🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي انْتِقَالِهِ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رضي الله عنها لِيُمَرَّضَ فِيهِ وَاسْتِخْلافِهِ آبَا بَكْرِ لِلصَّلَاةِ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10984
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ قَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ“ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ ”صَوَاحِبَ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَالْتَفَتَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ فَقَالَتْ لَمْ أَكُنْ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دنوں میں فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں نے عرض کیا: ابوبکر تو رونے لگیں گے اور لوگوں تک ان کی آواز نہیں پہنچ پائے گی، کیا ہی بہتر ہو کہ آپ عمر کو حکم فرما دیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی نرم مزاج ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں تک ان کی آواز ہی پہنچ نہیں سکے گی، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ عمر کو یہ حکم دے دیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو یوسف علیہ السلام والی خواتین کی طرح لگ رہی ہو، میں کہہ رہا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا میری طرف متوجہ ہو کر بولیں: میں تمہاری طرف سے اچھائی نہیں پا سکتی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10984]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 679، 716، 7303، ومسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26182»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 679
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10985
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ: ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ“ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی نرم دل ہیں، وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھا ہی نہیں سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو ان عورتوں جیسی ہو جو یوسف علیہ السلام کو ورغلا رہی تھیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ہی میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10985]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 678، ومسلم: 420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19936»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 678
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10986
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ ”إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَالَتْ فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی نرم دل ہیں، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ عمر کو حکم فرمائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی رقیق القلب اور نرم دل ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے، اگر آپ عمر کو یہ حکم فرمائیں تو بہتر رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم تو ان عورتوں جیسی ہو جو یوسف علیہ السلام کو ورغلا رہی تھیں۔ چنانچہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں بہتری محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو آدمیوں کے آسرے سے مسجد کی طرف لے جایا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹتے جا رہے تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو وہ پیچھے کو ہٹنے لگے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ سے کہا کہ اپنی جگہ پر کھڑے رہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور باقی لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنے لگے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10986]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 664، ومسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26280»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 664
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10987
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَصَلَّى النَّاسُ؟“ قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ“ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ ”أَصَلَّى النَّاسُ؟“ قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ“ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَغُشِيَ عَلَيْهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَاتِ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ هَلْ سَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر عرض کیا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بیان فرمائیں گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، کیوں نہیں، تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیمار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے برتن میں پانی رکھو۔ ہم نے پانی رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا،لیکن جب اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ تو آپ کے منتظر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے برتن میں پانی رکھ دو۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا) بعدازاں جب اُٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی، جبکہ لوگ مسجد میں نماز عشاء کے لیے جمع تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ انتہائی رقیق القلب تھے، انہوں نے کہا: عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، لیکن انھوں نے کہا: آپ اس امر کے زیادہ حق دار ہیں۔ تو ان دنوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نمازیں پڑھاتے رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہتری محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے ظہر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف چلے، ان دو میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے،جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا احساس ہوا تو وہ پیچھے کو ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا کہ پیچھے نہ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے فرمایا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔ سیدنا ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر پڑھتے رہے۔ میں (عبیداللہ بن عبداللہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے عرض کیا: آیا میں آپ سے وہ واقعہ بیان نہ کروں،جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی بیان کرو، پھر انہوں نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ کیا انہوں نے اس دوسرے آدمی کا نام بھی بیان کیا جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انہوں نے کہا: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10987]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 687، ومسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5141»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 687
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10988
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ ”ادْعُوا لِي عَلِيًّا“ قَالَتْ عَائِشَةُ ”نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ“ قَالَ ”ادْعُوهُ“ قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ قَالَ ”ادْعُوهُ“ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ قَالَ ”ادْعُوهُ“ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا فَسَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِرٌ وَمَتَى مَا لَا يَرَاكَ النَّاسُ يَبْكُونَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا أَبَا بَكْرٍ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں بیمار ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو میرے پاس بلواؤ۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلا لو۔ اُدھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی بلا لو۔ سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی بلا لو۔ جب یہ لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اُٹھایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دکھائی نہ دئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اُٹھ جاؤ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:ابوبکر رضی اللہ عنہ تو انتہائی رقیق القلب اور رونے والے آدمی ہیں، لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، (اور ان کو دیکھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رو پڑیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے)، بہتر ہو گا کہ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمادیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ بہرحال پھر ہوا یوں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جا کر نماز پڑھا نا شروع کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ بہتری محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو آدمیوں کے درمیان سہارے کے ساتھ چلا کر لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹتے جا رہے تھے۔ لوگوں نے آپ کو تشریف لاتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو متوجہ کرنے کے لیے سبحان اللہ، سبحان اللہ کہنے لگے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے کو ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وہیں ٹھہرنے کا اشارہ فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داہنی جانب کھڑے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرتے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے قراءت شروع کی جہاں تک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچ چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی بیماری میں انتقال ہو گیا۔ وکیع راوی نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10988]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3355»
وضاحت: فوائد: … قراء ت کے مسئلہ کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۲۵۸۱)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10989
عَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا آسرا لے کر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سوتی کپڑا زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں پلوں کو آگے پیچھے ڈالا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر نماز پڑھائی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10989]
تخریج الحدیث: «اسناد حديث انس صحيح علي شرط مسلم، وحديث الحسن مرسل، أخرجه الطيالسي: 2140، وابن حبان: 2335، والترمذي في الشمائل: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13544»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ثَوْبُ قُطْن کے الفاظ ہیں، جبکہ مسند طیالسی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَصَلَّی بِالنَّاِس فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثَوْبٍ قِطْرِیٍّ (بحرین کے علاقے قِطْرٌ کی طرف نسبت ہے)۔ اوریہی الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناد حديث انس صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرٍ آخِرٍ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي النَّاسِ
لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10990
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ قَالَ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى صَعِدَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَقَالَ ”إِنِّي السَّاعَةَ لَقَائِمٌ عَلَى الْحَوْضِ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ فَلَمْ يَفْطَنْ لَهَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ“ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلَادِنَا قَالَ ثُمَّ هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَا رُئِيَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَوْ مَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَى بَابٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت کے دنوں میں ہمارے ہاں باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (گویا) میں اس وقت حوض(کوثر) پر کھڑا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی ہے، لیکن اس نے آخرت کا انتخاب کر لیا ہے۔ لوگوں میں سے ابوبکر کے سوا کوئی بھی اس بات کو نہ سمجھ سکا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بلکہ ہم سب کے اموال، جانیں اور اولادیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نثار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے اترے، اس کے بعد آخری دم تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومسجد میں نہیں دیکھا گیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں اپنی صحبت اور مال کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کے ہیں، اگر میں نے اپنے رب کے سوا لوگوں میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا، البتہ سب کے ساتھ اسلامی اخوت اور مودت ضرور ہے، مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10990]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3654، ومسلم: 2382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11885»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سمجھ آ گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بیماری میں وفات پانے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب وفات سے پانچ دن پہلے تھا، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3654
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10991
عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ ”إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا يَأْكُلُ مِنَ الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ“ قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ أَنْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا أَوْ بِآبَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ابن ابی المعلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا: ایک بندے کو اس کے رب نے اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ یا تو جب تک دنیا میں چاہے رہے اور یہاں سے جو چاہے کھائے یا اپنے رب سے ملاقات کرے، اس نے اپنے رب کی ملاقات کو اختیار کیا ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے، صحابۂ کرام نے کہا کہ اس بزرگ کو دیکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کسی نیک بندے کا ذکر کیا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے دنیایا رب کی ملاقات میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا اور اس نے اپنے رب کی ملاقات کا انتخاب کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو ابوبکر رضی اللہ عنہ اچھی طرح جان گئے تھے۔ انہوں نے کہا:ہم سب اپنے اموال، اور اولادوں یا (کہا، راوی کو شک ہے) باپوں سمیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نے اپنی صحبت اور اپنے مال کے ذریعے ابوبکر ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر مجھ پر احسان نہیں کیا، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابو قحافہ کے بیٹے کو خلیل بناتا، لیکن سب سے مودت، اخوت اور ایمان کا تعلق ہے اور بے شک میں اللہ تعالیٰ کا خلیل ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10991]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16018»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10992
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسِمَةٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10992]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 927، 3628، 3800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2074»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت اسی سند کے ساتھ طویل شکل میں بھی مروی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطاب مرض الموت کے دوران تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 927
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10993
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَتَزْعُمُونَ أَنِّي آخِرُكُمْ وَفَاةً أَلَا إِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يُهْلِكُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا“
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تم سب سے آخر میں فوت ہو ں گا؟ خبردار! میں تم میں پہلے وفات پانے والے لوگوں میں سے ہوں اور تم میرے بعد گروہ در گروہ فوت ہو کر آؤ گے اور تمہارا بعض بعض کو ہلاک بھی کرے گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10993]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابويعلي: 7488، والطبراني في المعجم الكبير: 22/ 167، وابن حبان: 6646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17103»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابويعلي: 7488
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں