الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. أمورٌ شَتَّى تَعَلَّقُ بِالقِتَالِ وَالمُقَائِلِينَ وَشُهَدَاءِ أحُدٍ
جنگ، اس کے مقاتلین اور شہداء احد سے متعلقہ مختلف امور کابیان
حدیث نمبر: 10736
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ فَأَخَذَهُ قَوْمٌ فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَّاكٌ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ فَفَلَقَ هَامَ الْمُشْرِكِينَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا: اس تلوار کو کون لے گا؟ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق بھی ادا کرے۔ تو لوگ پیچھے ہٹ گئے، سیدنا ابو دجانہ سماک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اسے لے کر اس کا حق ادا کر وں گا، چنانچہ انہوں نے مشرکین کی کھوپڑیاں اتارنا شروع کر دیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10736]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12260»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10737
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ
سائب بن یزید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن دو زرہیں اوپر نیچے پہنی ہوئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10737]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 2806، والترمذي في الشمائل: 104،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15813»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10738
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصَ الْجَبَلِ يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب شہدائے احد کا تذکرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اللہ کی قسم! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ مجھے بھی ان کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں دفن کر دیا جاتا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10738]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15089»
وضاحت: فوائد: … اس میں شہدائے احد کی بڑی عظمت و منقبت کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ہی دفن ہو جانے کی خواہش کر رہے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10739
وَعَنْهُ أَنَّ قَتْلَى أُحُدٍ حُمِلُوا مِنْ مَكَانِهِمْ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہدائے احد کو وہاں سے اُٹھا کر مدینہ منورہ کی طرف لایا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ ان مقتولین کو ان کی جگہ پریعنی میدان احد میں واپس لے آؤ۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10739]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 177، وابوداود: 3165، والنسائي: 4/ 79، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14216»
وضاحت: فوائد: … شہیدکے علاوہ دوسرے اموات کو دوسرے مقامات میں منتقل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس بارے میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے، جس کی روشنی میں یہ پابندی لگائی جا سکے، جبکہ اصل تو جواز ہی ہے، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما عقیق کے مقام پر فوت ہوئے تھے اور ان کو مدینہ منورہ لا کر دفن کیا گیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10740
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ فَقُلْنَ اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَادْفُنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب احد کے دن میرے والد شہید ہو گئے، تو میری بہنوں نے اونٹ دے کر مجھے بھیجا اور کہا کہ جاؤ اور ابا جان کی میت کو اس پر لاد کر لے آؤ اور انہیں بنو سلمہ کے قبرستان میں دفن کرو، میں اور میرے معاونین وہا ں پہنچے، لیکن جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے منصوبے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے مجھے بلوایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی وہیں احد کے مقام پر ہی تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسے اس کے باقی شہید بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا۔ پھر ایسے ہی ہوا کہ ان کو دیگر شہداء کے ساتھ ہی احد میں دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10740]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن سلمة بن ابييزيد وابوه مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15331»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10741
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَقَالَ ادْفُنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن شہداء کے بارے میں حکم دیا کہ ان کے اجساد سے لوہا اور چمڑے کا لباس الگ کر دیا جائے اور ان کو خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10741]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3134، وابن ماجه: 1515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2217»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۳۱۲۶)
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَقْتَل حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ قَتَلَهُ وَسَبَبٍ ذَلِكِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ اور ان کے قاتل اور قتل کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 10742
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ قَالَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ كَأَنَّهُ حَمِيتٌ قَالَ فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ عَلَيْنَا السَّلَامَ قَالَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلَّا عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَا وَحْشِيُّ أَتَعْرِفُنِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا أُمُّ قِتَالٍ ابْنَةُ أَبِي الْعِيصِ فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا بِمَكَّةَ فَاسْتَرْضَعَهُ فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلَامَ مَعَ أُمِّهِ فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَى قَدَمَيْكَ قَالَ فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَجْهَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيٍّ بِبَدْرٍ فَقَالَ لِي مَوْلَايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ يَوْمَ عَيْنَيْنَ قَالَ وَعَيْنَانِ جُبَيْلٌ تَحْتَ أُحُدٍ وَبَيْنَهُ وَادٍ خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ فَلَمَّا أَنِ اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ قَالَ خَرَجَ سِبَاعٌ مَنْ مُبَارِزٌ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ سِبَاعُ بْنُ أُمِّ أَنْمَارٍ يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ وَأَكْمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ حَتَّى إِذَا مَرَّ عَلَيَّ فَلَمَّا أَنْ دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ الْعَهْدُ بِهِ قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ قَالَ فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ حَتَّى فَشَا فِيهَا الْإِسْلَامُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ لَا يَهِيجُ لِلرُّسُلِ قَالَ فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ أَنْتَ وَحْشِيٌّ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ قَالَ قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا بَلَغَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذْ قَالَ مَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ عَنِّي وَجْهَكَ قَالَ فَرَجَعْتُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ قَالَ قُلْتُ لَأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ قَالَ فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا كَانَ قَالَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرٌ رَأْسُهُ قَالَ فَأَرْمِيهِ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ قَالَ وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ
جعفر بن عمرو ضمری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبید اللہ بن عدی بن خیار کی معیت میں شام کی طرف گیا، جب ہم حمص میں پہنچے تو عبید اللہ نے مجھ سے کہا: کیا تم سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی بن حرب کو دیکھنا چاہتے ہو؟ ہم اس سے سیّد نا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کے متعلق دریافت کریں گے۔ میں نے کہا: جی ہاں ان دنوں وحشی حمص میں مقیم تھا۔ ہم نے اس کے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ سامنے اپنے محل کے سایہ میں ہے، اس کا جسم ایک مشک کی طرح (موٹا) تھا، جعفر کہتے ہیں: ہم اس کے قریب جا کر رک گئے اور ہم نے اسے سلام کہا، اس نے ہمیں سلام کا جواب دیا۔اس وقت عبید اللہ اپنے عمامہ کو اچھی طرح لپیٹا ہوا تھا، وحشی کو ان کی آنکھیں اور پاؤں ہی نظر آئے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: وحشی! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ اس نے اس کی طرف دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! نہیں، البتہ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن الخیار نے ابو العیص کی دختر ام قتال سے شادی کی تھی، اس کے بطن سے مکہ میں اس کا ایک بیٹا پیدا ہوا تھا، میں اس بچے کے لیے کسی عورت کی تلاش میں تھا، جو اسے دودھ پلائے، میں نے اس بچے کو اس کی ماں کے ہمراہ اٹھایا تھا اور اسے پکڑ کر اس عورت کو تھمایا تھا، مجھے تمہارے قدم اس بچے کے سے لگتے ہیں، اس کے بعد عبیداللہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: کیا آپ ہمیں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ سنائیں گے؟ اس نے کہا: ہاں، حمزہ رضی اللہ عنہ نے بدر میں طعیمہ بن عدی کو قتل کیا تھا، میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم میرے چچا کے بدلے میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دو تو تم آزاد ہو گے۔ جب لوگ عینین کے دن جنگ کے لیے روانہ ہوئے، احد کے قریب ہی ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے، جس کا نام عینین ہے۔ ان دونوں کے درمیان صرف ایک وادی ہے،لوگ قتال کے لیے نکلے اور قتال کے لیے صف آراء ہو گئے تو سباع بن عبدالعزی خزاعی سامنے نکلا اور اس نے للکارا کہ ہے کوئی میرے مدمقابل؟ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں نکلے اور کہا کیا تو سباع بن ام انمار ہے؟ اے اس عورت کے بیٹے جو بچیوں کے فرج کے ساتھ بڑھے ہوئے چمڑے کا ٹا کرتی تھی! کیا تو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں آیا ہے؟ اور یہ کہتے ہی اس پر حملہ کر دیا۔ میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے ارادے سے ایک چٹان کے پیچھے گھات میں تھا، تاکہ جب وہ میرے پاس سے گزریں تو حملہ کر سکوں۔ جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے ان کے مثانے پر وار کیا، جوان کے جسم سے پار ہو گیا۔ یہی وار ان کی موت کا سبب بنا، لوگ جب جنگ سے واپس ہوئے تو میں بھی واپس گیا اور میں مکہ میں مقیم رہا تاآ نکہ وہاں بھی اسلام پھیل گیا، میں وہاں سے طائف کو نکل گیا، اہل طائف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنا ایک قاصد بھیجا، کہا گیا کہ آپ کسی کے قاصد کو کچھ نہیں کہتے، میں بھی لوگوں کے ہمراہ آپ کی خدمت میں جا پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: تم ہی وحشی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہی نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! وہی ہوا تھا جس کی اطلاع آپ تک پہنچ چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنے آپ کو مجھ سے دور نہیں رکھ سکتے؟ چنانچہ میں وہاں سے چلا آیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا اور مسیلمہ کذاب مدعی نبوت بن کر ظاہر ہوا تو میں نے سوچا کہ میں مسیلمہ کی طرف جا کر دیکھوں شاید میں اسے قتل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں اور اس طرح حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کی تلافی کر سکوں، چنانچہ میں لوگوں کے ہمراہ مسیلمہ کے مقابلے کو نکلا، پس جو ہونا تھا وہی ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ایک دیوار کے شگاف میں کھڑا تھا یوں لگتا تھا، جیسے وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہو، اس کے سر کے بال پراگندہ تھے، میں نے اپنا نیزہ اس پر پھینکا، جو اس کے پستانوں کے درمیان جا کر لگا، اور کندھوں کے درمیان سے پار ہو گیا، پھر ایک انصاری اس کی طرف لپکا اور اس کے سر پر تلوار چلائی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک گھر کی چھت پر سے ایک لڑکی نے کہا کہ ایک سیاہ فام غلام نے امیر المؤمنین مسیلمہ کو قتل کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة/حدیث: 10742]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16174»
الحكم على الحديث: صحیح