الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِهِ الْعَظِيمِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وأتم التَّسْلِيمِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 11180
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ أَوْ ضَيَّعْتُهُ فَلَامَنِي فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ دَعُوهُ فَلَوْ قُدِّرَ أَوْ قَالَ لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی۔ (ایک روایت میں نو سال کا ذکر ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم بھی دیا اور پھر مجھ سے اس بارے میں کوتاہی ہو گئییا نقصان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ملامت نہیں کی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں سے کسی نے بھی مجھے برابھلا کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اسے چھوڑ دو،اگر ایسا ہونا مقدر میں ہے تو وہ ہو کر رہے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11180]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13451»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہو جانے والے نقصان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقدیر کی طرف منسوب کر کے بچے کو تسلی دے دیتے۔
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی جان کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیساسلوک ہے۔
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی جان کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیساسلوک ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11181
عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا فَحَّاشًا كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمُعَاتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والے، لعنت کرنے والے اور فحش گو نہیں تھے، جب کسی کو ڈانٹنا ہوتا تو صرف اتنا کہتے کہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11181]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6031، 6046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12636»
وضاحت: فوائد: … اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ اس کلمہ سے مراد بد دعا نہیں ہے، بلکہ اگلے بندے کو متنبہ کرنا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11182
قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: او دو کانوں والے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11182]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 5002، والترمذي: 1992، 3828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13578»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے کان چھوٹے یا بڑے ہوں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاص صفت کی بنا پر ان کو اس صف سے پکارا ہو، اس اعتبار سے یہ ہلکا سا مذاق ہو گا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات زیادہ توجہ سے سنتے ہوں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں تعریفی کلمات کہے ہوں اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اس بات پر متنبہ کرنا چاہتے ہوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سننے کے لیے تیار رہا کریں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11183
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جب سے مسلمان ہوا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس آنے سے مجھے کبھی نہیں روکا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی مجھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11183]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3035، 6089،ومسلم: 2475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19387»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11184
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمًا مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا يُؤْتَى إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَمَنَعَهُ إِلَّا أَنْ يُسْأَلَ مَأْثَمًا فَإِنَّهُ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا وَكَانَ إِذَا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُدَارِسُهُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کسی مسلمان کا نام لے کر اس پر لعنت نہیں کی، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ کی گئی بدسلوکی کا انتقام لیا، الایہ کی اللہ تعالیٰ کی حدود پامال ہوتی ہوں،نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ کا مسئلہ ہو، آپ سے جب بھی کوئی چیز طلب کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی اس کا انکار نہیں کیا، الایہ کی وہ بات گناہ والی ہوتی، اگر گناہ والی بات ہوتی تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے اور جب بھی آپ کو دوباتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے اس صورت کا انتخاب کرتے، جو ان میں سے آسان تر ہوتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کرکے فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑی ہوئی ہو اسے بھی زیادہ سخی ہوتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11184]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف بھذه السياقة، حماد بن زيد شك في ھذا الاسناد، والنعمان بن راشد ضعيف سييء الحفظ، أخرجه النسائي: 4/125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25499»
الحكم على الحديث: ضعیف
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 11185
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کرکہا: اے ہمارے سردار! اور اے ہمارے سردار کے فرزند! اے وہ ذات جو ہم میں سب سے بہتر ہے اور ہم میں سے سب سے افضل کی اولاد ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: لوگو! تم معروف بات ہی کر لیا کرو اور ہر گز شیطان تمہیں غلو میں مبتلا نہ کردے، میں محمد بن عبداللہ اور اللہ کا رسول ہوں، اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو مقام دیا ہے، تم مجھے اس سے اوپر لے جاؤ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11185]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن حبان: 6240، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13563»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے معروف بات یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، جیسا کہ خطبے، تشہد اور کلمۂ شہادت میں اس چیز کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
تواضع کا مطلب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی وانکساری، نرمی و رحمدلی اور محبت و الفت سے پیش آنا، حسب و نسب یا مال و دولت کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کرنا۔وجہ یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقام و مرتبہ، مال و دولت حسب و نسب جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، تو اس کو اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ ان انعامات کے حصول میں اس کی صلاحتیں کارفرما نہیں ہیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اس کے لیے مضرّ ثابت ہو اس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بنظر حقارت دیکھےیا ان پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفعت و منزلت اور عظمت و مرتبت کے انتہائی اعلی مراتب پر فائز تھے، کسی امتی کا آپ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: {وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۂ شعرائ: ۲۱۵) … (اے محمد!) اپنے پیروکار مومنوں سے نرمی سے پیش آؤ۔
تواضع کا مطلب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی وانکساری، نرمی و رحمدلی اور محبت و الفت سے پیش آنا، حسب و نسب یا مال و دولت کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کرنا۔وجہ یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقام و مرتبہ، مال و دولت حسب و نسب جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، تو اس کو اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ ان انعامات کے حصول میں اس کی صلاحتیں کارفرما نہیں ہیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اس کے لیے مضرّ ثابت ہو اس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بنظر حقارت دیکھےیا ان پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفعت و منزلت اور عظمت و مرتبت کے انتہائی اعلی مراتب پر فائز تھے، کسی امتی کا آپ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: {وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۂ شعرائ: ۲۱۵) … (اے محمد!) اپنے پیروکار مومنوں سے نرمی سے پیش آؤ۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11186
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میری مدح میں اس طرح غلو نہ کیا کرو، جس طرح نصاری نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا، میں تو محض اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11186]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2462، 3928، ومسلم: 1691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 154»
وضاحت: فوائد: … عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا، پھر ان کی پوجا پاٹ بھی شروع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کی اس روش کو دیکھ کر یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو مقام عطا کیا ہے، اس سے آگے نہ بڑھا جائے۔
رسالت اور بندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے اوصاف ہیں۔
رسالت اور بندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے اوصاف ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11187
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ فَقَالَ جِبْرِيلُ إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ فَلَمَّا نَزَلَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ قَالَ أَفَمَلِكًا نَبِيًّا يَجْعَلُكَ أَوْ عَبْدًا رَسُولًا قَالَ جِبْرِيلُ تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ بَلْ عَبْدًا رَسُولًا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھے, انہوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی، پس اچانک اوپر سے ایک فرشتہ نیچے اتر رہا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا: یہ فرشتہ جب سے پیدا ہوا، تب سے اب تک یہ کبھی زمین پر نہیں آیا، جب وہ آیا تو اس نے کہا: اے محمد! آپ کے رب نے مجھے اس پیغام کے ساتھ آپ کی طرف بھیجا ہے کہ وہ آپ کو بادشاہ بنائے یا بندہ اور رسول؟ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب کے لیے تواضع اختیار کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ رسول بننا چاہتا ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11187]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الطبراني في الكبير: 10686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7160»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11188
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ فِي حَاجَتِهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا سقدر متواضع تھے کہ) مدینہ کی ایک لونڈی آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کسی کام کے لیے لے جاتی (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بلا پس و پیش اس کے ہم راہ تشریف لے جاتے)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11188]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه تعليقا البخاري: 6071، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11963»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! یہ بشریت کے سردار کی تواضع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لونڈی کا کام کرنے کے لیے اس کے ساتھ چل پڑتے تھے، آج ہم کسی کا کام کرنے سے قبل اپنے تعلق کا سہارا لیتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11189
قَالَ إِنَّ امْرَأَةً لَقِيَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ أَجْلِسْ إِلَيْكِ قَالَ فَقَعَدَتْ فَقَعَدَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ کے ایک راستہ میں ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں! تم مدینہ کی جس گلییا راستے میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں بھی تمہارے پاس بیٹھ جاؤں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیٹھ گئی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس کے پاس بیٹھ گئے، یہاں تک کہ اس کی ضرورت کو پورا کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11189]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12221»
الحكم على الحديث: صحیح