الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ وَجْهِهِ وَشَعْرِهِ ﷺ
آپ کے چہرۂ انور اورگیسوئوں کا بیان
حدیث نمبر: 11140
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَهُ عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیانیعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11140]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابوداود: 4189،و ابن ماجه: 3633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26887»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11141
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11141]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 726، والبيھقي في دلائل النبوة: 1/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17636»
وضاحت: فوائد: … کتم: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ سرخ ہوتا ہے، اگر کتم اور مہندی کو ملایا جائے تو سیاہی اور سرخی کا درمیانہ رنگ نکلتا ہے، جس کو ہم (رضی اللہ عنہما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم r رحمتہ اللہ علیہ رضی اللہ عنہ rown)کہتے ہیں۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید وضاحت کے لیے اگلا باب ملاحظہ ہو۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید وضاحت کے لیے اگلا باب ملاحظہ ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11142
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مَرَّةً وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار مینڈھیاں تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11142]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4191، والترمذي: 1781، وابن ماجه: 3631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27428»
وضاحت: فوائد: … بچوں کے بال قابو میں رکھنے کے لیے تو ان کی مینڈھیاں بنا دینا عام تھا، اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ بڑے مرد بھی مینڈھیاں بنا سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي شَيْبِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کے سفید ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 11143
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَفِي الْعَنْفَقَةِ وَفِي الرَّأْسِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ شَيْئًا لَا يُكَادُ يُرَى وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11143]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13296»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۱۰)، اس حدیث والے باب اور اس سے اگلے باب میں مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11144
عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ كُنَّا غِلْمَانًا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ نَكُنْ نُحْسِنُ نَسْأَلُهُ فَقُلْتُ أَشَيْخًا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ
حریز بن عثمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بچے تھے اور صحابی ٔ رسول سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے تھے اور ہم ان سے اچھے انداز میں سوال و جواب نہیں کرسکتے تھے۔ میں نے عرض کیا: آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے کہا: بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داڑھی بچہ میں چند سفید بال تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11144]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17824»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11145
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي رَأْسِهِ شَعَرَاتٌ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ تَتَبَيَّنْ وَإِذَا لَمْ يَدْهَنْهُ تَتَبَيَّنُ
سماک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر میں چند سفید بال تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیل لگاتے تو وہ نمایاں نہ ہوتے تھے اور جب تیل نہ لگایا ہوتا تو وہ نظر آتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11145]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21092»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11146
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ شَعْرَةً
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیس کے قریب بال سفید تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11146]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه ابن ماجه: 3630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5633»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11147
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ ابْنٌ لِي فَقَالَ ”ابْنُكَ هَذَا؟“ قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ ”لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ“ قَالَ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ
سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، میرا بیٹا بھی میرے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیایہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں (کہ یہ واقعی میرا بیٹا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے جرم کا وبال دوسرے پر نہیں آتا۔ ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفید بالوں کو سرخ دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11147]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، والصواب في ھذه الرواية ان ابا رمثة كان مع ابيه لا مع ابنه، اخرجه الترمذي في الشمائل: 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7113»
وضاحت: فوائد: … باپ اور بیٹا، ان میں ہر ایک اپنے جرم کا ذمہ دار خود ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے گناہ کی وجہ سے دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11148
(وَعَنْهُ) قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رِدْعَ حِنَّاءٍ
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اپنے والدکے ہمراہ روانہ ہوا، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بالوں میں مہندی کا رنگ دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11148]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابوداود: 4206، 4495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7104»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11149
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم بوٹی سے رنگے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11149]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27249»
الحكم على الحديث: صحیح