمیں کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے روز سب سے پہلے ان (تین قسم کے) افراد کا فیصلہ کیا جائے گا: (۱)جس آدمی کو شہید کیا گیا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو کیا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا،حتی کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھو ٹ بول رہا ہے، تو نے تو اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور ایسے (دنیا میں) کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۲) علم سیکھنے سکھانے اور قرآن مجید پڑھنے والا آدمی، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیری خاطر علم سیکھا سکھایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، حصولِ علم سے تیرا مقصدیہ تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ قاری کہا جائے، سو ایسے تو کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۳)وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے خوشحال و مالدار بنایا اور اسے مال کی تمام اقسام عطا کیں، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کروائے گا، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: جن مصارف میں خرچ کرنا تجھے پسند تھا، میں نے ان تمام مصارف میں تیرے لئے خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تیرا خرچ کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے او روہ تو کہہ دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا، جس کے مطابق اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9714]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8260»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ ریاکاروں کا سخت محاسبہ ہو گا۔ شریعت ِ اسلامیہ کا تقاضا ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا، چاہے بظاہر وہ عمل کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ریاکاری کی وجہ سے اس پر ثواب ملنے کی بجائے، عذاب ہو گا اور ایسا نیکوکار جنت کے بجائے جہنم میں جائے گا۔
معلوم ہوا کہ ہر نیک عمل کرنے اور ہر برائی سے بچنے سے پہلے اس چیز کا تعین کر لیا جائے کہ اس عمل کا مقصود کیا ہے، اگر مقصود اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو راضی کرنا ہو تو سرے سے وہ لوگوں کے سامنے نہ کیا جائے، نیز اللہ تعالیٰ سے خلوصِ نیت کی بکثرت دعا کی جائے۔
معلوم ہوا کہ ہر نیک عمل کرنے اور ہر برائی سے بچنے سے پہلے اس چیز کا تعین کر لیا جائے کہ اس عمل کا مقصود کیا ہے، اگر مقصود اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو راضی کرنا ہو تو سرے سے وہ لوگوں کے سامنے نہ کیا جائے، نیز اللہ تعالیٰ سے خلوصِ نیت کی بکثرت دعا کی جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1905
حدیث نمبر: 9715
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ وَيَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنَ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النَّوْبِ فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ ( (مَا هَذِهِ النَّجْوَى أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى) ) قَالَ قُلْنَا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ فَرَقًا مِنْهُ فَقَالَ ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمَسِيحِ عِنْدِي) ) قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ ( (الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِمَكَانِ رَجُلٍ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی باریاں مقرر کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزارتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ضرورت پڑتی تھی اور رات کو کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو ہمیں اٹھا دیتے تھے، اس طرح ثواب کی خاطر آنے والوں اور باری والوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، ایک رات ہم گفتگو کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ سرگوشی ہو رہی ہے؟ میں نے تم کو سرگوشی سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور دجال سے ڈرتے ہوئے اس کی بات کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دے دوں، جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف والی ہے؟ ہم نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی،یعنی کسی آدمی کے مرتبے کی خاطر عمل کرنا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف كثير بن زيد الاسلمي وربيح بن عبد الرحمن، أخرجه ابن ماجه: 4204، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11272»
وضاحت: فوائد: … مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی اور ریاکاری جیسی آزمائش کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف كثير بن زيد الاسلمي وربيح بن عبد الرحمن
حدیث نمبر: 9716
عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا) ) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ( (إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ) ) قَالَ ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ) ) قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ
۔ سیدنا ابن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کے لیے نکلے، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند تلاوت کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے، (بھلا اس میں کیا حرج ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا: تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ایکرات کو ایسے ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے، جبکہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا، (اسی طرح) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (اور ہم چل پڑے) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (میرا ردّ کرتے ہوئے) فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبد اللہ ذو االبجادین تھے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9716]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به ھشام بن سعد، وھو ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19180»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ از روئے شریعت نماز میں بآوازِ بلند قرآن مجید کی تلاوت کرنا درست ہے، جیسا کہ اس حدیث کے دوسرے حصے سے بھی ثابت ہو رہا ہے۔ اس حدیث کے پہلے حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شخص میں ریاکاری کا امکان ظاہر کیا ہے، یقینایہ قرائن یا بصیرتیا وحی کی بنا پر تھا، کیونکہ جب آپ کے ساتھی سیدنا ابن ادرع نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سابقہ حدیث کو نمونہ بناتے ہوئے یہی بات سیدنا عبد اللہ ذو البجادین کے بارے میں کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ردکر دیا، حالانکہ دونوں بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔
ہاں پہلے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ کہنا کہ تم اس دین کو غلبے کے ساتھ اس دین کو نہیں پا سکتے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یا تو ایسے مقام پر کھڑا تھا کہ اس کے عمل کا بہت زیادہ اظہار ہو رہا تھا اور یہ چیز ریاکاری کا سبب بن سکتی ہے یابہت طویل قیام کر رہا تھا یا اس کی آواز بہت زیادہ بلند تھی، اس طرح وہ اعتدال اور میانہ روی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم کسی شخص پر ریاکاری کا الزام نہیں لگا سکتے، دونوں آدمی بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے بارے میں ریاکاری کے شبہ کا اظہار کر دیا، جبکہ دوسرے کے بارے میں کلمۂ خیر کہا۔ ہاں لوگوں کو غلوّ اور افراط سے بچنے کی اور اعتدال کے ساتھ عبادت کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔
اگرچہ آج کل تبصرے کا دور ہے، بری تو بری، دوسروں کی اچھی خصلتوں پر بھی ناقدانہ تبصرہ کیا جاتا ہے یا اچھے شخص کی کمی کوتاہیوں کو ہوا دے کر تبصرہ نگار بزعم خود اپنے آپ کو انسانِ کامل خیال کرتا ہے۔ ایک مسجد کی انتظامیہ کا ایک فرد مسجد کے خادم پر اس بنا پر تبصرہ کر رہا تھا کہ وہ فجر کی اذان بغیر وضو کے دے دیتاہے، میں نے اس سے پوچھا کہ آپ خود نمازِ فجر ادا کرتے ہیں؟ جناب نے منفی میں جواب دیا۔ ہائے خرابی! نماز سے محروم شخص اس بندۂ خدا پر نقد کر رہا ہے، جو فجر کی اذان دیتا ہے اور لوگوں کو باجماعت نمازِ فجر پڑھاتا ہے۔ جرم ہے بغیر وضو کے اذان دینا، جو شریعت میں سرے سے غلطی ہی نہیں ہے، اگرچہ افضل عمل یہی ہے کہ طہارت کا اہتمام کیا جائے۔
قارئین کرام! التماس یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں نیکی کے آثار پائے جاتے ہیں تو ان کو قبول کرنا چاہیے اور اس بنا پر اس کی قدر کرنی چاہیے۔
ہاں پہلے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ کہنا کہ تم اس دین کو غلبے کے ساتھ اس دین کو نہیں پا سکتے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یا تو ایسے مقام پر کھڑا تھا کہ اس کے عمل کا بہت زیادہ اظہار ہو رہا تھا اور یہ چیز ریاکاری کا سبب بن سکتی ہے یابہت طویل قیام کر رہا تھا یا اس کی آواز بہت زیادہ بلند تھی، اس طرح وہ اعتدال اور میانہ روی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم کسی شخص پر ریاکاری کا الزام نہیں لگا سکتے، دونوں آدمی بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے بارے میں ریاکاری کے شبہ کا اظہار کر دیا، جبکہ دوسرے کے بارے میں کلمۂ خیر کہا۔ ہاں لوگوں کو غلوّ اور افراط سے بچنے کی اور اعتدال کے ساتھ عبادت کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔
اگرچہ آج کل تبصرے کا دور ہے، بری تو بری، دوسروں کی اچھی خصلتوں پر بھی ناقدانہ تبصرہ کیا جاتا ہے یا اچھے شخص کی کمی کوتاہیوں کو ہوا دے کر تبصرہ نگار بزعم خود اپنے آپ کو انسانِ کامل خیال کرتا ہے۔ ایک مسجد کی انتظامیہ کا ایک فرد مسجد کے خادم پر اس بنا پر تبصرہ کر رہا تھا کہ وہ فجر کی اذان بغیر وضو کے دے دیتاہے، میں نے اس سے پوچھا کہ آپ خود نمازِ فجر ادا کرتے ہیں؟ جناب نے منفی میں جواب دیا۔ ہائے خرابی! نماز سے محروم شخص اس بندۂ خدا پر نقد کر رہا ہے، جو فجر کی اذان دیتا ہے اور لوگوں کو باجماعت نمازِ فجر پڑھاتا ہے۔ جرم ہے بغیر وضو کے اذان دینا، جو شریعت میں سرے سے غلطی ہی نہیں ہے، اگرچہ افضل عمل یہی ہے کہ طہارت کا اہتمام کیا جائے۔
قارئین کرام! التماس یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں نیکی کے آثار پائے جاتے ہیں تو ان کو قبول کرنا چاہیے اور اس بنا پر اس کی قدر کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْكِبْرِ والخيلاء
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ) ) فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا وَرَأْسِي دَهِينًا وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (لَا ذَاكَ الْجَمَالُ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9717]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 10533، والحاكم: 1/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3789»
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9718
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا) ) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو تو جنت اس کے لیے اس قدر بھی حلال نہیں ہو گی کہ وہ اس کی خوشبو پا سکے یا اس کو دیکھ سکے۔ قریش کے ابو ریحانہ نامی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں تو حسن و جمال کو پسند کرتا ہوں، …۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9718]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17504»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9719
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ الْجَنَّةَ) ) فَقَالَ قَائِلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِحَبْلَيْ سَوْطِي وَشِسْعِ نَعْلِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفَهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ) ) يَعْنِي بِالْحَبْلَيْنِ سَيْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی۔ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اپنے کوڑے کے دھاگے یا چمڑے اور اپنے جوتے کے تسمے کے ساتھ جمال حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظرِ حقارت دیکھا جائے۔ حَبْلَان سے مراد کوڑے کا چمڑا یا دھاگہ ہے اور جوتے کا تسمہ ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9719]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: بعينيه، وھذا اسناد ضعيف، لجھالة عبد الرحمن بن حوشب، وجھالة ثوبان ابن شھر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17339»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: بعينيه