الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ خِصَالٍ مِنْ كِبْرِيَاتِ الْمَعَاصِي مُجْتَمِعَةٍ وَوَعِيدِ فَاعِلِهَا
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
حدیث نمبر: 9670
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ( (هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا فَإِنْ كَانَ أَحَدٌ رَأَى تِلْكَ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَيْهِ فَيَقُولُ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ) ) فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ ( (هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا) ) فَقُلْنَا لَا قَالَ ( (لَكِنْ أَنَا رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ فَضَاءٍ أَوْ أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ فَمَرَّا بِي عَلَى رَجُلٍ) ) فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ ( (فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَإِذَا بَيْتٌ مَبْنِيٌّ عَلَى بِنَاءِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يُوقَدُ تَحْتَهُ نَارٌ فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ فَإِذَا أُوقِدَتِ ارْتَفَعُوا حَتَّى يَكَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا) ) وَفِيهِ ( (فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا نَهَرٌ مِنْ دَمٍّ فِيهِ رَجُلٌ وَعَلَى شَطِّ النَّهْرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهْرِ فَإِذَا دَنَا لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ حَجَرًا فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ) ) وَفِيهِ ( (فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ فَإِذَا فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَإِذَا شَيْخٌ فِي أَصْلِهَا حَوْلَهُ صِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ دَارًا أَحْسَنَ مِنْهَا فَإِذَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَفِيهَا نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ فَأَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ مِنْهَا فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ) ) وَفِيهِ ( (وَأَمَّا الدَّارُ الَّتِي دَخَلْتَ أَوَّلًا فَدَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا الدَّارُ الْأُخْرَى فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ ثُمَّ قَالَا لِي ارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَةِ السَّحَابِ فَقَالَا لِي وَتِلْكَ دَارُكَ فَقُلْتُ لَهُمَا دَعَانِي أَدْخُلْ دَارِي فَقَالَا إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَكَ عَمَلٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَهُ دَخَلْتَ دَارَكَ) )
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور اپنے چہرے کے ساتھ ہمارے طرف متوجہ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا، اس دن ہم نے کہا: جی ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے، دو آدمی میرے پاس آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک کھلی اور ہموار زمین کی طرف لے گئے، پھر مجھے ایک آدمی کے پاس سے گزارا، …۔ راوی نے سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: پس میں ان کے ساتھ چلا اور دیکھا کہ تنور کے ڈیزائن پر بنا ہوا ایک گھر تھا، اس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے والا حصہ کھلا تھا، اس کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی، اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھے، جب ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی تو وہ اتنے بلند ہوتے تھے کہ قریب ہوتا کہ وہ باہر نکل آئیں گے، لیکن جب وہ آگ بجھتی تو وہ نیچے پہنچ جاتے۔ مزید اس روایت میں ہے: پس میں چلا، خون کی ایک نہر تھی، اس میں ایک آدمی تھا اور نہر کے کنارے پر ایک شخص تھا اور اس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے، پس نہر والا آدمی جب متوجہ ہوتا اور نکلنے کے قریب ہو جاتا تو وہ آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا، جس کی وجہ سے وہ واپس اپنی جگہ پر لوٹ جاتا۔ مزید اس میں ہے: پس میں آگے چلا اور دیکھا کہ سرسبز باغ تھا، اس میں ایک بڑا درخت تھا، اس کے تنے کے پاس ایک بزرگ اور اس کے ارد گرد بچے تھے اور ان کے قریب ایک آدمی تھا، اس کے سامنے آگ تھی، وہ اس کو سلگا رہا تھا، وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا، وہ بہت خوبصورت گھر تھا، اس میںبزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے تھے، پھر انھوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور درخت پر چڑھا کر آگے لے گئے اور ایک ایسے گھر میں داخل کر دیا، جو پہلے گھر کی بہ نسبت زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا، اس میں بھی بزرگ اور بچے تھے۔ پھر مجھے کہا: جس گھر میں آپ پہلے داخل ہوئے، وہ عام مؤمنوں کا گھر تھا اور دوسرا شہداء کا گھر تھا اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: اپنے سر کو بلند کرو، پس میں نے اپنا سر بلند کیا، بادلوں کی طرح کی چیز نظر آئی، پھر انھوں نے مجھے کہا: اور وہ آپ کا گھر ہے، میں نے ان سے کہا: تو پھر مجھے چھوڑو، تاکہ میں اپنے گھر میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: جی ابھی تک آپ کے ذمے کچھ عمل باقی ہیں، آپ نے ان کو پورا نہیں کیا، اگر آپ ان کو پورا کر چکے ہوتے تو اپنے گھر میں داخل ہو جاتے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9670]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20427»
وضاحت: فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محرمات سے بچے اور کثرت سے استغفار کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9671
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ لَهَا بَابٌ وَلَا كُوَّةٌ لَخَرَجَ عَمَلُهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ایسی سخت چٹان میں عمل کرے، جس کا دروازہ ہو نہ روشندان، تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کے لیے نکل آئے، وہ جس قسم کا بھی ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9671]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دراج بن سمعان ضعيف في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1378، وابن حبان: 5678، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11230/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11248»
وضاحت: فوائد: … مشاہدہ یہی ہے کہ کسی بندے کا نیک عمل مخفی نہیں رہتا، وہ عامل کی زندگی میں لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے، یا اس کی وفات کے بعد، جب نیک شخصیات کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لوگوں کو اس کی برائیوں کا علم نہ ہو سکے۔
دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9672
عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَيِّنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ
۔ علی بن خالد کہتے ہیں کہ ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ، خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے گزرے، اس نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہوئے انتہائی نرم کلمے کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر کوئی جنت میں داخل ہو گا، ما سوائے اس کے جس نے اللہ تعالیٰ پر اس طرح بغاوت کی، جس طرح اونٹ اپنے مالک پر بدک جاتاہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9672]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الاوسط: 3173، والحاكم: 1/55، والحاكم: 4/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22579»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات کو ترک کرنا اور محرمات وممنوعات کا ارتکاب کرنابغاوت اور سرکشی کہلاتاہے۔ جو اونٹ جس مالک کا کھاتا ہے اگر اسی کے سامنے بدکنا شروع کر دے تو اس کا کیا علاج کیا جاتا ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔ جو بچہ اپنے غیرت مند اور خیرخواہ باپ کے منصوبوں پر کراس لگاتا ہے، اسے کون سا انجام بھگتنا پڑتا ہے، ہر ایک کے لیے واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھییہی ہے کہ جو بھی اس کے قوانین سے پہلو تہی اختیار کرے گا، اسے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی، لیکن جب سزا کا وقت آئے گا تو اس وقت کا پچھتاوا، اس وقت کاافسوس اور اس وقت کی حسرت کچھ کام نہ آئے گی۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فانما المؤمن کالجمل الانف، حیثما قید انقاد۔)) (ابن ماجہ) … مومن کی مثال تو نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہے، کہ جب اس کی نکیلیا لگام کو پکڑ کر اس کے آگے آگے چلا جاتا ہے تو وہ مطیع ہو کر پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فانما المؤمن کالجمل الانف، حیثما قید انقاد۔)) (ابن ماجہ) … مومن کی مثال تو نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہے، کہ جب اس کی نکیلیا لگام کو پکڑ کر اس کے آگے آگے چلا جاتا ہے تو وہ مطیع ہو کر پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9673
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ قِيلَ وَمَنِ الشَّقِيُّ قَالَ الَّذِي لَا يَعْمَلُ بِطَاعَةٍ وَلَا يَتْرُكُ لِلَّهِ مَعْصِيَةً
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدبخت جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ کسی نے کہا: بدبخت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نہ کوئی اطاعت کا کام کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نافرمانی کو ترک کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9673]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ابن لھيعة، أخرجه ابن ماجه: 4298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8594 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8578»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9674
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْرِقُ حَيْنَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَزْنِي حَيْنَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حَيْنَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَغُلُّ حَيْنَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ حَيْنَ يَنْتَهِبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَقَالَ عَطَاءٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ قَالَ بَهْزٌ فَقِيلَ لَهُ قَالَ إِنَّهُ يُنْتَزَعُ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تووہ مؤمن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا اور لوٹ مارکرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ عطاء راوی کے الفاظ یہ ہیں: جو لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے، وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ جب بہز راوی سے اس حدیث کا مفہوم پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9674]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مختصرا البخاري: 2475، 6772، ومسلم: 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8995»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث زانی، شرابی، چور اور ڈاکو کے حق میں سخت وعید پر مشتمل ہے، مسلمانوں کو ایسے جرائم سے گریز کرنا چاہیے، جن کی بنا پر ایمان کی نفی کر دی جاتی ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مجرم کامل ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، جیسا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا زَنٰی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ اْلإِیْمَانُ وَکَانَ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْھَا رَجَعَ إِلَیْہِ اْلإِیْمَانُ۔)) (ابوداود: ۴۶۹۰، صحیحہ:۵۰۹) … جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان (کا نور) نکل جاتا اوراس کے اوپر سائبان کی طرح (منتظر) رہتا ہے، جب وہ باز آ جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اہل السنۃ نے اس حدیث کییہ تاویل کی ہے کہ ایسا آدمی مکمل ایمان والا نہیں رہتا، اس کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، یعنی زانی، شرابی، چور اور ڈاکو مکمل ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ یہ حدیث احناف کے مخالف حجت ہے، جو سلف صالحین کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر مصرّ ہیں کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ ان کے نزدیک ایمان کا ایک مرتبہ ہے، وہ ناقص ایمان کا تصور نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب الزاہد الکوثری حنفی نے اس حدیث کو ردّ کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔
ابن بطال نے کہا: اہل السنہ نے اس حدیث میں ایمان کی نفی کو کامل ایمان کی نفی پر محمول کیا ہے، کیونکہ نافرمان مومن کے ایمان کی حالت نافرمانیاں نہ کرنے والے مومن سے کم تر ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: محقق علمائے کرام کا خیالیہ ہے کہ جو آدمی ان برائیوں کا ارتکاب کرے گا، وہ کامل الایمان نہیں رہے گا۔ اس حدیث میں نفی کے سیاق میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے مراد سرے سے ایمان کی نفی نہیں، بلکہ کمالِ ایمان کی نفی ہے۔ یہی رائے راجح ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ملا علی قاری حنفی نے (المرقاۃ: ۱/۱۰۵) میں اس حدیث کی وہی تفسیر بیان کی، جو ابن بطال اور امام نووی نے کی ہے، انھوں نے کہا: ہمارے اصحاب نے بھی اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کامل مومن مراد لیا ہے۔
پھریہ بھی کہہ دیا: لیکن ایمان کا اطلاق تصدیق پر ہوتا ہے اور اعمال اس سے خارج ہیں۔ ملاعلی قاری کا یہ آخری فیصلہ، سابقہ تاویلوں کے مخالف ہے۔ آپ خود سوچ لیں۔ (صحیحہ: ۳۰۰۰)
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مجرم کامل ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، جیسا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا زَنٰی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ اْلإِیْمَانُ وَکَانَ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْھَا رَجَعَ إِلَیْہِ اْلإِیْمَانُ۔)) (ابوداود: ۴۶۹۰، صحیحہ:۵۰۹) … جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان (کا نور) نکل جاتا اوراس کے اوپر سائبان کی طرح (منتظر) رہتا ہے، جب وہ باز آ جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اہل السنۃ نے اس حدیث کییہ تاویل کی ہے کہ ایسا آدمی مکمل ایمان والا نہیں رہتا، اس کے ایمان میں نقص آ جاتا ہے، یعنی زانی، شرابی، چور اور ڈاکو مکمل ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ یہ حدیث احناف کے مخالف حجت ہے، جو سلف صالحین کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر مصرّ ہیں کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔ ان کے نزدیک ایمان کا ایک مرتبہ ہے، وہ ناقص ایمان کا تصور نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب الزاہد الکوثری حنفی نے اس حدیث کو ردّ کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔
ابن بطال نے کہا: اہل السنہ نے اس حدیث میں ایمان کی نفی کو کامل ایمان کی نفی پر محمول کیا ہے، کیونکہ نافرمان مومن کے ایمان کی حالت نافرمانیاں نہ کرنے والے مومن سے کم تر ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: محقق علمائے کرام کا خیالیہ ہے کہ جو آدمی ان برائیوں کا ارتکاب کرے گا، وہ کامل الایمان نہیں رہے گا۔ اس حدیث میں نفی کے سیاق میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے مراد سرے سے ایمان کی نفی نہیں، بلکہ کمالِ ایمان کی نفی ہے۔ یہی رائے راجح ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ملا علی قاری حنفی نے (المرقاۃ: ۱/۱۰۵) میں اس حدیث کی وہی تفسیر بیان کی، جو ابن بطال اور امام نووی نے کی ہے، انھوں نے کہا: ہمارے اصحاب نے بھی اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کامل مومن مراد لیا ہے۔
پھریہ بھی کہہ دیا: لیکن ایمان کا اطلاق تصدیق پر ہوتا ہے اور اعمال اس سے خارج ہیں۔ ملاعلی قاری کا یہ آخری فیصلہ، سابقہ تاویلوں کے مخالف ہے۔ آپ خود سوچ لیں۔ (صحیحہ: ۳۰۰۰)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9675
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیایا ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ پھر فرمایا: وہ جھوٹی بات ہے۔ یا فرمایا: وہ جھوٹی گواہی ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: زیادہ گمان یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹی گواہی کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9675]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5977، ومسلم: 88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12361»
وضاحت: فوائد: … کبیرہ گناہ: ہر وہ گناہ جس کو شریعت میں کبیرہ قرار دیا گیا ہو، یا جس پر اللہ تعالیٰ نے آخرت میں عذاب، غضب اور لعنت کی دھمکی دی ہو، یا جس پر دنیا میں حد لاگو ہوتی ہو، یا جس سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہو یا جس کے مرتکب کو فاسق قرار دیا گیا ہو۔
اصل بات پہلی ہے کہ کتاب و سنت میں جس جس گناہ کو کبیرہ کہا گیا ہے وہ کبیرہ ہے باقی گناہوں کے بارے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کبیرہ ہے یا صغیرہ۔ کیونکہیہ خالصۃً دینی معاملہ ہے جس کے بارے قیاس و رائے سے بات کرنی مناسب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
اصل بات پہلی ہے کہ کتاب و سنت میں جس جس گناہ کو کبیرہ کہا گیا ہے وہ کبیرہ ہے باقی گناہوں کے بارے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کبیرہ ہے یا صغیرہ۔ کیونکہیہ خالصۃً دینی معاملہ ہے جس کے بارے قیاس و رائے سے بات کرنی مناسب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9676
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ راوی کہتا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمانے لگ گئے: اور جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی،یا فرمایا: جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9676]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6919، ومسلم: 87، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20656»
وضاحت: فوائد: … جھوٹی گواہی کی مذمت، قباحت اور حرمت میں تاکید پیدا کرنے کے لیے اس کا بار بار ذکر کیا گیا، جھوٹی گواہی خود بھی ایک جرم ہے اور کئی جرائم کا سبب بنتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9677
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللَّهِ يَمِينًا صَبْرًا فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم سب سے بڑے گناہوں میں سے ہیں، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھائی اور مچھر کے پر کے برابر اس میں (جھوٹ) داخل کیا، مگر اللہ تعالیٰ اس برائی کو قیامت کے دن تک اس کے دل پر نکتہ بنا دے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9677]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: وما حلف حالف بالله يمينا وھذا اسناد ضعيف، هشام بن سعد ضعّفه يحييٰ القطان و احمد وابن معين والنسائي و ابن سعد وابن حبان وغيرھم أخرجه الترمذي: 3020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16139»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کا عظیم نام لے کر جھوٹی قسم اٹھانے والا اپنے مذموم مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9678
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، نماز قائم کی، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ پھر لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان جان کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن فرار اختیار کرنا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9678]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بمجموع طرقه، أخرجه النسائي: 7/88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23898»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9679
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، جبکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی اہلیہ سے زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نازل فرما دی: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئییہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ (سورۂ فرقان: ۶۸) [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9679]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4761، 6811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4102»
وضاحت: فوائد: … زنا کبیرہ گناہ اور بے غیرتی تو ہے ہی سہی، لیکن جب یہی فعل زیادہ حرمت والی سے کیا جائے گا تو اس کی قباحت و شناعت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسے ہمسائے کی بیوی۔ ایک ہمسائے کو دوسرے ہمسائے پر حسن ظن ہوتا ہے، اس بنا پر وہ اس کو اپنی عزتوں کا محافظ سمجھتا ہے اور ہمسائیوں کے حقوق بھی زیادہ ہیں، لیکنیہ برا فعل کرنے والے بدبخت نے کسی چیز کا لحاظ نہیں رکھا۔
الحكم على الحديث: صحیح